نواز لیگ اور جے یو آئی نے پی ڈی ایم اتحاد توڑنے کا فیصلہ کرلیا

مسلم لیگ نواز اور جمعیت علماء اسلام سمیت پانچ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے سینیٹ میں پیپلز پارٹی سے علیحدہ 27 اپوزیشن سینیٹرز کا الگ بلاک بنانے کے فیصلے کو پاکستان ڈیموکریٹک الائنس کو باقاعدہ طور پر توڑنا کا اعلان قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ سینیٹ میں نواز لیگ کے پارلیمانی پارٹی لیڈر اعظم نذیر تارڑ ایڈووکیٹ نے دو اپریل کو کو یہ اعلان کر دیا تھا کہ مسلم لیگ (ن)، جمعیت علمائے اسلام (ف)، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی، نیشنل پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل نے سینیٹ میں الگ اپوزیشن بلاک بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ اسلام آباد میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ میں شامل 5 جماعتوں کے سینیٹ میں رہنماؤں کے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کیا گیا۔ اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی سے وضاحت طلب کرنے کے لیے صدر پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمٰن سے رجوع کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم سربراہ سے کہا گیا ہے کہ وہ پی پی پی اور اے این پی کی قیادت سے وضاحت طلب کریں کہ یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ میں قائد حزب اختلاف بنوا کر پی ڈی ایم کے فیصلوں کی خلاف ورزی کیوں کی گئی؟
پیپلز پارٹی کی قیادت سے یہ بھی جواب طلبی کی جائے گی کہ انہوں نے گیلانی کے لیے بلوچستان عوامی پارٹی(باپ) سے ووٹ کیوں لیا اور حکومت سے اشتراک عمل کیوں کیا؟ نواز شریف کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ سینیٹ میں پی ڈی ایم کی 5 جماعتیں توقع کرتی ہیں کہ مولانا فضل الرحمٰن، پی پی پی اور اے این پی سے باضابطہ وضاحت مانگیں گے. یاد رہے کہ بلاول بھٹو نے نواز لیگ کی جانب سے اعظم نذیر تارڑ کو سینیٹ میں قائد حزب اختلاف بنانے کی اس بنیاد پر مخالفت کی تھی کہ وہ بے نظیر بھٹو کے قتل میں ملوث ملزمان کی وکالت کرتے رہے ہیں۔ بلاول نے یہ موقع بھی لیا تھا کہ جس طرح قومی اسمبلی کی اکثریتی اپوزیشن جماعت ہونے کی بنیاد پر نواز لیگ کا وہاں پر اپوزیشن لیڈر ہے اسی طرح سینیٹ میں پیپلز پارٹی کی اکثریت ہے لہذا گیلانی کو اپوزیشن لیڈر بنایا گیا ہے۔
دوسری جانب نواز لیگ کا اصرار ہے کہ گیلانی کو سینیٹ چیئرمین کا امیدوار بناتے وقت یہ طے ہوگیا تھا کہ اب قائد حزب اختلاف کا عہدہ بھی لیگ کو ملے گا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مولانا کی زیر قیادت نواز لیگ اور پانچ دیگر اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے سینیٹ میں 27 ممبران پر مشتمل علیحدہ بلاک بنانے کا مطلب پیپلزپارٹی کے خلاف اعلان جنگ ہے تاکہ اسے پی ڈی ایم اتحاد سے باہر کیا جا سکے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے مسلم لیگ (ن) اور جمعیت علمائے اسلام نے سینیٹ میں یوسف رضا گیلانی کو اپوزیشن لیڈر ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ پی ڈی ایم کے سیکریٹری جنرل و (ن) لیگ کے سینیئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی نے جے یو آئی (ف) کے سیکریٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری سے ملاقات کی تھی جس میں سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کی نامزدگی کے بعد کے حالات پر مشاورت کی گئی اور دونوں رہنماؤں نے یوسف رضا گیلانی کو قائد حزب اختلاف نہ ماننے پر اتفاق کیا۔ نواز لیگ کی اس حرکت کا جواب دیتے ہوئے پیپلزپارٹی کی جانب سے سینیٹر نوید قمر نے اعلان کیا تھا کہ نون لیگ والے یوسف رضا گیلانی کو قائد حزب اختلاف نہیں مانتے تو پھر ہم بھی قومی اسمبلی میں شہباز شریف کو قائد حزب اختلاف نہیں مانیں گے۔ مختصر یہ کہ کپتان حکومت کے خاتمے کا بنیادی ایجنڈا لے کر چلنے والا پی ڈی ایم اتحاد اب خود ختم ہونے جارہا ہے جس کا سب سے زیادہ نقصان پیپلزپارٹی اور نوازلیگ کو ہی ہوگا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اپوزیشن اتحاد ٹوٹا تو ملک میں حقیقی جمہوریت کی بحالی اور اسٹیبلشمنٹ کی حاکمیت کے خاتمے کی عوامی امیدیں مکمل طور پر دم توڑ جائیں گی۔ لہٰذا اس وقت سب سے بڑا چیلنج پی ڈی ایم کو زندہ رکھنا اور اپوزیشن کی سیاسی طاقت کو برقرار رکھنا ہے۔
ماضی قریب میں قربتوں کے بعد اب اچانک پیپلز پارٹی اورمسلم لیگ نون میں بداعتمادی کے سائے بڑھ رہے ہیں۔ دوسری جانب پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے لیے بھی اس وقت سب سے بڑا چیلنج پیپلزپارٹی کو پی ڈی ایم میں رکھنے یا نہ رکھنے کا ہے۔ اس وقت پی ڈی ایم کے پاس دو ہی سیاسی حکمت عملیاں ہیں۔ اول یہ کہ وہ تمام تر سیاسی بگاڑ کے باوجود پیپلز پارٹی کو ساتھ لے کر چلے۔ ایسی صورت میں پی ڈی ایم کو یقینی طور پر پیپلز پارٹی کے مفاہمتی ایجنڈے پر سمجھوتہ کرنا پڑے گا۔
دوئم پی ڈی کی جماعتیں پیپلز پارٹی کو مائنس کر کے پی ڈی ایم کے اتحاد کو برقرار رکھیں اور حکومت مخالف تحریک آگے لیکر بڑھیں۔ لیکن سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کو اتحاد سے باہر نکال کر پی ڈی ایم خود کو کتنا مضبوط رکھ سکے گی یہ خود ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ایسی صورت میں یقینی طور پر حزب اختلاف تقسیم ہوگی اور عمران حکومت کو دو کمزور حزب اختلاف کا سامنا ہوگا۔ اور یقیناً یہ دونوں خود کو حقیقی اور دوسرے کو اسٹیبلیشمنٹ کی بی ٹیم کا سیاسی طعنہ دے کر اپنی تقسیم کو اور زیادہ متنازعہ بنائیں گی۔
اسی دوران مولانا فضل الرحمن اور مسلم لیگ نون نے عندیہ دیا ہے کہ وہ عید کے بعد لانگ مارچ کریں گے اور اگر ان کو یہ مارچ پیپلزپارٹی کے بغیر بھی کرنا پڑے تو گریز نہیں کیا جائے گا۔ لیکن سیاسی تجزیہ کار سوال کرتے ہیں کہ کیا واقعی ایسا لانگ مارچ ممکن ہے جو حکومت کے خاتمہ کا سبب بن سکے اور تب تک جاری رہے جب تک حکومت گھر نہیں چلی جاتی۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ مسئلہ محض پیپلز پارٹی کا ہی نہیں بلکہ خود مسلم لیگ نون کے اندر کا بھی ہے۔ دراصل نواز لیگ میں شہباز شریف کے مفاہمتی دھڑے کی بھی وہی سوچ یے جو کہ اس وقت پیپلزپارٹی کی لگتی ہے۔ شہباز کا دھڑا بھی مزاحمت کے مقابلے میں مفاہمت کے سیاسی کارڈ کی بنیاد پر آگے بڑھنا چاہتا ہے اور وہ بھی لانگ مارچ کی بنیاد پر ٹکراو کی سیاست کا حامی نہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ان حالات میں اگر اگلے کچھ عرصہ میں ہمیں مسلم لیگ نون کی سیاست میں مریم نواز کے مقابلے میں شہباز شریف یا حمزہ شہباز ذیادہ سرگرم نظر آتے ہیں تو پھر مولانا فضل الرحمن کو بھی مایوسی پیدا ہوگی کیونکہ وہ جس بڑی سیاسی مہم جوئی کا ایجنڈا رکھتے ہیں اس کی یقینی طور پر شہباز شریف یا حمزہ شہباز حمایت نہیں کریں گے۔ دوسری جانب شاہد خاقان عباسی اور رانا ثناء اللہ خان پچھلے چند روز میں اس بات کا اشارہ دے چکے ہیں کہ مریم نواز بھی علاج کی خاطر لندن جا سکتی ہیں۔ اگر کچھ ایسا ہوتا ہے تو مولانا فضل الرحمن کی صدارت تو بالکل ہی ڈوب جائے گی۔ لہذا تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کو بہت احتیاط سے اپنے کارڈز کھیلنا ہوں گے اور پیپلزپارٹی کو پی ڈی ایم سے باہر کرنے سے پہلے سو مرتبہ سوچنا ہوگا۔
