نیب ترمیمی بل 2021 کی دوسری ترمیم کثرت رائے سے منظور

قومی اسمبلی نے قومی احتساب بیورو( نیب) ترمیمی بل 2021 کی دوسری ترمیم کثرت رائے سے منظور کر لی ۔
سپیکر راجہ پرویز اشرف کی زیر صدارت ہونیوالےقومی اسمبلی کے اجلاس میں بل وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پیش کیا، بل کی شق وار منظوری دی گئی، بل کے متن میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین نیب کی ریٹائرمنٹ کے بعد کا طریقہ کار وضع کر دیا، چیئرمین نیب کی ریٹائرمنٹ پر ڈپٹی چیئرمین قائم مقام سربراہ ہوں گے، ڈپٹی چیئرمین کی عدم موجودگی میں ادارے کے کسی بھی سینئر افسر کو قائم مقام چیئرمین کا چارج ملے گا۔
اعظم نذیر تارڑ نے بل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سابق وزیراعظم نہیں چاہتے تھے کہ اس ایوان میں قانون سازی ہو، سابق حکومت آرڈیننس کے ذریعے معاملات چلاتے رہے، ایک آرڈیننس چیئرمین نیب کے حوالے سے جاری کیا گیا اور توسیع دی گئی، اس کے بعد کچھ اور ترامیم کی گئیں جس کے ذریعے سول سرونٹس کو بھی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔
وزیر قانون نے کہا بغیر کسی ثبوت کے سول سرونٹس کو جیل میں ڈالا گیا، سیاست دانوں کو ان کی آواز تبدیل کرنے کے لیے اس نیب کے قانون کو استعمال کیا گیا، ججز نے کہا کہ نیب کو سیاست دانوں کو دیوار سے لگانے کے لیے استعمال کیا گیا۔
انکا کہنا تھاہم نے حلف لیا ہے کہ آئین کے تابع قانون سازی کریں گے، آج ہم اس عقوبت خانے سے 22 کروڑ عوام کو نکالیں گے جو اس میں آسکتے ہیں، ہم یہ قانون بھگت چکے ہیں، ہم نہیں چاہتے کہ دیگر لوگ اس کا شکار ہوں، نیب کے اس قانون میں ناقابل ضمانت اختیارات کے ساتھ 90 روزہ ریمانڈ تھا۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا 90 روز کا ریمانڈ دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کے لیے ہوتا ہے جن کی ذہن سازی کی جاسکتی ہے، جب کئی جرائم میں ضمانت ہے تو پھر نیب کے کیسز میں ضمانت کیوں نہیں؟ اس لیے اس نیب قانون کے خلاف ترامیم لے کر آرہے ہیں، ہم اس نظام کو بہتر کرنا چاہ رہے ہیں، نہ این آر او دینا چاہ رہے ہیں اور نہ لینا چاہ رہے ہیں، یہ پارلیمان ایسا قانون نہیں بناسکتی جو اسلام سے منافی ہو۔
