نیب، سارک کے اینٹی کرپشن فورم کا سربراہ منتخب

قومی احتساب بیورو (نیب) کو جنوبی ایشیا کی علاقائی تعاون کی تنظیم (سارک) اینٹی کرپشن فورم کا سربراہ منتخب کردیا گیا۔
نیب ہیڈکوارٹرز کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا کہ ’نیب نہ صرف پاکستان بلکہ پورے سارک ممالک کےلیے رول ماڈل ہے، سارک اینٹی کرپشن فورم میں نیب کو متفقہ طور پر چیئرمین منتخب کیا گیا جو نیب کی کوششوں کی وجہ سے پاکستان کے لیے ایک بڑا اعزاز ہے‘۔ پریس ریلیز میں مزید بتایا گیا کہ بھارت سمیت سارک ممالک نے نیب کی کارکردگی کو سراہا۔
پریس ریلیز کے مطابق نیب کی نمایاں کارکردگی کے پیش نظر، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان، ورلڈ اکنامک فورم، پلڈاٹ اور مشال پاکستان جیسی نامور قومی اور بین الاقوامی تنظیموں نے بھی نیب کی کارکردگی کو سراہا۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ ’پاکستان وہ واحد ملک ہے جس کے ساتھ چین نے کرپشن کے خاتمے کےلیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے، پاکستان اور چین مشترکہ طور پر چائنا پاکستان اقتصادی رابطہ (سی پیک) منصوبوں میں شفافیت کو یقینی بنانے کےلیے کام کر رہے ہیں‘۔
اعلامیے کے مطابق نیب نے اپنے قیام سے لے کر اب تک 328 ارب روپے کی وصولی کی اور سیکڑوں وائٹ کالر جرائم سے متاثرہ افراد اور کچھ سرکاری اور نجی محکموں کو رقم واپس کی اور ایک روپیہ بھی وصول کیے بغیر باقی رقم فومی خزانے میں جمع کرادی۔
مزید بتایا گیا کہ نیب نے انسداد بدعنوانی کی ایک قومی حکمت عملی تیار کی ہے جسے بدعنوانی کے خاتمے کے لیے ایک مؤثر حکمت عملی کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے جبکہ تفتیش کے معیار کو مزید بہتر بنانے کےلیے ایک مشترکہ تحقیقاتی نظام بھی متعارف کرایا گیا ہے۔
دستاویزات اور فنگر پرنٹس کی جانچ پڑتال اور ڈیجیٹل ڈیٹا کے تجزیئے کےلیے نیب نے جدید خطوط پر تفتیشی افسران کو تربیت دینے کےلیے راولپنڈی میں اپنی تحقیقی اکیڈمی بھی قائم کی ہے۔ نیب نے اپنے ہیڈ کوارٹرز میں اینٹی منی لانڈرنگ سیل بھی قائم کیا۔نیب چیئرمین جاوید اقبال نے مجموعی طور پر 12 ہزار مبینہ کرپشن کیسز کے ریفرنسز کا جائزہ لیا جو اس وقت 25 احتساب عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button