نگران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اعظم خان انتقال کر گئے

نگران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اعظم خان علالت کے باعث پشاور کے نجی ہسپتال میں انتقال کر گئے۔اعظم خان کو نمازجنازہ کی ادائیگی کے بعد آبائی قبرستان میں سپرد خاک کردیاگیا۔
صدر مملکت عارف علوی،نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ۔،گورنر خیبرپختوخوا حاجی غلام علی۔گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان۔نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی،نگران وزیراعلیٰ سندھ مقبول باقر،گورنر سندھ کامران ٹیسوری،چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی،سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویزاشرف،سابق صدر آصف زرداری،چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو۔پیٹرن ان چیف استحکام پاکستان پارٹی جہانگیرترین ۔صدر آئی پی پی عبدالعلیم خان ،جے یو آئی کے سربراہ مولانافضل الرحمان،امیرجماعت اسلامی سراج الحق سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سےتعلق رکھنے والے افراد۔وکلا برادری،سماجی رہنماؤں کی جانب سے اعظم خان کے انتقال پر افسوس کااظہار کیاگیا۔
اعظم خا ن نے 21جنوری کو بطور نگران وزیراعلیٰ خیبرپختونخو حلف لیا تھا ۔
آر ایم آئی ہسپتال کے ترجمان شبیرشاہ کاکہناہے کہ اعظم خان کو گزشتہ روز طبیعت خراب ہونے پرہسپتال لایاگیاتھا۔نگران وزیراعلیٰ کے پی کوآئی سی یو میں شفٹ کیاگیاتھا ۔ طبی عملے کا بتانا ہے کہ اعظم خان کو مختلف قسم کی بیماریوں کا سامنا تھا، انہیں بخار اور ڈائریا کی شکایت تھی جس کے باعث انہوں نے گزشتہ روز صوبائی کابینہ کے اجلاس میں بھی شرکت نہیں کی تھی۔
ذرائع کے مطابق نگران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوااعظم خان نے طبیعت خرابی کے باعث چند روز سے سرگرمیاں بھی محدود کردی تھیں۔
نگران مشیر صحت ڈاکٹر ریاض انورکاکہنا ہے کہ اعظم خان نے بہتر طریقے سے اپنے فرائض سرانجام دیئے۔
پشاور یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم حاصل کرنے والے اعظم خان ریٹائرڈ بیوروکریٹ تھے اور انہوں نے اسسٹنٹ کمشنر اور کمشنر کے عہدوں پر بھی کام کیا۔ اعظم خان چیف سیکرٹری اور مختلف وزارتوں کے سیکرٹری کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔
یاد رہے کہ اعظم خان کو خیبر پختونخوا کی حکومت کے خاتمے کے بعد اپوزیشن لیڈر کی جانب سے پیش کیا گیا تھا اور جب یہ نام سابق وزیراعلیٰ محمود خان کے سامنے رکھا گیا تو انہوں نے فوری طور پر اعظم خان کو نگران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا تعینات کرنے کی منظوری دیدی۔
واضح رہے کہ نگراں وزیر اعلیٰ اعظم خان کے انتقال سے نگران کابینہ بھی تحلیل ہوگئی ہے۔اعظم خان صوبائی نگراں کابینہ کے آخری اجلاس کی صدارت نہیں کرسکے، یہ فریضہ نگراں وزیرسیدمسعودشاہ نے انجام دیا۔ اعظم خان ساڑھے 9 ماہ صوبے کے نگراں وزیراعلیٰ رہے۔ نگراں صوبائی کابینہ دوسری مرتبہ ختم ہوئی ہے۔ پہلی مرتبہ تمام نگراں وزرا ازخود مستعفی ہوئے تھے۔
