نیب اور ایف آئی اے ایبڈو کی طرح کیسے استعمال ہو رہے ہیں؟

موجودہ ہائبرڈ نظام جمہوریت میں آج نیب اور ایف آئی اے کے ذریعے اپوزیشن قیادت کو سیاست سے آئوٹ کرنے کے لیے ویسی ہی کوششیں کی جا رہی ہیں جیسی کے ماضی کے آمرانہ ادوار میں پوڈو اور ایبڈو قانون کے ذریعے کی جاتی تھیں۔ مگر پھر جب وقت بدلا اور جنرل ایوب خان اور ان کے حواریوں کے اقتدار کا سورج غروب ہوگیا تو ہھر اقتدار انہی سیاست دانوں کے ہاتھ آگیا جنہیں بڑی محنت سے میدان سیاست سے آئوٹ کیا گیا تھا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا کہ ایوب خان کے پٹے ہوۓ طرز حکمرانی کے مداح آج انہیں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سیاسی مخالفین کو میدان سے باہر کرنا چاہتے ہیں لیکن انہیں ایوب خان کا انجام یاد رکھنا چاہیے۔ پاکستان کے پہلے فوجی آمر فیلڈ مارشل ایوب خان نے پرانے سیاستدانوں کو معمولی الزامات کے تحت میدان سے آئوٹ کرنے کے لئے بدنام زمانہ ایبڈو قانون کا سہارا لیا تھا جس کی بدولت ایوب کو وقتی فائدہ تو ہوا لیکن جب اس کے خلاف تحریک چلی تو انہی سیاستدانوں اور ان کے ہمدردوں کو اقتدار سے نکال باہر کیا گیا۔ پہلے گورنر جنرل پاکستان غلام محمد پھر اسکندر مرزا اور بعد ازاں صدر ایوب خان کے سیکریٹری کے طور پر کام کرنے والے معروف مصنف اور بیوروکریٹ قدرت اللہ شہاب کے مطابق ایوب خان سمجھتے تھے کہ وزیر اعظم نواب زادہ لیاقت علی خان کے زمانے سے لے کر ان کے زمانے تک کسی بھی دور میں پارلیمانی جمہوریت کا نظام کامیاب نہیں ہو سکا۔ ان کے نزدیک اس کی بنیادی وجہ سیاست دانوں کی نااہلی اور بدعنوانی تھی، لہٰذا وہ چاہتے تھے کہ سیاست دانوں کی اس پوری نسل کو معاشرے سے کانٹے کی طرح نکال کر باہر پھینک دیا جائے۔

یہی وجہ تھی کہ اس قانون کو مؤثر بہ ماضی رکھا گیا یعنی اس قانون کی رو سے قیام پاکستان سے لے کر اُس عہد تک کے تمام معاملات کو گرفت میں لایا جا سکتا تھا۔ پوڈو اور ایبڈو کے بعد انھوں نے بنیادی جمیوریت کا نظام بھی اسی مقصد کے لیے متعارف کروایا تھا۔
پاکستان کے پہلے فوجی حکمراں ایوب خان نے اقتدار پر قبضہ کرنے کے چند ہی ماہ کے بعد مارشل لاء کے ضابطے کے ذریعے ایک قانون نافذ کیا جسے الیکٹیو باڈیز ڈس کوالیفیکیشن آرڈر کا نام دیا گیا جو اپنے مخفف ایبڈو کے نام سے معروف ہوا۔ معروف محقق ڈاکٹر حسن عسکری رضوی اپنی کتاب ‘دی ملٹری پولیٹیکس ان پاکستان 1947-86’ میں لکھتے ہیں کہ یہ قانون دراصل ایک اور قانون پبلک آفسز ڈسکوآلیفیکیشن آرڈر یعنی پوڈو کی توسیع تھا جو سرکاری حکام اور مختلف درجوں کے افسروں کے احتساب کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر عسکری کے مطابق اس قانون کا مقصد سیاست دانوں کی بدکرداری، رشوت ستانی، ہیرا پھیری، اقربا پروری اور سوچی سمجھی بدعنوانی کے خلاف کارروائی تھی۔

پاکستان کے چند ممتاز سیاست دانوں نے ایبڈو کے قانون کے تحت الزامات کا سامنا کیا اور وہ سیاست سے نااہل کر دیے گئے۔ لیکن سیاست دانوں کی ایک بڑی تعداد نے مقدمات کا سامنا کرنے کے بجائے رضا کارانہ طور پر نااہلی قبول کر لی۔ یاد رہے کہ پاکستان میں جمہوریت کو پھانسی پر لٹکانے کی بنیاد قانون ساز اسمبلی نے جنوری 1949 ء میں رکھی گٸی جب پبلک اینڈ ریپرینزیٹیٹو آفسز، ڈس کوالیفکیشن ایکٹ یا پروڈا نافذ کیا۔ اگرچہ پروڈا کی منظوری 6 جنوری 1949 ء میں ہوئی، تاہم اس کا نفاذ 14 اگست 1947 ء سے کیا گیا۔ گورنر جنرل اور وزیر اعظم نے صوبائی اسمبلیوں اور مرکزی اسمبلی کے نمائندوں، وزرا کو پروڈا کی صلیب پر لٹکانے کا آغاز کیا۔ پروڈا کا یہ قانون جمہوریت کو اپاہج رکھنے کے لیے پانچ سال تک نافذ رہا۔ سندھ، پنجاب اور مشرقی پاکستان کے سیاستدانوں کے خلاف کل پانچ ریفرنس اس قانون کے تحت دائر ہوئے۔ چناں چہ ایوب کھوڑو، قاضی فضل اللہ، آغا غلام نبی پٹھان اور حمید الحق چودھری نا اہل قرار دیے گئے۔ ایوب دور میں 7 اگست 1959 کو ایبڈو کا نفاذ عمل میں آیا جس کے نتیجے میں سیاستدانوں کے گرد شکنجہ مزید سخت کردیا گیا۔

اس قانون کی زد میں آ کر نااہل کیے جانے والے سیاست دانوں کی تعداد پانچ سے چھ ہزار تک رہی ہوگی۔ خیال رہے کہ اس قانون کا نشانہ بننے والے سب سے نامور افراد تحریک پاکستان کے نمایاں رہنما اور سابق وزیر اعظم پاکستان حسین شہید سہروردی، سابق صوبہ بہاول پور کے وزیرِ اعلیٰ مخدوم زادہ حسن محمود اور سیسل ایڈورڈ گبن شامل تھے جو 1955 سے 1958 پاکستان کی قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر رہے تھے۔ ان چند افراد کے علاوہ سیاست دانوں کی ایک بڑی تعداد نے اس قانون کا سامنا کرنے کے بجائے رضاکارانہ طور پر نا اہلی قبول کر لی۔’

شہاب نامہ’ میں قدرت اللہ شہاب نے ایسے 39 افراد کے نام شامل کیے ہیں جو قومی زندگی میں نہایت نمایاں مقام رکھتے تھے۔ ایسے افراد میں سابق وزیر اعظم پاکستان فیروز خان نون اور سابق سفیر یوسف ہارون شامل ہیں۔ شہاب کے مطابق بلوچستان سے قائد اعظم کے بااعتماد ترین ساتھی قاضی محمد عیسیٰ بھی اس قانون کی زد میں آئے۔ اس کے علاوہ سابق وزرائے اعلیٰ پنجاب نواب افتخار حسین ممدوٹ، میاں ممتاز محمد خان دولتانہ بھی اس قانون کی وجہ سے سیاست سے آوٹ کر دیئے گئے۔ سندھ کے وزرا پیرزادہ عبدالستار ، قاضی فضل اللہ اور پیر الٰہی بخش کو رگڑا لگا۔ ایبڈو کی وجہ سے سابق وزیر اعلیٰ سندھ محمد ایوب کھوڑو، بلوچستان کے نواب اکبر خان بگٹی بھی سیاست سے آئوٹ ہوئے۔ ان کے علاوہ سیدہ عابدہ حسین کے والد کرنل عابد حسین، سابق وزیر اعلیٰ سرحد خان عبدالقیوم خان، سابق گورنر مغربی پاکستان نواب مشتاق احمد گورمانی بھی اس قانون کی زد میں آئے۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے سابق رکن اور ملک کے دو مقبول اخبارات ‘پاکستان ٹائمز اور ‘امروز’ شائع کرنے والے ادارے پروگریسو پیپرز لمیٹیڈ کے سربراہ میاں افتخار الدین سمیت بہت سے دوسرے نمایاں اور مقبول سیاست داں بھی اس کے نشانہ بننے والوں میں شامل تھے۔ قدرت اللہ شہاب کے مطابق ایبڈو قانون کے تحت مشرقی اور مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والے 98 ممتاز سیاست دانوں کے خلاف کارروائی شروع کی گئی تھی جن میں سے 70 رضاکارانہ طور پر نا اہلی قبول کر کے سیاست سے تائب ہو گئے، 28 سیاست دانوں نے مقدمہ لڑ کر اپنی صفائی پیش کی، جن میں سے 22 مقدمہ ہار گئے اور صرف چھ بری ہوئے۔

مورخین کے مطابق اختلاف کی بنیاد پر سیاست دانوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ قیام پاکستان کے فوراً ہی بعد شروع ہو گیا تھا جس کی کچھ مثالیں اس عہد کے ایک ممتاز سیاست دان اور دانش ور پیر علی محمد راشدی نے اپنی کتاب ‘روداد چمن’ میں درج کی ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ جب کراچی کو سندھ سے لے کر وفاق کا حصہ بنانے کے معاملے سمیت بعض دیگر اختلافات پیدا ہوئے تو وزیر اعلیٰ محمد ایوب کھوڑو کی برطرفی کے بعد ایک ٹریبیونل بنا کر بدعنوانی کے معاملات کی تحقیقات شروع کردی گئی۔یہ پہلا موقع تھا جب ایک سیاست دان کے خلاف بیوروکریسی کو بالادستی دی گئی اور اس کی گواہیوں پر انھیں بدعنوان قرار دیا گیا۔تحقیقاتی ٹریبیونل نے ان کے خلاف بیشتر بڑے بڑے الزامات خارج کر دیے اور انتظامی نوعیت کے نہایت معمولی الزامات پر انھیں مجرم قرار دے کر دو سال کے لیے سیاست کے لیے نااہل قرار دے دیا۔انھوں نے ہائی کورٹ میں اپیل کی تو ان الزامات کو بھی بے بنیاد قرار دے کر انھیں بری کر دیا گیا۔ قدرت اللہ شہاب نے ان الزامات کی ایک فہرست ‘شہاب نامہ’ میں شامل کی ہے جس کے مطابق کسی پر سرکاری ٹیلی فون اور کار کے بے جا استعمال کا الزام تھا، کسی سیاست دان پر الزام لگایا گیا کہ انھوں نے اپنے انتخابی حلقوں میں ترقیاتی کام ترجیحی طور پر کروائے یا تقرریوں اور تبادلوں کے سلسلے میں دخل اندازی کی۔اس کے علاوہ بعض سیاست دانوں پر سرکاری دوروں کے سیاسی استعمال کا الزام تھا یا یہ الزام تھا کہ انھوں نے اپنی حکومت کے دوران کوئی ٹیکس اس لیے نہیں لگایا کہ اس سے حکومت کی مقبولیت میں کمی ہوگی۔

تاہم مؤرخ ڈاکٹر صفدر محمود نے اپنی کتاب ‘ پاکستان کیوں ٹوٹا’ میں کہتے ہیں کہ قومی معاملات میں سیاست دانوں کی بے دخلی سے مشرقی پاکستان کے عوام میں سیاسی محرومی بڑھ گئی، جس میں وقت گزرنے کے ساتھ اضافہ ہوتا چلا گیا۔ ایوب خان کے وزیر اور ممتاز قانون داں ایس ایم ظفر نے اپنی کتاب ‘تھرو دی کرائسز’ میں 1969 کی تند و تیز احتجاجی تحریک پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس تحریک کی شدت میں اضافے میں ان سیاست دانوں کا کردار بھی بہت اہم تھا جنھیں ایبڈو کے قانون کے تحت سیاست سے بے دخل کیا گیا تھا کیونکہ جب یہ تحریک شروع ہوئی، ان میں سے کئی پابندی کی مدت ختم کرنے کے بعد سیاست میں ایک بار پھر سرگرم ہو چکے تھے۔اس طرح ایوب خان نے اقتدار پر قبضے کے بعد جن سیاست دانوں کو سیاست سے بے دخل کیا تھا، ان ہی سیاست دانوں میں سے کچھ خود ایوب خان کے زوال کا باعث بن گئے۔

Back to top button