نون لیگ وفاق میں حکومت بنانے سے انکاری کیوں ہو گئی؟

عام انتخابات میں حکومت سازی کیلئے سادہ اکثریت نہ ملنے پر جہاں تحریک انصاف نے وفاق میں اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا ہے وہیں دوسری طرف نون لیگ بھی پیپلزپارٹی کے حکومت میں شامل ہوئے بغیر وفاق میں مسند اقتدار پر براجمان ہونے سے پیچھے ہٹتی دکھائی دیتی ہے۔ عام انتخابات میں بڑی سیاسی جماعتوں کو منقسم مینڈیٹ ملنے کے بعد حکومت سازی کیلئے مختلف جماعتوں میں مذاکرات جاری ہیں تاہم اب تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ مرکز میں حکومت کون بنائیگا؟

پاکستان میں عام انتخابات کے بعد مرکز میں حکومت کون بنائے گا اس بات پر ایک مرتبہ پھر تنازع سر اٹھا رہا ہے۔ اس سے پہلے تحریک انصاف نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے حمایتی اراکین کی تعداد اسمبلی زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ حکومت بنائیں گے تاہم دوسری طرف دوسرے نمبر پر آنے والی جماعت مسلم لیگ ن نے تحریک انصاف کو حکومت بنانے کی دعوت دینے کے ساتھ شہباز شریف کی زیر قیادت پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کی حمایت سے اتحادی حکومت بنانے کا اعلان کیا تھا تاہم اب نون لیگ اپنے اعلان سے پیچھے ہٹتی دکھائی دیتی ہے کیونکہ وفاق میں حکومت بنانے کے حوالے سے مسلم لیگ ن میں متضادآراء سامنے آئی ہیں۔جمعے کی شب پاکستان کے مقامی میڈیا میں ایسی خبریں گردش کر رہی ہیں کہ نواز شریف مسلم لیگ ن کی مرکز میں حکومت کے حق میں نہیں۔

ذرائع کے مطابق حکومت سازی کے حوالے سے نواز شریف کی زیر صدارت ن لیگ کے اعلی سطحی اجلاس میں شرکا نے نواز شریف کو تجویز دی کہ ہمیں وفاق نہیں پنجاب پر فوکس کرنا چاہئے۔ جس پر نواز شریف کا تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہمیں وفاقی حکومت بنانے کیلئے کسی اتحادی جماعت کی غیر اصولی بات کو نہیں ماننا چاہئے۔

وفاق میں حکومت سازی بارے خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ  موجودہ قومی اسمبلی میں کسی کو قطعی اکثریت حاصل نہیں، وفاقی حکومت کی تشکیل مسلم لیگ (ن) کی نہیں پارلیمان میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد اراکین پہل کریں، پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر مرکزی حکومت بنالیں، ہم مبارکباد پیش کریں گے، مسلم لیگ (ن) کو کانٹوں کا یہ تاج اپنے سر پر سجانے کا کوئی شوق نہیں۔

ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کے اندر وفاق میں حکومت سازی کے حوالے سے تحفظات موجود ہیں۔ مسلم لیگ ن کے ایک اہم رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’نواز شریف نے واضح طور پر بتا دیا ہے کہ وہ مرکز میں حکومت لینے کے حق میں نہیں۔‘ انہوں نے بتایا کہ ’وہ چاہتے ہیں کہ ن لیگ پنجاب میں حکومت تو کرے البتہ وفاق کی ذمہ داری اپنے سر نہ لے۔ جس پر اکثریتی ن لیگی رہنما متفق ہیں۔‘

اس حوالے سے ن لیگ کے رہنما جاوید لطیف سے جب رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’میں جمعرات کو جاتی امرا ہونے والے اجلاس میں موجود تھا لیکن وہاں جو باتیں ہوئیں وہ ابھی میڈیا کے سامنے نہیں لائی جا سکتیں۔‘ تاہم اس اجلاس سے متعلق حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق پارٹی اکثریت وفاقی حکومت لینے موڈ میں نظر نہیں آئی۔ اس حوالے سے میاں جاوید لطیف نے بتایا کہ ’نواز شریف حکومت نہ لینے کے حق میں ہیں انہوں نے برملا اس میٹنگ میں کہا کہ وہ ان رہنماؤں کے ساتھ متفق ہیں جو حکومت نہ لینے کے حق میں ہیں۔‘انہوں نے مزید تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ’میاں صاحب نے یہ آپشن بھی رکھا کہ اگر پیپلز پارٹی حکومت لینا چاہتی ہے تو انہیں دے دی جائے۔ نواز شریف کی معروضات پاکستان کے مقتدر حلقوں تک پہنچا دی گئی ہیں لیکن ابھی تک کسی بات کا حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ لیکن یہ بات واضح ہے کہ نواز شریف حکومت نہ لینے کے حق میں ہیں تاہم شہباز شریف کا خیال ہے کہ دوسری کوئی آپشن موجود نہیں۔‘لیگی رہنما کے مطابق ’مسلم لیگ ن اس وقت بالکل بھی حکومت لینے کے موڈ میں نہیں اور یہ بات مقتدرہ کو بتا دی گئی ہے۔‘’اگلے چند دنوں میں اس بات کو آفیشل طور پر بتا دیا جائے گا۔ یا تو کوئی ٹیکنوکریٹ ٹائپ کا وزیراعظم آئے گا۔ اگر مسلم لیگ ن کو مجبور کر کے حکومت دی جاتی ہے تو اس بات کے بھی امکان موجود ہیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو زبردستی کی حکومت ہو گی جس کو پارٹی کے اندر سے بھی پوری حمایت حاصل نہیں ہو گی۔‘

اجلاس میں تجویز دی گئی کہ موجودہ حالات میں مسلم لیگ (ن) کو پیپلز پارٹی کے بغیر وفاق میں حکومت نہیں بنانی چاہیے، بلکہ پیپلز پارٹی کی قیادت کو ملک کے خراب معاشی حالات بارے بریفنگ دی جائے اور پیپلز پارٹی کو شامل کر کے ہی وفاق میں حکومت سازی کرنی چاہیے۔شرکا کا کہنا تھا کہ موجودہ معاشی صورتحال کے باعث تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لاکر وفاق میں مشترکہ حکومت سازی پر اتفاق رائے قائم کیا جائے۔اجلاس میں متضاد رائے کی بنا پر وفاق میں حکومت سازی پر حتمی فیصلہ نہ ہو سکا۔

Back to top button