نور کے قاتل جعفر خاندان کی سیاسی شوبازی

ایک سابق پاکستانی سفیر کی بیٹی نور مقدم کے قتل کیس میں پولیس کی زیر حراست ملزم ظاہر جعفر کے والدین نے ڈان اخبار میں نور کے اہلخانہ کے لیے ایک تعزیتی پیغام شائع کروایا ہے جو سوشل میڈیا صارفین کی تنقید کی زد میں ہے اور وہ اسے ایک سیاسی تعزیت قرار دے رہے ہیں جبکہ ان پر اس بہیمانہ جرم میں اعانت کا الزام ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ نور دو روز تک ان کے سفاک بیٹے کی قید میں رہی لیکن ماں اور باپ دونوں نے نہ تو لڑکی کے والدین کو آگاہ کیا اور نہ ہی اسکو آزاد کروانے کے لیے کوئی قدم اٹھایا۔ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ جو لوگ پولیس کی حراست میں ہونے کے باوجود اخبار نیں تعزیتی اشتہار چھپوا سکتے ہیں انہیں اتنی توفیق نہ ہوئی کہ جب ان کا بیٹا ایک قصائی کی طرح نور کو قتل کر رہا تھا تو اسے ایسا کرنے سے روکتے، یا کم از کم پولیس کو ہی اطلاع کر دیتے حالانکہ گھر کے ملازم انہیں پل پل کی اطلاع دے رہے تھے۔ اشتہار کے حوالے سے یہ تنقید بھی کی جارہی ہے کہ اس میں تعزیت صرف قاتل کے والد اور والدہ کی جانب سے ہے جبکہ نور کی جان لینے والے کا نام موجود نہیں ہے۔
ڈان اخبار میں 29 جولائی کو شائع ہونے والے تعزیتی پیغام میں قاتلکے والدین کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ہم نور مقدم کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں اور اس سنگین جُرم کی مذمت کرتے ہیں۔ اس مشکل وقت میں ہمارے پاس نور کے اہل خانہ اور دوست احباب کو تسلی دینے کے لیے الفاظ نہیں ہیں۔ بحیثیت والدین اس وقت نور کے والدین جس اذیت اور کرب سے گزر رہے ہیں، اُس کا اندازہ بھی مشکل ہے۔ تعزیتی پیغام میں ظاہر جعفر کے والدین کا مزید کہنا تھا کہ ہم اس مشکل وقت میں نور کے اہل خانہ کے ہمراہ کھڑے ہیں اور اُمید کرتے ہیں کہ اس کیس میں قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ تعزیتی پیغام میں مزید کہا گیا کہ ہم دعاگو ہیں کہ اللہ نور مقدم کے اہل خانہ کو ان کی بیٹی کے ساتھ کیا جانے والا سنگین جُرم اور اس کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کو جھیلنے کا حوصلہ اور ہمت عطا کرے۔
یاد رہے کہ 20 جولائی کو نور مقدم کے قتل کے الزام میں کاروباری شخصیت ذاکر جعفر کے بیٹے ظاہر جعفر کو اسلام آباد پولیس نے گرفتار کر لیا تھا۔ ملزم اس وقت پولیس حراست میں ہے اور طرح طرح کی جھوٹی کہانیاں سنانے کے بعد اب اقبال جرم کر چکا ہے۔ اس مقدمے کی تفتیش آگے بڑھتے ہی 25 جولائی کو ملزم کے والد ذاکر جعفر، والدہ عصمت اور گھر کے ملازمین کو بھی گرفتار کر لیا گیا تھا۔
نور مقدم کے قتل پر سامنے آنے والا ردعمل ابھی کم نہیں ہوا تھا کہ پاکستان کے معروف انگریزی اخبار ’ڈان‘ میں ایک اشتہار شائع ہو گیا جس پر سوشل میڈیا پر نئی بحث شروع ہو گئی اور صارفین مختلف طرح کے سوال اٹھا رہے ہیں۔
اخبار میں یہ اشتہار نور کے قاتل ظاہر جعفر کے والد ذاکر جعفر اور ان کی اہلیہ عصمت کی جانب سے شائع کروایا گیا ہے۔ ذاکر جعفر اور ان کی اہلیہ کی جانب سے یہ اشتہار ایسے وقت میں جاری ہوا ہے کہ جب وہ کیس کی تفتیشن کے لیے پولیس کی حراست میں ہیں۔ اشتہار شائع ہونے کے بعد ٹوئٹر پر اخبار کے تراشے لگا کر صارفین اپنے ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں۔ صحافی عالیہ چغتائی نے اپنی ٹوئٹ میں اشتہار کو ’فیس سیونگ اور پی آر ایکسر سائز‘ لکھا ہے۔ ایک اور ٹویٹر صارف نے ماریہ راشد کی ٹویٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’کیا اس اشتہار کا مطلب یہ ہے کہ وہ واقعی اپنے بیٹے کی مذمت کر رہے ہیں؟ ایسا نہیں ہے کیونکہ اس اشتہار میں کہیں بھی ایسا نہیں کہا گیا۔ میں توقع رکھتی ہوں کہ وہ سچ مچ میں نور کے والدین کے ساتھ اور قاتل کے خلاف کھڑے ہوں گے۔‘
ایک اور صارف جاوید اقبال نے لکھا کہ ’ظاہر جعفر کے والدین نے ’ڈان‘ میں ایک تعزیت نامہ جاری کیا ہے لیکن وہ اپنے بیٹے کا نام لکھنا بھول گئے ہیں۔
سوشل میڈیا پر کچھ لوگ یہ سوال بھی اٹھا رہے کہ کوئی ملزم پولیس کی حراست میں ہوتے ہوئے اخبار میں اپنے نام سے اشتہار جاری کر سکتا ہے یا نہیں۔ بعض صارفین نے یہ اشتہار شائع کرنے پر اخبار پر ’جرم کی اعانت‘ کا الزام بھی لگایا ہے۔ اس معاملے پر تجزیہ کار عدنان رحمت سے پوچھا گیا تو انکا کہنا تھا کہ کچھ چیزوں کا تعلق اخلاقیات سے ہے اور کچھ چیزوں کا تعلق فرد کے بنیادی حقوق سے ہے۔ کسی شخص پر جتنا بھی سنگین الزام ہو اسے بولنے کا حق تو حاصل ہے۔ اگر یہ قانونی طور پر منع نہیں تو وہ اخباری اشتہار یا کسی بھی صورت میں اپنی بات کر سکتا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ اس واقعے کے بعد لوگ واقعی ملزم کے خاندان سے نفرت کر رہے ہیں اور کوئی بھی ان کی بات سننا نہیں چاہتا، لہازا میرے خیال میں ملزم کے والدین اپنی پوزیشن واضح کرنا چاہتے ہیں۔ مجھے بظاہر اس میں قانون کی کوئی خلاف ورزی نظر نہیں آتی۔ ہاں اخلاقیات کے نقطہ نظر سے اس پر بحث کی گنجائش موجود ہے۔‘
