نورمقدم قتل کیس ، ڈاکٹر طاہر سمیت 6 افراد گرفتار

پولیس نے نور مقدم قتل کیس کے حوالے سے چھاپہ مار کارروائی کے دوران تھیراپی سینٹر کے مالک ڈاکٹر طاہر سمیت 6 افراد کو حراست میں لے لیا ہے ، گرفتار افراد میں مرکزی ملزم کے ہاتھوں زخمی ہونے والا امجد بھی شامل ہے ۔پولیس گذشہ ہفتے امجد کا بیان ریکارڈ کر چکی ہے تاہم شدید زخمی ہونے کی وجہ سے پولیس نے ان کی گرفتاری کو التوا میں رکھا ہوا تھا۔پولیس کے مطابق ان چھ ملزمان پر شواہد چھپانے کا الزام ہے اور گرفتار کیے گئے چھ افراد کو آج عدالت میں پیش کیا جائے گا۔یاد رہے اب تک اس مقدمے میں پولیس نے اب تک کل 12 افراد کو گرفتار کیا ہے۔

سابق سفارت کار شوکت مقدم کی بیٹی نور مقدم کے قتل کے مقدمے کی تفتیش کرنے والی ٹیم نے اس مقدمے میں زنا بالجبر کی دفعہ کا بھی اضافہ کیا ہے۔پولیس نے مقدمے میں زنا بالجبر کی دفعہ کا اضافہ سنیچر کے روز فرانزک لیب سے موصول ہونے والی ڈی این اے کی رپورٹ کی روشنی میں کیا ہے جس میں یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ ملزم ظاہر جعفر نے نور مقدم کو قتل کرنے سے پہلے اسے ریپ کا نشانہ بنایا ہے۔اس مقدمے کی تفتیشی ٹیم میں شامل ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ فرانزک لیب سے رپورٹ موصول ہونے کے بعد پراسیکوشن برانچ کی سفارشات کی روشنی میں اس مقدمے میں زنا بالجبر کا اضافہ کیا گیا ہے۔

ضابطہ فوجداری کی دفعہ 376 زنا بالجبر کے زمرے میں آتی ہے اور اسلامی قانون کی مطابق اس کی سزا سنگسار جبکہ ملکی قانون کے مطابق اس کی سزا موت یا عمر قید ہے۔تفتیشی ٹیم کے اہلکار کے مطابق جب ملزم ظاہر جعفر جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں تھا تو اس سے اس بارے میں متعدد بار پوچھا گیا تھا کہ کیا اس نے نور مقدم کو قتل کرنے سے پہلے جنسی تشدد کا نشانہ تو نہیں بنایا تھا لیکن وہ اس سے انکاری تھا۔اہلکار کے مطابق اس رپورٹ کے آنے کے بعد ’یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ ملزم کی نور مقدم سے لڑائی اس بات پر ہوئی تھی کہ وہ اس سے شادی کرنا چاہتا تھا لیکن نور مقدم کے انکار پر اسے پہلے جنسی تشدد کا نشانہ بنایا اور اس کے بعد اسے قتل کیا۔

اہلکار کے مطابق حالات سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نور مقدم نے اپنی عزت اور جان بچانے کے لیے گھر کے اوپر والے حصے سے چھلانگ لگائی تھی لیکن سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق ملزم ظاہر جعفر اور اس کے گھریلو ملازمین زبردستی نور مقدم کے گھر کے اندر لے گئے جہاں پر پہلے ملزم نے پہلے مقتولہ کے ساتھ زبردستی ریپ کی اور اس کے بعد اس کو قتل کردیا۔جب تفتیشی ٹیم کے اہلکار سے پوچھا گیا کہ کیا ملزم کا نئی دفعہ کے اضافے کے بعد مزید تفتیش کی جائے گی جس پر پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ جب فرنزک لیب کی رپورٹ میں زنا ہونا پایا گیا ہے تو اس پر تفتیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

دوسری طرف اسلام آباد پولیس نے نور مقدم کے قتل کے مقدمے میں ملزم ظاہر جعفر کے گھر پر وقوعہ کے روز موجود مالی جان محمد کو گرفتار کر کے اسے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔عدالت نے ملزم جان محمد کو دوبارہ 28 اگست کو پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ملزم جان محمد صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے مانسہرہ کا رہائشی ہے اور وہ ملزم ظاہر جعفر کے گھر پر بطورمالی کام کرتا ہے۔تفتیشی ٹیم کے اہلکار کے مطابق ملزم جان محمد کا بھی ڈی این اے ٹسیٹ کراونے کے لیے اس کے نمونے لاہور کی لیبارٹری میں بھجوا دیئے گئے ہیں۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ ’اس ملزم کا ڈی این اے ٹسیٹ کروانا اس سے لیے بھی ضروری ہے کیونکہ جائے حادثہ اور مقتولہ کے کپٹروں پر خون کے جو نشانات تھے ان میں سے کچھ نشانات ملزم جان محمد کے خون کے بھی تو نہیں تھے۔‘تفتیشی ٹیم کے اہلکار کے مطابق اس سے قبل دو مرتبہ ملزم جان محمد کو طلب کر کے پوچھ گچھ کی گئی تھی تاہم تفتیش کے دوران کچھ ایسا مواد سامنے آیا جس کی روشنی میں ملزم کو حراست میں لینا ناگزیر ہو گیا تھا۔انھوں نے کہا کہ ’پولیس کو اس واقعہ سے متعلق جو سی سی ٹی وی فوٹیج ملی ہے اس میں بھی ملزم جان محمد کو دیکھا جاسکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ جب ملزم ظاہر جعفر نور مقدم کو گھسیٹ کر گھر کے اندر لے کر جا رہا تھا تو اس وقت ملزم جان محمد گھر کے دروازے کے باہر موجود تھا۔تفتیشی ٹیم کے اہلکار کے مطابق ملزم جان محمد نے پولیس کو بتایا تھا کہ ’مقتولہ نور مقدم نے اس کے سامنے اوپر سے چھلانگ لگائی اور نور مقدم کے قتل سے پہلے اس کی چیخیں سنائی دے رہی تھیں۔ملزم جان محمد کو گرفتار کرنے کے بعد اب اس مقدمے میں گرفتار ہونے والے افراد کی تعداد چھ ہو گئی ہے ، مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے علاوہ ان کی والدین سمیت تین گھریلو ملازمین کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ اسلام آباد کی مقامی عدالت ملزمان ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی کی ضمانتوں کی درخواستوں کو مسترد کر چکی ہے۔ملزم ظاہر جعفر کو 16 اگست کو متعلقہ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

Back to top button