نوجوان کھلاڑیوں کی آن لائن کوچنگ کا فیصلہ

لاک ڈاؤن کے سبب پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے اس موقع پر سابق کھلاڑیوں کی خدمات سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کرلیا۔
پی سی بی نے لاک ڈاؤن کے دوران فارغ نوجوان کرکٹرز کی تربیت کا فیصلہ کیا ہے اور جاوید میانداد اور وسیم اکرم جیسے عظیم پاکستانی کرکٹر نوجوان کھلاڑیوں کی آن لائن کوچنگ کریں گے۔ ان کوچنگ سیشنز کا انعقاد پاکستان کرکٹ ٹیم مینجمنٹ نے محکمہ انٹرنیشنل کرکٹ آپریشنز کے ساتھ مل کر کیا ہے جہاں ٹیم مینجمنٹ اس مشکل وقت میں کھلاڑیوں کو کھیل سے جوڑے رکھنے کے لیے منفرد اقدامات کر رہی ہے اور اس کی بدولت نوجوانوں کو ا عظیم کھلاڑیوں کے تجربات سے بھی سیکھنے کا موقع ملے گا۔
جاوید میانداد اور وسیم اکرم کے ساتھ ساتھ محمد یوسف، معین خان، مشتاق احمد، راشد لطیف، شعیب اختر اور یونس خان بھی کھلاڑیوں کو اپنے تجربات اور کھیل کی باریکیوں سے آگاہ کریں گے اور کسی سیریز یا ٹورنامنٹ کے حوالے سے کھلاڑیوں حکمت عملی، تیاریوں اور دیگر اہم امور سے بھی روشناس کریں گے۔ ان سیشنز میں جاوید میانداد، محمد یوسف اور یونس خان تین مختلف سیشنز میں 21 بلے بازوں سے گفتگو کریں گے جب کہ وسیم اکرم اور شعیب اختر 13 فاسٹ باؤلرز کو لیکچر دیں گے۔ اس کے علاوہ چھ اسپنرز کو مشتاق احمد اہم گر سکھائیں گے جبکہ معین خان اور راشد لطیف پانچ وکٹ کیپرز کی رہنمائی کریں گے۔جاوید میانداد پیر کو کھلاڑیوں کو لیکچر دیں گے جبکہ وسیم اکرم منگل کو باؤلرز کو گر سکھائیں گے۔
قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر مصباح الحق نے کہا کہ میں ان تمام کرکٹرز کا شکر گزار ہوں جنہوں نے اپنے تجربات ان نوجوان اور ابھرتے ہوئے کرکٹرز سے شیئر کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ ان کھلاڑیوں کے پاس بہت متاثر کن کہانیاں ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ ہمارے کھلاڑی ان سے جو کچھ بھی سنیں اسے ذہن نشین کرتے ہوئے سیکھنے کی کوشش کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم اس سوچ کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں کہ اگلی سیریز انگلینڈ سے ہے، ان میں سے اکثر کھلاڑی انگلینڈ میں سیریز جیتنے والی ٹیم کا حصہ رہ چکے ہیں لہٰذا یہ جانتے ہیں کہ سیریز کے لیے کس طرح سے تیاری کرنی ہے۔
پاکستان کے سابق عظیم بلے باز جاوید میانداد نے کہا کہ مجھے کرکٹ کے حوالے سے اپنے خیالات ان نوجوان کھلاڑیوں کے ساتھ شیئر کر کے بہت خوشی ہو گی، میں نے کبھی بھی کتابی کرکٹ نہیں کھیلی بلکہ میں نے کھیل پر تحقیق کر کے اپنی ضرورت کے مطابق اس میں تبدیلی کی اور یہی میری کامیابی ہے۔ انہوں نے میں ان نوجوان کھلاڑیوں کوایک ایسے پہلو سے روشناس کراؤں گا جس سے ان اپنی انفرادی اور ٹیم کی کاکرردگی بہتر ہو گی، یہ میری ٹیم ہے اور یہ میرے کھلاڑی ہیں اور ان کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے جو بھی ہو سکا وہ کروں گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button