نون لیگ فوج کی لاڈلی پارٹی کے الزام پر پریشان

نون لیگ قیادت اس وقت عجب مخمصے کا شکار دکھائی دیتی ہے۔ ایک طرف الیکٹیبلز کی نون لیگ میں شمولیت سمیت نون لیگ کے حق میں چلتی ہوئی سیاسی ہوا سے پارٹی قائدین خوشی کا اطہار کرتے نظر آتے ہیں جبکہ دوسری طرف پارٹی پر لاڈلاہونے کا الزام نون لیگی قیادت کیلئے پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے۔ ڈان نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق سابق وزیر اعظم اور سربراہ مسلم لیگ (ن) نواز شریف بھی اپنے سیاسی مخالفین کی جانب سے خود کو ’ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا لاڈلا‘ کہے جانے اور اپنی پارٹی کو اسٹیبلشمنٹ کی ’پسندیدہ جماعت‘ قرار دیے جانے پر پریشان نظر آرہے ہیں، انہوں نے پارٹی کی نئی منشور کمیٹی کو ہدایت دی ہے کہ وہ رواں ماہ کے آخر تک پارٹی منشور کو حتمی شکل دیتے وقت اس معاملے کا بھی جائزہ لیں اور اس کے تاثر کے تدارک کیلئے بھی عملی اقدامات اٹھائیں۔

دوسری جانب نون لیگ (ن) مقتدر حلقوں کے ساتھ اپنے موجودہ تعلق کا دفاع کرتے ہوئے حیرت کا اظہار کر رہی ہے کہ جب پارٹی کو آج تک کبھی انتخابات میں لیول پلیئنگ فیلڈ فراہم نہیں کی گئی تو اب ایسا سوال کیوں اٹھایا جا رہا ہے؟ حالانکہ نواز شریف کو جن مقدمات میں ریلیف مل رہا ہے ان کے حوالے سے ملک کے اکثریتی قانونی حلقے ماضی میں تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ پاناما میں سے اقامہ نکال کر دی گئی سزائیں اسی طرح ختم ہو رہی ہیں جس طرح یہ مقدمات ناقص بنیادوں پر قائم کئے گئے تھے تاہم حقیقی معنوں میں نون لیگ اپنے اوپر لگائے گئے لاڈلے کے الزام کو دھونے میں تاحال ناکام دکھائی دیتی ہے۔

پارٹی ذرائع نے بتایا کہ نواز شریف، پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی کی جانب سے قائم کیے گئے اس تاثر پر پریشان ہیں کہ وہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے نئے لاڈلے ہیں اور ان مقدمات میں عدالتوں سے کلین چٹ ملنے کے بعد اقتدار میں واپسی کے لیے تیار ہیں جن میں وہ سزا یافتہ اور نااہل قرار دیے جا چکے تھے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے 40 سے زائد ارکان پر مشتمل پارٹی کی نئی منشور کمیٹی کو ہدایت دی ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کی پارٹی اور لاڈلا ہونے کی چھاپ مٹانے کے لیے ایک بیانیہ تیار کریں، نواز شریف 8 فروری کو ہونے والے انتخابات سے قبل اس تاثر کو مٹانے کے خواہاں ہیں۔ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) نے گزشتہ دنوں پارٹی منشور اور بیانیے کے حوالے سے 30 ذیلی کمیٹیاں بھی تشکیل دی ہیں، جن سے کہا گیا ہے کہ وہ 20 نومبر تک ایک ایسا نیا منشور وضع کرنے کے لیے سفارشات فراہم کریں جو عوام کو پسند آئے۔

خیال رہے کہ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے حال ہی میں شریف برادران پر شدید تنقید شروع کردی ہے اور اُن پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اپنے ’ووٹ کو عزت دو‘ کے بیانیے سے دستبردار ہوکر سلیکٹرز کے ساتھ گٹھ جوڑ کر رہے ہیں۔حتیٰ کہ انہوں نے مسلم لیگ (ن) کو ’کنگز پارٹی‘ بھی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جہاں تک سلیکشن اور لاڈلے کی سیاست کا تعلق ہے، میرے خیال میں ہمیں ابھی مزید جدوجہد کرنی ہوگی تاکہ لاڈلے سیاستدانوں کو چننے کی روایت ختم ہوجائے۔

یاد رہے کہ ’سلیکٹرز‘ وہ اصطلاح ہے جسے مسلم لیگ (ن) سابق وزیر اعظم عمران خان کو اقتدار حاصل کرنے کے لیے سپورٹ فراہم کرنے پر اسٹیبلشمنٹ کے لیے استعمال کرتی آئی ہے۔

دوسری جانب مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ نے اسٹیبلشمنٹ کی پشت پناہی حاصل ہونے کے الزام کے حوالے سے اپنی پارٹی کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے حیرت ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کو سہولت حاصل ہونے کی بات کیوں کی جارہی ہے، مشرف دور کے الیکشن ہوں یا 2018 کے الیکشن، مسلم لیگ (ن) کو ہمیشہ مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑا اور لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں دی گئی، اگر آج ہمیں اس صورتحال کا سامنا نہیں ہے تو کہا جا رہا ہے کہ ہمیں سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔رانا ثنا اللہ نے دعویٰ کیا کہ العزیزیہ ملز اور ایون فیلڈ کرپشن کیسز میں نواز شریف کی سزائیں چند ہفتوں میں ختم ہوجائیں گی۔انہوں نے کہا کہ ہم اس بات کو یقینی بنانے کی کوششیں کر رہے ہیں کہ نواز شریف کی سزائیں برقرار نہ رہیں، عدالت کو نواز شریف کے ساتھ کی گئی ناانصافی کا ازالہ کرنے کی ضرورت ہے، چند ہفتوں میں یہ عمل مکمل ہو جائے گا، جس سے وہ آئندہ انتخابات میں حصہ لینے کے اہل ہو جائیں گے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کا ووٹ بینک برقرار ہے، وفاق اور صوبے دونوں میں حکومتیں مسلم لیگ (ن) بنائے گی۔

دوسری جانب مبصرین کے مطابق ایک طرف نواز شریف اسٹیبلشمنٹ کے فیورٹ امیدوار بن چکے ہیں جبکہ تین بار سابق وزیر اعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اسلام آباد میں تعینات سینئر سفارت کاروں کی جانب سے سب سے زیادہ مطلوب رہنما بن گئے ہیں۔سفیروں اور ہائی کمشنروں سمیت ساٹھ کے قریب سفارت کاروں نے ان سے بات چیت کرنے پر اصرار کیا ہے کیونکہ وہ تقریباً چار سال کی جلاوطنی کے بعد بیرون ملک سے واپس آئے ہیں اور لوگوں نے ان کا بھرپور جوش و خروش سے استقبال کیا ہے۔دنیا کے مختلف ممالک کی نمائندگی کرنے والے ایلچی حساس اور اہم بین الاقوامی مسائل اور اپنے اپنے ملک کے مفاد کے دو طرفہ موضوعات پر مسلم لیگ (ن) کے سپریم لیڈر کے خیالات جاننے کے خواہشمند ہیں چونکہ تاثرات سے لگتا ہے اور ان کے میزبان ممالک میں عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اگلے سال 8 فروری کو ہونے والے آئندہ عام انتخابات کے تناظر میں ملک کے اگلے وزیر اعظم ہوں گے۔مسلم لیگ (ن) کے باخبر ذرائع نے بتایا کہ نواز شریف انتخابات کے لیے پارٹی کے منشور کا اعلان کرنے کے بعد جلد ہی اہم سفارت کاروں سے ملاقات کریں گے جہاں ان کی حکومت کی خارجہ پالیسی سے متعلق اہم موضوعات پر تفصیلی گفتگو کی جائے گی۔

Back to top button