نگران حکومت نے مہنگائی کی شرح میں کتنی کمی کی؟

2023 کو پاکستانی تاریخ کا سخت ترین معاشی سال قرار دیا جاتا ہے جس کے دوران مہنگائی نے تمام ریکارڈ توڑ دیئے، عام آدمی کو ضرورت سے زیادہ مہنگائی کا بوجھ اٹھانا پڑا۔پاکستان میں گزشتہ برس مہنگائی کی شرح 42.6 فیصد ریکارڈ کی گئی جبکہ 2022 میں یہ شرح 29.3 فیصد تھی، ان اعدادوشمار سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ 2023 میں مہنگائی کی شرح میں کس حد تک اضافہ ہوا۔واضح رہے کہ پاکستان کے سابق وزیراعظم شہباز شریف کی ایڈوائس پر صدر مملت نے 9 اگست 2023 کی شب قومی اسمبلی کو تحلیل کر دیا تھا جس کے بعد اگست میں ہی نگراں حکومت نے ذمہ داریاں سنبھال لی تھیں اگر پی ڈی ایم حکومت کے دور کے آخری دنوں کا نگراں حکومت کے ان دنوں سے موازنہ کیا جائے تو کچھ چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جبکہ چند اشیا کی قیمتیں تقریباً برابر رہیں۔یاد رہے کہ پی ڈی ایم کے دور حکومت میں مئی میں سب سے زیادہ مہنگائی کی شرح رہی جو 38 فیصد تھی، جس کے بعد اگست 2023 میں جب پی ڈی ایم کی حکومت ختم ہوئی تو اعداوشمار کے مطابق مہنگائی کی شرح 27.4 فیصد تھی اب نگراں حکومت کا دور بھی اپنے اختتام کی جانب رواں دواں ہیں لیکن مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے، اور اس وقت مہنگائی کی شرح تقریباً 44 فیصد ہے۔ادارہ شماریات کی 10 اگست 2023 کی ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق ایک درجن انڈوں کی قیمت 288 روپے تھی، اب ادارہ شماریات کی 18 جنوری 2024 کی رپورٹ کے مطابق ایک درجن انڈوں کی قیمت 424 روپے ہے یعنی درجن انڈوں کی قیمت میں 136 روپے اضافہ ہوا ہے۔اسی طرح پی ڈی ایم دور حکومت کے آخری دنوں میں ایک کلو پیاز کی قیمت 60 روپے تھی جو اب 229 روپے کلو تک پہنچ چکی ہے، گیس چارجز (ایم ایم بی ٹی یو) 295 روپے سے بڑھ کر 1711 روپے تک پہنچ گئے ہیں۔پیٹرول کی قیمت 273 روپے فی لیٹر تھی جو نگراں حکومت کے دور میں 13 روپے کی کمی کے ساتھ 260 روپے تک آ گئی ہے، اسی طرح بجلی کے فی یونٹ کی قیمت تقریباً برقرار رہی ہے جو اگست میں 7.57 روپے تھی اور اب 7.40 روپے ہے۔آٹے کی قیمت کی بات کی جائے تو اگست 2023 میں 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2830 روپے تھی جو اس وقت 2811 روپے پر ہے، چینی کی قیمت میں بھی اگست کے مقابلے میں معمولی سی کمی دیکھنے میں آئی ہے، اگست میں چینی کی قیمت 147 روپے فی کلو تھی اور اب چینی کی قیمت ادارہ شماریات کے مطابق 144 روپے فی کلو ہے لیکن یاد رہے کہ دسمبر کے آخری دنوں میں چینی کی قیمتیں یکدم بڑھ گئی تھیں اور چینی ملک کے بعض شہروں میں 300 روپے کلو تک بھی فروخت ہوئی۔
