نومنتخب وزیراعلیٰ پنجاب کے سیاسی کیریئر پرایک نظر

گزشتہ روز پنجاب اسمبلی میں شیدید ہنگامہ آرائی میں ووٹنگ کے بعد 197ووٹ حاصل کرکے پنجاب کے 21 ویں وزیر اعلیٰ منتخب ہونے والے مسلم لیگ ن کے نائب صدر حمزہ شہباز موجودہ وزیر اعظم شہباز شریف کے صاحبزادے ہیں ۔
حمزہ شہباز 6 ستمبر 1974 کو لاہورمیں پیدا ہوئے، انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے گریجوایشن اور لندن اسکول آف اکنامکس سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔
نومنتخب وزیراعلیٰ حمزہ شہباز نے اوائل عمری سے ہی سیاست میں حصہ لینا شروع کر دیا تھا اور 1994 میں دوران تعلیم ہی پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دیگر رہنماؤں کے ساتھ اڈیالہ جیل میں قید رہے، وہ 13-2008 اور 18-2013 کے دوران مسلسل 2 بار رکن قومی اسمبلی رہے۔ حمزہ شہباز 2018 کے عام انتخابات میں رکن صوبائی اسمبلی پنجاب بھی منتخب ہوئے تھے اور انہوں نے قومی اسمبلی نشست خالی کرکے صوبائی نشست اپنے پاس رکھی اور پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بنے۔جس کے بعد 2019 میں ان کی جماعت مسلم لیگ ن نے انہیں نائب صدر مقرر کر دیا، اور وہ اب بھی اس عہدے پر خدمات سر انجام دے رہے ہیں، جس کے صدر ان کے والد شہباز شریف ہیں ۔
سیاسی کیریئر میں انہوں نے کھیلوں اور نوجوانوں کے امور، فوجداری نظام انصاف، بڑے شہروں کی تجارتی اور شہری منصوبہ بندی، مقامی اداروں کی تشکیل، ماحولیات، جنگلی حیات، ورثے کا تحفظ اور شہریوں کو شہری حقوق اور سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے جیسے اہم شعبوں میں اصلاحات کے عمل کی سربراہی کی اور اس عمل کو آگے بڑھایا۔ انہوں نے اپنے حلقے میں نئے تعلیمی اور صحت کے اداروں کے قیام کے اہم منصوبوں کی بھی قیادت کی۔
نومنتخب وزیراعلیٰ حمزہ شہباز اسپورٹس بورڈ پنجاب کے چیئرمین بھی رہ چکے ہیں، جہاں دنیا کے بڑے بڑے کھیلوں کے مقابلوں کا کامیابی سے انعقاد کیا گیا۔ وہ ایک متحرک عوامی نمائندے ہیں جو معاشرے کے تمام طبقات کے ساتھ بڑے پیمانے پر رابطے میں رہتے ہیں اور مشترکہ فیصلہ سازی اور جمہوری اقدار آگے بڑھانے پر یقین رکھتے ہیں۔
حمزہ شہباز قدرتی اور جنگلی حیات میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں، اکثر قدرتی اور پہاڑی علاقوں کا سفر کرتے ہیں اور سیاسی سوانح عمری پڑھنا بھی پسند کرتے ہیں۔
حمزہ شہباز پر بحیثیت چیف ایگزیکٹیو رمضان شوگر ملزاور اُن کے والد شہباز شریف پر کرپشن کے الزامات عائد کیے گئے، جون 2019 میں حمزہ شہباز کو 2 مقدمات میں کوٹ لکھپت جیل بھیجا گیا تھا، 20 ماہ قید رہنے کے بعد گزشہ سال فروری میں انہیں رہا کردیا گیا، اُن پر منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثوں کا بھی الزام تھا
