نواز شریف کے سیاسی عروج میں کن فوجی جرنیلوں کا ہاتھ تھا؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار جاوید چوہدری نے کہا ہے کہ تین مرتبہ وزیراعظم بننے والے نواز شریف کی ملکی سیاست میں آمد اور انکا عروج فوجی جرنیلوں کی حمایت کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ ان کے مطابق پاکستانی سیاسی تاریخ میں کچھ لمحات ایسے تھے جنہوں نے پورے سیاسی منظرنامے کی سمت ہی بدل کر رکھ دی۔
جاوید چوہدری نے اپنے سیاسی تجزیے میں نواز شریف کی سیاست میں داخل ہونے کی دلچسپ اور حیران کن کہانی بیان کی ہے، یہ کہانی نہ صرف سیاستدانوں بلکہ فوج اور سویلین بیوروکریسی کے کردار کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ جاوید بتاتے ہیں کہ لاہور کے لارنس گارڈن کرکٹ گراؤنڈ میں ایک معمولی کرکٹ میچ جاری تھا جب ایک نوجوان بیٹس مین کو ڈپٹی کمشنر لاہور کے ذریعے گورنر ہاؤس طلب کر لیا گیا، اس نوجوان کا نام نواز شریف تھا جسے تب کے گورنر پنجاب لیفٹیننٹ جنرل غلام جیلانی خان نے صوبے کا وزیر خزانہ مقرر کرنے کا اعلان کر دیا۔
اس واقعے نے نہ صرف نواز شریف کے کیریئر کی سمت بدل دی بلکہ پاکستان کے سیاسی منظرنامے پر بھی دیرپا اثرات ڈالنے کا آغاز کیا۔
جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ نواز شریف کے کھیل کے تجربے، مالی معاملات کی سمجھ بوجھ اور ان کی شخصی مہارتوں کو دیکھتے ہوئے اسے پنجاب کی مارشل لا سرکار کی جانب سے مختلف انتظامی ذمہ داریاں تفویض کی گئیں، ان میں پنجاب سپورٹس بورڈ کے چیئرمین کا عہدہ بھی شامل تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس سیاسی فیصلے کے پیچھے بریگیڈیئر عبدالقیوم اور جنرل غلام جیلانی کا کردار نمایاں تھا۔ بریگیڈیئر قیوم ریٹائرمنٹ کے بعد مختلف ملکوں میں سفیر رہ چکے تھے، انہوں نے نواز شریف کی سفارش کی تھی اور جنرل غلام جیلانی نے بطور گورنر پنجاب سفارش کو عملی شکل دی۔
جاوید چوہدری کے مطابق یہ واقعہ 1980ء کے آغاز میں ہوا، جب نواز شریف اپوزیشن کے نوجوان رہنما تھے۔ انکا کہنا ہے کہ نواز شریف کی سیاست میں انٹری اور انکی کامیابی کے پیچھے فوجی سہولت کاری کا واضح ہے۔ ان کے مطابق بریگیڈیئر عبدالقیوم نے جنرل یحییٰ خان کے دور میں 303 سینئر بیوروکریٹس کی فہرست تیار کی تھی تاکہ فوجی اور بیوروکریٹک ڈھانچے میں ایک مضبوط پیغام چھوڑا جا سکے۔ جنرل غلام جیلانی کے گورنر بننے کے بعد اسی نیٹ ورک نے نواز شریف کو سیاسی منظرنامے میں لانے میں اہم کردار ادا کیا۔
جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ یہ واقعہ نواز شریف کے ابتدائی سیاسی تجربے کا مظہر تھا، جہاں انہیں فوری فیصلوں، انتظامی معاملات اور عوامی ذمہ داریوں کے ساتھ روبرو کیا گیا۔ گورنر کی غیر متوقع سفارش اور فوری تعیناتیاں نواز شریف کے سیاسی کیریئر کی بنیاد بنی۔ نوجوان کھلاڑی کی مالی اور انتظامی سمجھ بوجھ نے گورنر کو متاثر کیا اور انہیں پنجاب کے اہم محکموں کی ذمہ داری سونپ دی گئی۔
مریم نے کس منہ سے عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ اپنی ذات پر لگایا؟
جاوید چوہدری واضح کرتے ہیں کہ پاکستان کے سیاسی نظام میں عسکری اور بیورو کریٹک اثر و رسوخ کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ ان کے مطابق بریگیڈیئر عبدالقیوم اور جنرل غلام جیلانی کی بھر پور سپورٹ نے نواز شریف کی سیاست میں انٹری اور پھر ان کی کامیابی کو ممکن بنایا، جو بعد میں ایک طویل اور نمایاں سیاسی سفر کی بنیاد بنی۔ یہ کہانی 1980ء کے پاکستان کے سیاسی اور فوجی تناظر میں وقوع پذیر ہوئی۔
جاوید چوہدری کے مطابق، اس واقعے سے یہ سبق ملتا ہے کہ پاکستانی سیاست میں فوج، بیوروکریسی اور سفارش کس طرح کسی مالدار نوجوان کو ملک کے اہم ترین عہدے تک پہنچا سکتی ہیں۔
