نور مقدم کے سفاک قاتل نے جیل میں انسانی حقوق مانگ لیے

اسلام آباد کی رہائشی نور مقدم کو سفاکی سے قتل کرنے کے بعد اس کا سر تن سے جدا کرنے والے حیوان نما انسان ظاہر جعفر نے امریکی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اڈیالہ جیل راولپنڈی کے عملے پر دباؤ ڈالیں تا کہ اسے بطور امریکی شہری اس کے بنیادی انسانی حقوق دیے جا سکیں۔
یاد رہے کہ ظاہر جعفر، اس کی والدہ اور والد ایک سابق پاکستانی سفارت کار کی بیٹی نور مقدم کے قتل کے الزام میں اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اردو نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کی درخواست پر راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید نور مقدم قتل کیس کے مرکزی ملزم اور امریکی شہری ظاہر جعفر کو قونصلر رسائی دے دی گئی ہے۔ 39 اگست کو ظاہر جعفر نے امریکی سفارت خانے کے 25 منٹ تک فون پر گفتگو کی جس کے دوران ظاہر نے امریکی حکام سے شکایت کی کہ اسے جیل میں غیر انسانی سلوک کا سامنے یے اور دیگر قیدیوں جیسی سہولیات بھی مہیا نہیں کی جا رہیں۔ ملزم نے امریکی حکام سے اپنے کیس میں قانونی معاونت کی بھی درخواست کی۔ بتایا گیا یے کہ ظاہر جعفر کی امریکی حکام سے ٹیلی فون کال کے دوران جیل کے اہلکار موقع پر موجود رہے۔
اس سے قبل ظاہر جعفر نے خود بھی اڈیالی جیل کے حکام سے مطالبہ کیا تھا کہ اسے کسی بہتر جگہ شفٹ کیا جائے مگر اسکی درخواست مسترد کر دی گئی تھی۔ اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے ترجمان امریکی سفارت خانہ ہیتھر ایٹن نے کہا ہے کہ ’پرائیویسی کے مسائل کی وجہ سے وہ ظاہر جعفر کے معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کر سکتے۔ قبل ازیں مقامی ذرائع ابلاغ میں ایسی خبریں آئی تھیں کہ امریکی سفارت خانے کے حکام نے اسلام آباد میں نور مقدم قتل کیس میں زیر حراست ملزم ظاہر جعفر سے پولیس کی تحویل میں ملاقات کی ہے۔ اس کے بعد اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ’کسی بھی ملک میں امریکی شہری اس ملک کے قوانین کے تابع ہوتے ہیں، امریکی سفارت خانہ کسی کیس میں عدالتی کارروائی پر اثر انداز نہیں ہوسکتا۔‘
ٹویٹر پر جاری ایک بیان میں امریکی سفارت خانے کا کہنا تھا کہ ’جب امریکیوں کو بیرون ملک گرفتار کیا جاتا ہے تو سفارتخانہ ان کی خیریت معلوم کر سکتا ہے اور وکلا کی فہرست فراہم کر سکتا ہے، لیکن انہیں کوئی قانونی مشورے نہیں دے سکتا۔‘ خیال رہے کہ 30 اگست کو اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے نور مقدم قتل کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے جوڈیشل ریمانڈ میں چھ ستمبر تک توسیع کر دی تھی۔
ظاہر جعفر کو اسلام آباد پولیس نے 20 جولائی کو اسلام آباد کے پوش سیکٹر ایف سیون میں سابق سفیر شوکت مقدم کی بیٹی نور مقدم کے بہیمانہ قتل کے الزام میں اس کے گھر سے گرفتار کیا تھا۔ چند دن بعد پولیس نے اعانت جرم کے الزام میں ظاہر جعفر کے والد اور والدہ کو بھی گرفتار کر لیا تھا۔ ظاہر جعفر کے والد ایک بڑے بزنس گروپ کے مالک ہیں جبکہ اس کی والدہ معروف کاروباری فیملی آدم جی سے تعلق رکھتی ہیں۔ ظاہر جعفر کے والدین کے خلاف ضابطہ فوجداری کی دفعات 109 اور 176 کے تحت اعانت جرم پر کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ اس سے قبل اڈیالہ جیل کے حکام نے بتایا تھا کہ ’ظاہر جعفر کے والدین اور شریک ملزمان ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی نے جیل میں بی کلاس دینے کی درخواست کی ہے۔‘ انہوں نے بتایا کہ مرکزی ملزم کی جیل میں قید والدہ عصمت آدم جی نے جیل میں کینٹین اور دیگر سہولیات کا بھی مطالبہ کر رکھا ہے۔
ظاہر جعفر کی جانب سے جیل میں سہولیات نہ ملنے کے الزام پر تبصرہ کرتے ہوئے اڈیالہ جیل حکام نے کہا کہ اسے جیل میں 10 فٹ چوڑے اور 10 فٹ لمبے کمرے میں دو دیگر قیدیوں کے ساتھ رکھا گیا ہے تاکہ وہ خود کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکے۔ انکا کہنا تھا کہ نور ہے قاتل کو رات کو سونے کے لیے کمبل دیا جاتا ہے جبکہ اس ٹوتھ برش سمیت دیگر اشیا اس لیے نہیں فراہم کی جا رہیں کہ وہ ان سے خود کو نقصان نہ پہنچا سکے۔ دوسری جانب ظاہر جعفر اور اس کے والدین کو عام قیدیوں کے ساتھ روٹین کا کھانا دیا جاتا ہے جس میں ہفتے میں چھ بار چکن کے علاوہ سبزی، دال اور روٹی شامل ہیں۔ ظاہر جعفر کے والدین نے دو بار ضمانت حاصل کرنے کی کوشش کی ہے لیکن دونوں مرتبہ متعلقہ عدالت نے ان کی ضمانت کی درخواست خارج کر دی اور کہا کہ پولیس کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ دونوں نے نور کے قتل میں اپنے بیٹے کی معاونت کی۔
