نوجوان ماڈلز کو ان پڑھ کہنے پر نادیہ حسین تنقید کی زد میں

سپر ماڈل، اداکارہ اور میزبان نادیہ حسین نوجوان ماڈلز کو ان پڑھ اور کھوکھلی ہونے کا طعنہ دینے پر سخت تنقید کی زد میں آ گئی ہیں۔ نادیہ حال ہی میں فیشن ڈیزائنر دیپک پروانی کے ہمراہ ایک پروگرام میں شریک ہوئیں جہاں انہوں نے کہا کہ اب ماڈل بننے کے لیے کوئی معیار نہیں رہا اور اسی وجہ سے طرح طرح کی لڑکیاں اس فیلڈ میں آ گئی ہیں، جن کی نہ تو ماڈل بننے کے لیے شخصیت ہے اور نہ ہی تعلیم ہوتی ہے۔
اداکارہ نے ماضی کی فیشن انڈسٹری اور ماڈلنگ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں فیشن ڈیزائنرز مشکل سے کیٹ واک کے لیے 20 ماڈلز اکٹھی کرتا تھا مگر اب تو ہر شو میں چالیس چالیس لڑکیاں موجود ہوتی ہیں۔ نادیہ نے کہا کہ ماضی میں ماڈلنگ کی دنیا میں آنے والی لڑکیاں پڑھی لکھی، اعلیٰ کلاس اور پراثر شخصیت کی مالک ہوتی تھیں مگر اب ایسا نہیں، اب ماڈلنگ میں طرح طرح کی لڑکیاں آ چکی ہیں، جو نہ تو تعلیم یافتہ ہیں، نہ تو ان کی کلاس ہے اور نہ ہی ان کی شخصیت ہوتی ہے۔
اداکارہ کے مطابق اب ماڈلنگ کے لیے کوئی معیار ہی نہیں، جس وجہ سے بہت ساری اور طرح طرح کی لڑکیاں آ گئی ہیں، جن کی ماڈل بننے کی شخصیت ہی نہیں اور نہ ہی ان کے پاس تعلیم ہوتی ہے، نادیہ حسین نے گفتگو میں سپر ماڈل مشک کلیم کو ہی تعلیم یافتہ، پر اثر شخصیت اور اعلیٰ کلاس کی مالک قرار دیا اور میزبان احسن خان اور دیپک پروانی سے سوال کیا کہ وہ انہیں باقی ماڈلز کے نام بتائیں؟
اداکارہ کی جانب سے نئے نسل کی ماڈلز کو ’ان پڑھ‘ کہنے اور انہیں ’کلاس اور شخصیت‘ کا طعنہ دیئے جانے پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور لوگ انہیں اپنے کام سے کام رکھنے اور نوجوان ماڈلز سے خوف زدہ نہ ہونے کا مشورہ بھی دیتے دکھائی دیئے۔ ان کے بیان پر سابق سپر ماڈلز اور فیشن ڈیزائنر فریحہ الطاف نے بھی ٹوئٹ کی اور ان سے محبت کا اظہار بھی کیا، تاہم ساتھ ہی لکھا کہ وہ نادیہ حسین کے بیان سے اتفاق نہیں کرتیں۔
فریحہ الطاف نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ نوجوان ماڈلز کے ساتھ کام کیا ہے جو نہ صرف اعلیٰ اخلاق کی مالک ہیں بلکہ وہ تعلیم یافتہ اور سخت محنت کرنے والی بھی ہیں، کسی کا نام لیے بغیر نئے نسل کی ماڈلز کو سخت محنت کرنے والی قرار دیتے ہوئے لکھا کہ ان کی اپنی ہی ’کلاس‘ ہے۔ ان کی طرح دیگر ماڈلز نے بھی نادیہ حسین پر تنقید کی اور انہیں دوسروں سے خوف زدہ نہ ہونے کا مشورہ دیا اور لکھا کہ نوجوان ماڈلز نہ صرف تعلیم یافتہ ہیں بلکہ انہیں ماڈلنگ کی تمام سمجھ بوجھ بھی ہے، ماڈل سارہ ذوالفقار نے بھی نادیہ حسین کے بیان پر رد عمل دیتے ہوئے ان پر تنقید کی اور انہیں مشورہ دیا کہ وہ دوسروں پر انگلیاں اٹھانے کے بجائے محنت سے اپنا کام کریں۔ سارہ ذوالفقار نے اپنی انسٹا گرام پوسٹ میں لکھا کہ خود سے کم مواقع ملنے والی نوجوان ماڈلز کے ساتھ بھی کام کیا اور تمام ماڈلز اعلیٰ کردار اور اخلاق کی مالک ہیں اور محنت اور جذبے سے کام کرتی دکھائی دیتی ہیں، ایسے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ اور گھرانے بھی دیکھے ہیں جنہیں کسی چیز کا علم نہیں ہوتا اور وہ دوسروں پر تنقید کرتے رہتے ہیں، ان کی طرح ماڈل نمرہ جیکب نے بھی نادیہ حسین کو دوسروں سے خوفزدہ ہونے کے بجائے محنت سے اپنا کام جاری رکھنے کا مشورہ دیا۔
نمرہ جیکب نے بھی لکھا کہ وہ نئے نسل کی ماڈلز کے ساتھ بے حد محبت کرتی ہیں اور انہیں نوجوان ماڈلز کی محنت، تعلیم اور جستجو کا بخوبی علم ہے، نادیہ حسین کا نام لیے بغیر لکھا کہ اب بھی فیشن اور ماڈل انڈسٹری میں کچھ ایسے سینیئرز لوگ موجود ہیں جو کہ نئے نسل کی ماڈلز کو اہمیت نہیں دیتیں اور انہیں کم درجے کا سمجھتی ہیں۔
یاد رہے کہ اپنے انٹرویو میں نادیہ حسین نے اعتراف کیا کہ اگرچہ وہ پہلے ہی ماڈلنگ شروع کر چکی تھیں، تاہم انہیں شہرت دیپک پروانی کے فوٹو شوٹ کے بعد ملی، دیپک پروانی نے بتایا کہ سنہون نےبنادیہ حسین کے چہرے اور ان کی جسامت کو دیکھتے ہوئے اپنی تشہیری مہم کے لیے منتخب کیا اور یوں نادیہ حسین راتوں رات سپر ماڈل بن گئیں۔
ایک سوال پر دیپک پروانی اور نادیہ حسین نے کہا کہ سال 2000 ماڈلنگ اور فیشن کے لیے بلکل مختلف تھا لیکن اب بہت ساری چیزیں تبدیل ہو چکی ہیں، اب سوشل میڈیا کا دور ہے جہاں اخلاقیات سکھانے والی فوج بیٹھی ہے جو چھوٹی چھوٹی باتوں پر اخلاقیات کا درس دیتی ہے۔ ایک سوال پر نادیہ نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر مختصر لباس پہننے کی عادی نہیں ہیں اور نہ ہی اس کے حق میں ہیں مگر چوںکہ بعض فیشن شوز میں تخلیقیت کا عنصر بھی رہا ہے، اس لیے ایسے لباس بھی پہنے۔
