نورجہاں کے پوتوں اور نواسوں میں جائیداد پرعدالتی جنگ

ملکہ ترنم نور جہاں کی وراثت میں سے اپنا حصہ حاصل کرنے کے لیے ان کے نواسے اداکار احمد علی بٹ نے اپنے ماموں زاد بھائی اور ملکہ ترنم نورجہاں کے پوتے سید فخر امام کے خلاف عدالتی کیس دائر کردیا ہے جس کے بعد نور جہاں کے وارثوں میں شاہ نوراسٹوڈیو کے حصے حاصل کرنے کے لیے قانونی جنگ شروع ہوگئی ہے۔
واضح رہے کہ لاہور سے فلم انڈسٹری اجڑنے کے بعد اب تاریخی اہمیت کا حامل شاہ نور سٹوڈیو بھی ویران پڑا ہے۔ تاہم اس کے مالک اور قابض فلم سٹار ثنا کے شوہر فخر امام اور ان کے بھائی مظہر امام ہیں۔ جنہیں ان کی مرحومہ پھپھو ظل ہما کے صاحبزادے اداکار احمد بٹ وغیرہ نے عدالت میں گھسیٹنے کا فیصلہ کیا ہے۔
لاہور کی ملتان روڈ پر واقع شاہ نور سٹوڈیو پر اپنا حق ثابت کرنے کے لیے ملکہ ترنم میڈم نورجہاں مرحومہ کے نواسے اور پوتے جائیداد کے حصول کے لیے آمنے سامنے آگئے ہیں۔ میڈم نورجہاں کے نواسے اداکار احمد بٹ اور مصطفی بٹ نے سول عدالت کے ذریعے لاہور میں واقع شاہ نورسٹوڈیو کی جگہ میں اپنے ماموں زاد بھائی سید فخر، جو کہ فلمسٹارثنا کے شوہر ہیں، سے اپناحصہ مانگ لیا۔ ادھر میڈم نور جہاں کی ایک اور پوتی فاطمہ سکندر نے بھی سول کورٹ میں دعوی دائر کررکھا ہے کہ شاہ نورسٹوڈیو کی زمین کا حصہ مجھے بھی دیا جائے کیونکہ والد کی وفات کے بعد میری بیوہ والدہ کو شاہ نور اسٹوڈیو سے حصہ نہیں دیا گیا۔
خیال رہے کہ ملکہ ترنم میڈم نورجہاں نے تقسیم ہند کے بعد ممبئی کی فلمی دنیا کو خیر باد کہہ کر لاہور میں نئے سرے سے اپنی فنی زندگی کا آغاز کیا تھا۔ نورجہاں نے اپنے شوہر سید شوکت حسین شاہ رضوی کے ساتھ مل کر لاہور میں فلمی صنعت کی بنیاد ڈالی تھی اور یہاں ملتان روڈ پر شاہ نور کے نام سے ایک جدید فلم سٹوڈیو قائم کیا تھا۔ شاہ نور کا مطلب سید شوکت حسین شاہ رضوی اور نورجہاں کا مشترکہ فلم سٹوڈیو ہے۔ شاہ نور سٹوڈیو میں شاہ دراصل شوکت حسین شاہ رضوی کے نام کا حصہ ہے جبکہ نور ملکہ ترنم کے نام کا حصہ ہے۔
تفصیلات کے مطابق سول جج نوید انجم کی عدالت میں ملکہ ترنم میڈم نورجہاں مرحومہ کے نواسے اداکار احمد بٹ نے اپنے بھائی مصطفی بٹ کے ہمراہ نانی کی جائیداد شاہ نورسٹوڈیو کی جگہ سے حصہ دلوانے کے لیے دعویٰ دائر کیا ہے۔ احمد بٹ کا مؤقف ہے کہ جب چھ دھائیاں قبل شاہ نور سٹوڈیو تعمیر کیا گیا تو اس میں میری نانی ملکہ ترنم نورجہاں کا نصف حصہ تھا تاہم شوکت حسین رضوی سے طلاق کے بعد میری نانی کو وراثت سے محروم کردیا گیا۔ نانی کی وفات کے بعد میری والدہ ظل ہما کو بھی شاہ نور سٹوڈیو میں سے حصہ نہیں دیا گیا اور اب اس پر میرے مرحوم ماموں اصغر حسین عرف اچھو میاں کے بیٹے فخر امام اور ان کے بھائی مظہر امام قابض ہیں لہٰذا شاہ نور سٹوڈیو کا بٹوارا کرکے ہماری والدہ ظل ہما کا حصہ ہمیں دیا جائے۔ عدالت نے نور جہاں کے بیٹے مرحوم بیٹے اصغرحسین کے وارثان اداکر فخرامام اور مظہر امام کو نوٹس جاری کر فیے ہیں تاہم ابھی تک ان کا موقف سامنے نہیں آیا۔
خیال رہے کہ ملکہ ترنم نورجہاں نے 1942 میں اس وقت کے نامورفلمساز اور ہدایتکارسید شوکت حسین شاہ رضوی سے شادی کی۔ نورجہاں کے بطن سے اکبر رضوی عرف اکو اور اصغررضوی عرف اچھو کے بعد ایک بیٹی ظل ہما پیدا ہوئیں۔ ظل ہما اور اس کے دونوں بھائی ابھی کمسن ہی تھے کہ سٹار کرکٹر نذر محمد کی وجہ سے نورجہاں اور شوکت حسین رضوی میں اختلافات پیداہوئے اور نوبت طلاق تک جا پہنچی۔ کہا جاتا ہے کہ شوکت حسین رضوی نے اپنی بیوی نورجہاں کو اس وقت کے سٹار کرکٹر نذر محمد کے ساتھ رنگے ہاتھوں پکڑ لیا تھا شوکت رضوی اپنی بے وفا بیوی کے کرکٹر عاشق کو قتل کرنا چاہتے تھے مگر اس نے چھت سے چھلانگ لگادی اور فرار ہوگیا۔ بعد ازاں شوکت رضوی اپنی لاڈلی بیوی نورجہاں کی صورت دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے تھے اور جلد ہی نورجہاں کو طلاق دے دی۔
بوقت طلاق شوکت حسین رضوی نے نورجہاں اور اپنے مشترکہ ملکیتی شاہ نور سٹوڈیو کے حصے پر تحفظات و خدشات کا اظہار کیا اور بچے نورجہاں کو واپس دینے سے انکار کر دیا۔ کہا جاتا ہے کہ نورجہاں کو اپنی بیٹی ظل ہما کو اپنے پاس رکھنے کے لیے شاہ نور اسٹوڈیو کے حصے سے دستبردار ہونا پڑا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اب اس فلم سٹوڈیو پر نورجہاں اور شوکت حسین رضوی کے بیٹوں کی اولاد قابض ہے۔
شوکت رضوی سے طلاق کے بعد نورجہاں نے لالی وڈ کے ہر دلعزیز اداکار اعجاز درانی سے شادی کرلی جن سے نورجہاں کی تین بیٹیاں ٹینا، مینا اور حنا پیدا ہوئیں۔ نورجہاں نے اعجاز درانی کی ہدایات کے عین مطابق اداکاری چھوڑ کر خود کو گلوکاری کی حد تک محدود کر لیا تھا اور پھر طبی مسائل کی وجہ سے شوبز سے مکمل کنارہ کش ہوگئیں۔ بالآخر
ملکہ ترنم میڈم نورجہاں نے 23 دسمبر 2000 کو کراچی میں کینسر کے باعث وفات پائی اور وہیں مدفون ہیں۔
ادھر شوکت رضوی نے بھی نورجہاں سے علیحدگی کے بعد اس وقت کی معروف اداکارہ یاسمین رضوی سے شادی کرلی تھی جن سے ان کے دو بیٹے شہنشاہ حسین رضوی اور علی مجتبیٰ رضوی پیدا ہوئے۔ نورجہاں کو طلاق دینے کے بعد بھی شوکت رضوی فلمیں بناتے رہے اور بعض فلموں میں نور جہاں کے گیت گنوائے۔آخرکار 19 اگست 1999 کو شوکت رضوی نے لاہور میں وفات پائی اور شاہ نور سٹوڈیو کے احاطے میں ہی دفن ہوئے۔
شوکت رضوی سے طلاق کے بعد میڈم نورجہاں نے بچوں کو شوبز سے دور رکھا۔ اپنی لاڈلی بیٹی ظل ہما کی شادی ایک معروف کاروباری شخصیت بٹ جیولرز کے مالک عقیل بٹ سے کروائی۔ جس کے بعد اللہ نے ظل ہما کو چار بیٹے عطا کئے۔ محمد علی بٹ، ظل ہما کے سب سے بڑے صاحبزادے ہیں اور پاکستان کی ایک معروف موبائل کمپنی میں کام کرتے ہیں۔ جبکہ احمد علی بٹ اور ان کے دوسرے دو بھائی مصطفیٰ علی بٹ اور حمزہ علی بٹ لاہور کے ایک مشہور پاپ میوزک بینڈ اینٹٹی پیراڈائم کا حصہ ہیں۔ ملکہ ترنم مادام نورجہاں کی طرح انکی صاحبزادی ظل ہما کی ازدواجی زندگی بھی ہنگاموں سے دوچار رہی اور بالآخر عقیل بٹ سے انکی علیحدگی ہو گئی تھی اور بالآخر وہ 16 مئی 2014 میں انتقال کرگئیں۔
اب نانی کی وراثت سے حصہ لینے کے لیے احمد بٹ اور ان کے بھائیوں نے اپنے ماموں زاد بھائی اور فلم سٹار ثنا کے شوہر فخر امام اور ان کے بھائی پر کیس دائر کر رکھا ہے۔ شوبز حلقوں سے تعلق رکھنے والے بااثر افراد نے ملکہ ترنم نور جہاں کی اولاد کو ایک میز پر بٹھا کراس حوالے سےتصفیہ کرانے کی بھرپور کوششیں کی ہیں مگر فریقین عدالت کے ذریعے ہی اپنا حق لینے پر بضد ہیں۔ اب دیکھتے ہیں کہ وہ شاہ نور سٹوڈیو جو اپنی زندگی میں میں نورجہاں کا نہ ہوا، کیا ان کی وفات کے بعد ان کے نواسوں اور پوتی کو مل سکتا ہے۔ یقیناً اس کا فیصلہ لاہور کی سول کورٹ ہی کرے گی جس نے احمد بٹ کی درخواست پر فخر امام کو طلب کر رکھا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button