نو منتخب اٹارنی جنرل آف پاکستان خالد جاوید خان کون ہیں؟

وفاقی حکومت نے ایک بار پھر خالد جاوید خان کو اٹارنی جنرل پاکستان مقرر کر دیا ہے۔ 21 فروری کے روز وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے مختصر اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے خالد جاوید خان کو نیا اٹارنی جنرل تعینات کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وزیراعظم نے وزارت قانون کو ہدایت کی ہے کہ وہ اٹارنی جنرل کی تعیناتی کے حوالے سے سمری بھجوا دے۔
قبل ازیں وزیر اعظم کی مشیر برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے اپنے ٹویٹ میں حکومتی تعیناتی کے فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ’حکومت نے خالد جاوید خان کو نیا اٹارنی جنرل مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آئین کی سربلندی اور قانون کی حکمرانی وزیراعظم عمران خان کی اولین ترجیح ہے۔ تمام آئینی اداروں کا احترام کرتے ہیں، ان کی عزت و توقیر ہمارے لیے انتہائی مقدم ہے۔‘ خالد جاوید خان کی تقرری سابق اٹارنی جنرل کیپٹن ریٹائرڈ انور منصور خان کی جگہ پر کی گئی ہے۔
نئے تعینات ہونے والے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان 2018 کی نگران حکومت میں اٹارنی جنرل کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔ انہوں نے 1991 میں سندھ ہائی کورٹ میں وکالت کا آغاز کیا اور 2004 میں سپریم کورٹ کے وکیل بنے تھے۔
سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور حکومت (96 ۔ 1993) میں خالد جاوید خان اس وقت کہ اٹارنی جنرل کے لیگل ایڈوائزر تعینات ہوئے تھے اور اس حیثیت میں وہ بے نظیر کو قانونی مشورے بھی دیتے رہے۔ جون 2013 میں سندھ میں قائم علی شاہ کے دور میں وہ ایڈوکیٹ جنرل سندھ بنے، تاہم چھ ماہ بعد ہی جنوری 2014 میں انھوں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ ان کے والد پروفیسر این ڈی خان پاکستان پیپلزپارٹی کے دیرینہ اور بزرگ رہنما ہیں۔
54 سالہ خالد جاوید خان آئینی و قانونی امور، انکم ٹیکس، سیلزٹیکس، کسٹمز، زمینی معاملات، بینکنگ اور خدمات کے شعبے میں مہارت رکھتے ہیں۔ انھوں نے یونیورسٹی آف لندن سے ایل ایل بی اور ہاورڈ یونیورسٹی سے ایل ایل ایم کا امتحان پاس کیا، وہ لنکن ان کے رکن بھی ہیں۔
یاد رہے کہ 20فروری کو انور منصور خان نے جمعرات کو یہ کہہ کر عہدے سے استعفیٰ دیا تھا کہ ان کے ساتھی وکلا نے ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم بعد ازاں ہونے والی پیش رفت سے اندازہ ہوتا ہے کہ سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسٰی صدارتی ریفرنس سے متعلق درخواستوں کی سماعت کرنے والے بینچ کے خلاف متنازع بیان دینے پر انور منصور سے استعفیٰ لیا گیا تھا۔ وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم کا مؤقف ہے کہ سابق اٹارنی جنرل نے بینچ کے بارے میں جو مؤقف اپنایا اس پر حکومت سے مشاورت نہیں کی گئی تھی۔ وزارت قانون نے ان کے بیان سے لاتعلقی پر مبنی جواب پہلے ہی سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا ہے۔ سابق اٹارنی جنرل کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے عدالت میں جو کچھ کہا وہ حکومت کے علم میں تھا اور اس پر باضابطہ مشاورت ہوئی تھی۔
نئے تعینات ہونے والے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان آئینی امور کے علاوہ ریونیو اور ٹیکسیشن کے امور میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔ ان کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جلد جاری ہونے کا امکان ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button