نیب دفتر کے باہر ہنگامہ آرائی کے بعد مریم کی پیشی منسوخ

لاہور میں نیب حکام نے پولیس اور مظاہرین کے درمیان ہنگامہ آرائی کے بعد مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کی پیشی منسوخ کر دی ہے۔ ادارے کا الزام ہے کہ مسلم لیگ ن کے عہدے داران اور شرپسند عناصر نے قانونی کارروائی میں مداخلت کی تاہم مریم نواز کا دعویٰ ہے کہ ان کی گاڑی پر پولیس کی جانب سے پتھراؤ کیا گیا ہے۔
پاکستان کی حزب اختلاف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف کی صاحبزادی اور جماعت کی رہنما مریم نواز شریف نے آج نیب کے سامنے پیش ہونا تھا تاہم نیب لاہور کے دفتر کے باہر جمع ہوئے نواز لیگ کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان تصادم کے بعد نیب حکام نے انھیں کو واپس جانے کا کہہ دیا ہے۔ مقامی چینلز پر نشر ہونے والی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ نواز لیگ کے کارکن نیب کے دفتر کے باہر لگائی گئی رکاوٹوں کو ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں اور پولیس مشتعل افراد کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس استعمال کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں پولیس اہلکاروں کو کارکنوں کی جانب پتھر پھینکتے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
مریم نواز کو منگل کو صبح 11 بجے رائیونڈ اراضی کیس کے حوالے سے نیب نے پیش ہونے کا حکم دیا گیا تھا۔ نیب نے ان پر آمدن سے زائد اثاثے اور خلاف قانون اقدامات کی بنیاد پر کیس قائم کیا ہے۔ نیب لاہور کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق اس کیس کے بینفشریز میں میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کا نام بھی شامل ہے۔ مریم نواز نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ پولیس کی جانب سے پتھراؤ کے باعث ان کی گاڑی کا شیشہ ٹوٹ گیا تاہم وہ تصادم کے بعد نیب کے دفتر کے باہر واپس آگئیں اور میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھیں نقصان پہنچانے کے لیے گھر سے بلایا گیا۔ ’میں باہر کھڑی ہوں، واپس نہیں جاؤں گی۔ بلایا ہے تو جواب بھی سنا جائے۔‘
موقع پر موجود صحافیوں کے مطابق جس وقت مریم نواز نیب کے دفتر کے باہر موجود تھیں اس وقت دروازے بند کر دیے گئے اور کسی کو اندر باہر آنے جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس کے کچھ دیر بعد مریم نواز نیب آفس سے گھر کی جانب روانہ ہو چکی تھیں اور ماڈل ٹاؤن میں ان کی جانب سے پریس کانفرنس متوقع ہے۔ مقامی میڈیا کی اطلاعات ہیں کہ پولیس کی جانب سے اس واقعے میں ملوث مبینہ افراد کو حراست میں لیے جانے کے اقدامات بھی شروع کیے جاچکے ہیں۔
تاحال یہ واضح نہیں کہ پرتشدد تصادم میں پہل کس جانب سے کی گئی تاہم نیب کے سینئر اہلکار نے بتایا کہ نیب لاہور کے دفتر کے باہر ہنگامہ آرائی اور تصادم کی صورتحال کے باعث مریم نواز کو واپس جانے کا کہا گیا ہے۔ لاہور میں نیب حکام نے پولیس اور مظاہرین کے درمیان ہنگامہ آرائی کے بعد مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کی پیشی منسوخ کر دی ہے۔ ادارے کا الزام ہے کہ قانونی کارروائی میں مسلم لیگ ن کے عہدے داران اور شرپسند عناصر نے مداخلت کی تاہم مریم نواز کا الزام ہے کہ ان کی گاڑی پر پولیس نے پتھراؤ کیا ہے نیب حکام لاہور کا کہنا ہے کہ دفتر کے باہر مظاہرین اور پولیس کے مابین تصادم کے باعث صورتحال کافی خراب ہو چکی ہے اور موجودہ صورتحال میں مریم نواز کو نہیں سنا جا سکتا۔ نیب کا دعویٰ ہے کہ اس ہنگامہ آرائی میں ان کے ملازمین زخمی بھی ہوئے ہیں۔
صحافی مرتضیٰ علی شاہ کی جانب سے ٹوئٹر پر کہا گیا کہ نیب آفس کے باہر پولیس ایکشن میں نظر آرہی ہے۔ اس فوٹیج میں پولیس کی جانب سے کچھ شہریوں کو پکڑا جا رہا ہے۔ قومی احتساب بیورو لاہور کے سامنے مریم نواز شریف کی پیشی سے قبل مسلم لیگ ن کے کارکن بڑی تعداد میں جمع تھے۔ کارکنوں نے مریم نواز کی ریلی کا جگہ جگہ استقبال کرنے کا پروگرام بنا رکھا تھا اور نیب لاہور کے دفتر کے راستے میں استقبالیہ کیمپ بھی لگائے گیا تھا۔
ٹھوکر نیاز بیگ پر نیب دفتر کے باہر مسلم لیگ ن کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی سمیت کارکنوں کی ایک بڑی تعداد مریم نواز کا استقبال کرنے کے لیے موجود تھی۔ اس موقع پر پولیس نے بھی رکاوٹیں لگا کر کارکنوں کا راستہ روک رکھا تھا۔
پارٹی ذرائع کے مطابق مریم نواز اپنی رہائش گاہ جاتی امرا سے ایک ریلی کی قیادت کرتے ہوئے نیب کے دفتر کے لیے روانہ ہوئیں۔ مسلم لیگ نواز لیگ کی ترجمان مریم اورنگزیب نے بتایا کہ مریم نواز کی گاڑی جب نیب دفتر کی طرف مڑی تو پولیس نے ان کی گاڑی پر شیلنگ کی اور پتھراؤ کیا اور مطالبہ کیا کہ وہ ویڈیوز بھی دکھائی جائیں جن میں مریم نواز کی گاڑی پر پتھراؤ کیا گیا تھا۔ تاہم وزیراطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے یہ سوال اٹھایا کہ پولیس پتھراؤ کیوں کرے گی؟ ان کا کہنا تھا کہ پولیس آنسو گیس چلا سکتی ہے اور لاٹھی چارج کر سکتی ہے اور دعوی کیا کہ یہ پتھراؤ نون لیگ کی جانب سے پیشی میں رکاوّٹ ڈالنے کے لیے کیا گیا۔
نیب ذرائع کے مطابق مشتعل کارکنوں نے پولیس پر پتھراؤ کیا جب کہ پولیس کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے نیب کے دفتر کے باہر ہنگامہ آرائی کے واقعہ کا فوری نوٹس لے لیا ہے اور ایک پریس ریلیز کے مطابق چیف سیکرٹری پنجاب اور انسپکٹر جنرل پولیس سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔
دوسری جانب پنجاب کے وزیر قانون راجہ بشارت نے الزام لگایا ہے کہ نواز لیگ نے ایک ’سوچی سمجھی اسکیم‘ کے تحت مریم نواز کی نیب میں پیشی کے موقعے پر پنجاب بھر سے کارکنان کو اکٹھا کیا۔ منگل کو جاری ہونے والی ایک بیان میں کا کہنا تھا اُن کے پاس اُن تمام گاڑیوں کی فوٹیج موجود ہے جن سے پتھراؤ ہوااور حکومت نے محکمہ ایکسائز سے ان گاڑیوں کی تفصیلات مانگ لی ہیں۔ اُن کے مطابق پتھراو کرنے والی گاڑیوں اور افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
یاد رہے کہ مریم نواز سنہ 2018 کے انتخابات میں بہت متحرک تھیں اور انھوں نے اس وقت مسلم لیگ ن کے اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ کو ہہت تقویت بخشی تھی۔
مریم نواز پہلے بھی مختلف نیب مقدمات میں عدالتوں کا سامنا کر چکی ہیں جب کہ منی لانڈرنگ کیس میں جیل بھی کاٹ چکی ہیں۔
پاکستان میں اس وقت سوشل میڈیا پر مریم نواز کے حوالے سے کئی ٹرینڈ چل رہے ہیں اور صارفین مریم نواز کے حق میں اور ان کے خلاف ٹویٹس کرتے نظر آئے۔
عمران خان کی سابق اہلیہ ریحام خان نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’مریم نواز کےلیے ایک عظیم سیاسی ریلی بنانے کا سہرا حکومت میں ان کے مخالفین کو جاتا ہے، کیا پاگل پن ہے۔‘
صحافی اور اینکر پرسن منیزے جہانگیر نے یہ خبر دیتے ہوئے کہ اس ہنگامہ آرائی میں مسلم لیگ ن کے کارکنان زخمی بھی ہوئے یہ سوال بھی اٹھایا کہ پولیس کیسے پتھراؤ کر سکتی ہے۔
اینکر پرسن ندیم ملک نے لکھا جو بھی نیب ڈرائیو کی حکمت عملی بنا رہا ہے وہ وزیر اعظم عمران خان کا دوست نہیں ہے۔
صحافی عاصمہ شیرازی لکھتی ہیں: ملک میں نہ تو مارشل لا ہے اور نہ ہی لاہور میں دفعہ 144 پھر ن لیگ کے کارکنوں پر پتھراؤ کیوں کیا گیا؟ مریم نواز پیش ہو کر چلی جاتیں اس کامیاب شو کے پیچھے خود بُزدار سرکار تو نہیں؟
