لوگ مجھے خدا خافظ کہہ رہے ہیں لیکن ہم کل جیتیں گے

لوگ مجھے خدا خافظ کہہ رہے ہیں لیکن ہم کل جیتیں گے
وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے ایسا لگ رہا ہے جیسے آپ لوگ مجھے خدا حافظ کر رہے ہیں جیسے ہم ہار رہے ہیں، مجھے تو فکر ہی نہیں کیونکہ ہم کل نہیں ہار رہے۔
ارکان پارلیمنٹ کے عزاز میں عشائیہ سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہناتھا جب تک آخری گیند نہیں پھینکا جاتا فیصلہ نہیں ہوسکتا، ذہن میں نہ ڈالیں کہ کل کیا فیصلہ ہوگا۔
انہوں نے کہا آپ کا کپتان ماہر ہے اور کوئی پتہ نہیں کل کیا کر جائے، لوگوں کو سازش کی سمجھ آنا شروع ہوگئی ہے، 35 سال سے چند لیڈر ملک کو لوٹ رہے، امریکا کا نام کھل کر لیتا ہوں۔
قبل ازیں عوام سے ٹیلی فون پر براہ راست "آپ کا وزیر اعظم آپ کے ساتھ ” کے عنوان سے نشر ہونیوالے پروگرام میں عمران خان نے نوجوانوں کو احتجاج کی کال دیتے ہوئے کہاکہ امریکہ نے اپوزیشن کے ساتھ مل کر سازش کی ، پاکستان فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے، اس وقت جو چپ بیٹھے گا وہ برائی کے ساتھ ہوگا ، آج ثابت ہوگیا کہ ملک میں بیرونی سازش ہو رہی ہے،میں چاہتا ہوں کہ سازش کیخلاف آپ سب احتجاج کریں اور اپنی آواز بلند کریں، احتجاج آپ کا حق ہے۔
انہوں نے کہا نوجوانوں کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ میں اس لیے نوجوانوں سے بات کرنا چاہ رہا ہوں کیونکہ اس وقت پاکستان ایک فیصلہ کن وقت پر کھڑا ہے، اس میں آپ کا مستقبل کہ کس طرح کا پاکستان بنے گا، ملک دو راستوں پر جاسکتا ہے، قوموں کی زندگیوں میں یہ فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ ہم نے ایک تباہی کے راستے پر جانا ہے یا اس راستے میں جانا ہے جو مشکل بھی ہوگا اور ہر قسم کی آزمائشیں بھی آئیں گی لیکن وہ ہماری عظمت کا راستہ ہے، آج پاکستان کی سیاست وہاں پہنچ گئی ہے کہ آج ساری قوم کو فیصلہ کرنا ہے کہ ملک کو کہاں لے کر جانا ہے، نوجوان اگر راہ حق میں جھوٹ کے خلاف کھڑے ہوں گے تو معاشرہ زندہ ہوتا ہے، جب وہ معاشرہ درمیان میں بیٹھ جاتا ہے کہ مجھے تو کچھ نہیں، میری زندگی کو کوئی فرق نہیں پڑتا اور غیرفعال ہو کر کچھ نہیں کرتا ہے تو دراصل وہ برائی کے ساتھ کھڑا ہوجاتا ہے، جب وہ اچھائی اور برائی کے درمیان نیوٹرل ہوتا ہے تو وہ برائی کا ساتھ دینا شروع ہوجاتا ہے اور وہ معاشرے کی تباہی ہوتی ہے، سیاست دانوں کی بکروں کی طرح نیلامی ہورہی ہے جو ملک کی قیادت ہے، ایک حکومت گرانے کے لیے ان کو خریدا جارہا ہے، باہر سے سازش شروع ہوئی، یہاں ذاتی مفادات کے لیے ان کے ساتھ مل کر سودا کرنے کے لیے۔
عمران خان نے کہا نوجوانوں کے لیے خاص طور پر کہ آپ کے پاس یہ نہیں ہے کہ آپ چپ کرکے بیٹھ جائیں، آپ کو فیصلہ کرنا ہے کہ اچھائی کدھر ہے اور برائی کدھر ہے، اگر آپ چپ کرکے بیٹھیں گے تو آپ برائی کا ساتھ دیں گے، میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ سب احتجاج کریں، آپ سب اپنی آواز بلند کریں، یہ جو سازش ہورہی ہے، میرے لیے نہیں اپنے مستقبل کے لیے، اگر یہ کامیاب ہوجاتے ہیں تو کیا ہوگا، اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی باہر کی قوت کو ملک کی قیادت، وزیراعظم پسند نہ ہوتو کیا وہ 15،20 ارب روپے خرچ کرکے حکومت گرا دے گا، ایک جوہری قوت پاکستان کی قیادت تبدیل ہوسکتی ہے، باہر کی قوت تھوڑے پیسے ضمیر فروشوں کو دے اور ان کو بکروں کی طرح خریدے اور حکومت گرادے تو اس ملک کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔
انہوں نے کہا نوجوانوں کو اس لیے کہہ رہا ہوں کہ اس پاکستان میں تو آپ کا کوئی مستقبل نہیں ہے، اس لیے جو زیادہ پڑھ لکھ لیتا ہے باہر جاتا ہے لیکن یہ آپ کا ملک ہے، اس کے لیے آپ کو لڑنا پڑے گا، میں کہتا ہوں احتجاج آپ کا حق ہے، میں زندہ معاشرے کی بات کر رہا ہوں، برطانیہ زندہ معاشرہ ہے، جب انہوں نے ناجائز طریقے سے، جھوٹ پر تباہی پھیلنے والے اسلحے کا نام لے کرعراق پر حملہ کیا تو احتجاج کرنے کے لیے 20 لاکھ لوگ نکلے، پرامن احتجاج تھا، کوئی گملا نہیں ٹوٹا، میں ان کے ساتھ تھا اور یہ کسی ایک پارٹی نے نہیں نکالا تھا، میں دہراتا ہوں کہ آپ کا جو احتجاج ہوگا وہ پرامن ہو، کسی قسم کا اپنے ملک کو نقصان نہ پہنچائیں، یہ ہمارا ملک ہے، ہم جب توڑ پھوڑ کرتے ہیں تو اپنے لوگوں اور اپنے ملک کا نقصان کرتے ہیں، پرامن احتجاج سے اس طرح کے غداروں کو خوف ہوتا ہے، جب قوم سچائی اور حق کے ساتھ کھڑی ہوجاتی ہے تو معاشرے میں ان غداروں کو سب سے بڑا خوف ہوتا ہے جو اپنے ضمیر کا سودا کر چکے ہوتے ہیں، اپنے ذاتی مفادات کے لیے ملک کو غلام بنا دیتے ہیں، میں چاہتا ہوں کہ پاکستان کی تاریخ ان غداروں کو نہ بھولے، یہ سمجھتے ہیں کہ لوگ تھوڑی دیر میں بھول جائیں گے، نوجوانوں کی ذمہ داری ہے، آپ نے ان کو بھولنے نہیں دینا، انہوں نے اس قوم کے ساتھ بے شرمی سے غداری کی ہے، ثابت ہوگیا کہ یہ باہر سے پوری سازش تھی، ہماری پاس قومی سلامتی کمیٹی، کابینہ سب نے وہ خط دیکھ لیا ہے، یہ سرکاری دستاویز ہے کہ عمران خان کو اگر ہٹائیں گے تو امریکا کے تعلقات آپ سے اچھے ہوں گے، جیسے عمران خان کو ہٹائیں گے تو آپ کو معاف کردیں گے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا میں ہمیشہ آخری گیند تک مقابلہ کرنے والا کپتان تھا اور کبھی ہار نہیں مانتا، یہ سازش ہوئی ہے تب سے میں منصوبہ بندی کررہا ہوں ان کا کیسے مقابلہ کرنا ہے، کل آپ دیکھیں گے میں کیسے ان کا مقابلہ کرتا ہوں، آپ سب نے اس پر احتجاج ضرور کرنا ہے، میں چاہتا ہوں کہ میری قوم زندہ ہو، کوئی اور زندہ ملک ہوتا جہاں اس طرح کی چیز ہوتی تو قوم نے سڑکوں پر ہونا تھا۔
عمران خان نے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا میں آپ سے یہ چاہتا ہوں کہ پرامن احتجاج کریں، میں پھر سے کہتا ہوں کہ آپ کو آج اور کل سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرنا چاہیے، کوئی پارٹی آپ کو نہ نکالے بلکہ آپ کا ضمیر آپ کو نکالے، آپ اپنے ملک اور اپنے بچوں کے مستقبل کی وجہ سے نکلیں، یہ حکومت میں اپنے مقدمات ختم کرنے کے لیے آنا چاہتے ہیں اور اپنے ذاتی مفادات کے لیے ملک سے غداری کر رہے ہیں۔ انہوں زور دیتے ہوئے کہا آپ سب کو نکلنا چاہیے اور بتانا چاہیے کہ آپ زندہ قوم ہیں۔
انکا کہنا تھا جہاں تک غداری کے مقدمے کی بات ہے تو آج میں اپنے وکیلوں کے ساتھ سارا دن بیٹھا ہوں، ہمارا منصوبہ بنا ہوا ہے، جس طرح ہمارے ملک کے ساتھ انہوں نے غداری کی ہے، ہم کسی صورت ان کو جانے نہیں دیں گے، ایک ایک کے اوپر مقدمہ کریں گے، میں وکیلوں کے ساتھ دیکھ رہا ہوں کہ اس کا بہترین طریقہ کیا ہے کیونکہ ہم نےقانون بھی دیکھنا ہے، ہم آج رات تک فیصلہ کریں گے کہ کس طرح کی قانونی کارروائی کرنی ہے۔

Back to top button