نیب آفس کو ریڈ زون بنانا حکومتی بدحواسی کا ثبوت

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی سیاستدان کی قومی احتساب بیورو میں پیشی کے موقع پر نیب دفتر کے ارد گرد کے پورے علاقے کو ہی ریڈ زون میں تبدیل کر دیا گیا ہے جسے نہ صرف عوامی حلقے تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں بلکہ لاہور ہائی کورٹ نے بھی اسے ایک غیر ضروری عمل قرار دیا ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان میں اس سے پہلے ریڈ زون کی اصطلاح اسلام آباد میں پاکستان سیکرٹیریٹ اور پارلیمنٹ سمیت حساس ترین عمارتوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ حکومت کی طرف سے نیب کے دفتر کو ریڈ زون ڈکلیئر کرنا اس کی بد حواسی کا ثبوت ہے۔
اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے اس اعلان کے بعد کہ 26 مارچ کو مریم نواز کی نیب میں پیشی پر ان کے کارکنان اظہار یکجہتی کے لئے ساتھ جائیں گے، نیب کی طرف سے یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایک بار پھر یہاں ہنگامہ برپا ہوگا جیسا کہ مریم نواز کی پچھلی پیشی کے موقع پر ہوا تھا۔ نیب نے مریم اینڈ کمپنی کو ایسا کرنے سے روکنے کے لئے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا اور نیب کے اردگرد علاقے کو ریڈ زون قرار دے کر رینجرز کی مدد بھی طلب کرلی۔
تاہم لاہور ہائی کورٹ نے پیشی کے موقع پر مریم نواز کو اپنے کارکن ساتھ لانے پر پابندی لگوانے کے لئے دائر کی گئی نیب کی استدعا مسترد کردی ہے۔ دوران سماعت لاہور ہائی کورٹ کے جج سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دیے کہ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ حالات کنٹرول کرے، قانون پر عمل کرنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے، کوئی قانون کی پاسداری نہیں کرے گا تو قانون اپنا راستہ بنائے گا، جج نے سوال کیا کہ نیب لاہور ہائیکورٹ سے کیوں ریلیف مانگ رہا ہے؟ عدالتیں اس معاملے میں کیوں پڑیں، یہ سیاسی معاملہ ہے۔ عدالت نے کہا کہ نیب کی درخواست پر وہ کیسے اور کیوں کوئی فیصلہ جاری کرے؟ ان ریمارکس کے بعد عدالت نے نیب کی درخواست مسترد کردی۔
دوسری طرف مریم نواز کی 26 مارچ کو نیب میں پیشی سے پہلے پنجاب حکومت نے نیب آفس لاہور کو ریڈ زون قرار دے دیا، حکومت کی جانب سے نیب لاہور کی درخواست منظور کرتے ہوئے نیب آفس لاہور کو ریڈ زون قرار دینے کی منظوری دی گئی جس کے بعد 25 اور 26 مارچ کو نیب آفس لاہور کے اطراف رینجرز اور پولیس کو تعینات کیا جائے گا۔ اس حوالے سے پنجاب حکومت نے رینجرز کی طلبی کے لیے وزارت داخلہ کو خط بھی لکھ دیا۔ وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت نے کہا ہے کہ امن و امان کی صورتحال خراب کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی اور کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اس صورت حال میں لاہور ایک بار پھر سیاسی گرما گرمی کا مرکز بن چکا ہے اور دیکھنا یہ ہے کہ 26 مارچ کو کیا ہوتا ہے۔ نیب نے مریم نواز کو 26 مارچ کو دومختلف مقدمات میں تفتیش کے لیے طلب کر رکھا ہے۔ مریم کے خلاف ایک مقدمہ چوہدری شوگر ملز سے متعلق ہے، جس میں نیب انہیں پہلے بھی گرفتار کر چکا ہے اور وہ ضمانت پر ہیں جبکہ دوسرا مقدمہ جاتی امرا کی زمینوں سے متعلق ہے۔دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ نے مریم نواز کی 12 اپریل تک حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے نیب کو انکی گرفتار ی سے روک دیا ہے، مریم نواز نے درخواست میں استدعا کی تھی کہ ان کے خلاف تمام مقدمات سیاسی ہیں، اور انہیں خدشہ ہے کہ پیشی کے موقع پر نیب ان کو گرفتار کرلے گا۔
اسی دوران پی ڈی ایم کی اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد نے اعلان کیا ہے کہ مریم نواز کی نیب پیشی پر تمام جماعتوں کے کارکن ان کے ساتھ جائیں گے۔ اس حوالے سے مسلم لیگ نون، جمعیت علمائے اسلام ف اور پیپلزپارٹی نے اپنے کارکنوں کو نیب دفتر کے باہر پہنچنے کی ہدایت کی ہے۔ پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما قمر زمان کائرہ نے مریم نواز کی نیب میں پیشی کے موقع پر پی پی کی شرکت کا اعلان کرتے ہوئےکہا ہےکہ 26 مارچ کی صبح مریم نواز کی پیشی کے موقع پر نیب آفس کے باہر پیپلز پارٹی کے قافلے کی خود قیادت کروں گا۔
دوسری جانب مریم نواز کی نیب میں پیشی سے قبل ان کی پارٹی نے بھی اپنی حکمت عملی کو حتمی شکل دے دی ہے۔ ذرائع کے مطابق مریم نواز ماڈل ٹاﺅن لاہور سے نیب آفس جائیں گی. اطلاعات ہیں کہ نواز لیگ کے تمام رکن قومی اور صوبائی اسمبلی کو کم از کم 200 کارکن اپنے ساتھ لانے کی ہدایت کی گئی ہے. مریم نواز ریلی کی صورت میں ٹھوکر نیاز بیگ ہر نیب جے دفتر پہنچیں گی۔ ریلی کے راستے میں جگہ جگہ استقبالیہ کیمپ بھی لگائے جائیں گے۔ نون لیگی ذرائع نے بتایا کہ حمزہ شہباز بھی مریم نواز کے ہمراہ ریلی کی قیادت کریں گے۔ پارٹی پرچم، فلیکس، پھولوں کی پتیاں اور پینے کی پانی کی بوتلوں کیلئے مختلف اراکین اسمبلی کی ڈیوٹیاں لگا دی گئی ہیں۔ ٹرانسپورٹ، استقبالیہ کیمپ، ساﺅنڈ اور ٹرک کے لیے بھی ذمہ داروں کا تعین کر دیا گیا ہے.
دوسری جانب نیب نے بھی تیاریاں مکمل کرلی ہیں نیب ذرائع کے مطابق ریڈزون میں کسی بھی شخص، کارکن، رہنما اور میڈیا کے فرد کے جانے پر پابندی ہوگی نیب لاہور آفس کے باہر 3 درجاتی سیکیورٹی لیئر قائم کی جائیں گی. نیب آفس میں مریم نواز کے علاوہ کوئی بھی رہنما یا وکیل وغیرہ کو جانے کی اجازت نہیں ہوگی نیب کے اندر اور باہر رینجرز اہلکار تعینات کیے جائیں گے سیکیورٹی پر پولیس،اینٹی رائیٹ فورس اور سادہ لباس میں ملبوس افراد تعینات ہوں گے. ذرائع کے مطابق نیب آفس کے باہر کیمروں سے ریڈ زون کی مانیٹرنگ کی جائے گی نقص امن کا باعث بننے والے افراد کو فوری حراست میں لیا جائے گا۔ سیکیورٹی کو فول پروف بنانے کیلئے 2 ہزار اہلکار تعینات ہوں گے جن کے علاوہ رینجرز کے خصوصی دستے بھی طلب کر لیے گئے ہیں.
خیال رہے کہ پاکستان میں اس سے پہلے ریڈ زون کی اصطلاح اسلام آباد میں پاکستان سیکرٹیریٹ اور پارلیمنٹ سمیت حساس ترین عمارتوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ البتہ لاہور کے لیے یہ اصطلاح نئی ہے۔پنجاب کے سابق آئی جی شوکت جاوید سمجھتے ہیں کہ یہ ایک غیر معمولی صورت حال ہوگی۔ ان کے مطابق ’میں 30 سال سے زائد پولیس سروس میں رہا ہوں اور فورس کا چیف بھی رہا ہوں، مجھے نہیں یاد کہ لاہور کے کسی بھی علاقے یا عمارت کو اس سے پہلے ریڈ زون ڈیکلیئر کیا گیا ہو۔ میں نے بھی خبریں دیکھی ہیں کہ نیب آفس کو ریڈ زون ڈیکلیئر کیا جا رہا ہے۔ میرے خیال میں یہ ایک غیر معمولی صورت حال ہوگی۔ریڈ زون کی اصطلاح کے حوالے سے بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ’ریڈ زون کوئی لیگل ٹرم نہیں ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ سخت ترین سکیورٹی زون، جہاں کسی بھی غیرمتعلقہ شخص کو جانے کی اجازت نہ ہو۔ اس کے پیچھے جو لیگل کور استعمال ہو رہا ہوتا ہے وہ دفعہ 144 ہی ہے۔ یہ ایک انتظامی قانون ہے جس سے آپ لوگوں کی نقل حرکت اور اکٹھ کو روک سکتے ہیں۔ اگر نیب آفس کو ریڈ زون ڈیکلیئر کر دیا جاتا ہے تو اس اصطلاح کا صرف ایک ہی مطلب ہوگا کہ معمول سے زیادہ سکیورٹی ہوگی اور ایک قانونی حکم کے تحت وہاں عام افراد کا داخلہ ممنوع ہوگا۔خیال رہے کہ لاہور میں نیب کا دفتر ٹھوکر نیاز بیگ کے علاقے میں عین اس جگہ واقع ہے جو کہ لاہور کا داخلی دروازہ کہلاتا ہے۔ نہ صرف ملتان اور سارے جنوبی پنجاب کی ٹریفک ادھر سے لاہور میں داخل ہوتی ہے بلکہ موٹر وے کا آخری سرا بھی یہیں اختتام پزیر ہوتا ہے۔اگر حکومت اس علاقے کو ریڈ زون ڈیکلیئر کرتی ہے تو اس کا واضح مطلب ہوگا کہ لاہور کا ایک طرف داخلی راستہ بلکل بند کر دیا جائے گا اور اس سلسلے میں صرف ایک ہی سڑک بچے گی جو براستہ بحریہ ٹاون ملتان روڈ کو لگتی ہے جبکہ موٹر وے پر جانے کے لیے واپڈا ٹاون کا راستہ استعمال ہوگا۔ یاد رہے گذشتہ سال اگست میں جب مریم نواز کو اس سے پہلے نیب نے اسی کیس میں طلب کیا تھا تو شہر کے مرکزی داخلی راستے کو بند کر کے بحریہ ٹاؤن والے راستے کو عام ٹریفک کا روٹ قرار دیا گیا تھا۔ یہ راستہ بھی نیب آفس سے تقریباً آٹھ سو میٹر کی دوری سے ٹھوکر نیاز بیگ چوک میں ہی نکلتا ہے۔
