نیب دوبارہ نواز شریف کے خلاف میدان میں آگیا


اسلام آباد ہائی کورٹ نے فلیگ شپ ریفرنس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کی بریت کے خلاف اور العزیزیہ ریفرنس میں ان کی سزا میں اضافے سے متعلق قومی احتساب بیورو کی درخواستوں پر ستمبر میں سماعت کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ایک کیس میں نیب نواز شریف کی سات سالہ سزا کو چودہ سال میں تبدیل کروانا چاہتا ہے جبکہ دوسرے کیس میں ان کی بریت منسوخ کروا کر سزا دلوانا چاہتا ہے۔
یاد رہے کہ احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے 24 دسمبر 2018 کو فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے انہیں بری کردیا تھا، جبکہ العزیزیہ ریفرنس میں 7 سال قید کی سزا سنائی تھی جسکی بنیاد پر وہ وزارت عظمی سے نا اہل ہو گے تھے کیونکہ سپریم کورٹ نے 28 جولائی 2017 کو انہیں کوئی بھی عوامی عہدہ رکھنے کے لیے نااہل قرار دے دیا تھا۔ اسکے علاوہ سپریم کورٹ نے نیب کو احتساب عدالت میں شریف خاندان کے خلاف تین ریفرنسز فائل کرنے کی ہدایت دی تھی۔
احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو عام انتخابات 2018 سے چند روز قبل 6 جولائی کو سزا سنائی تھی۔ بعد ازاں مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر۔مریم نواز کی جانب سے جولائی 2019 میں ایک پریس کانفرنس میں ایک ویڈیو جاری کی گئی تھی، جس میں جج ارشد ملک نے طاقتور ادارے کے دباؤ میں آ کر نواز شریف کو سزا دینے کا اعتراف کیا تھا۔ ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد جج ارشد ملک کو معطل کردیا گیا اور ان کا تبادلہ دوبارہ لاہور ہائی کورٹ میں کر دیا گیا، بعد ازاں انہیں ملازمت سے برخاست کردیا گیا۔ بعد ازاں ان کا کرونا وائرس سے انتقال ہوگیا۔
اب 28 جولائی کو نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی اور دیگر پراسیکیوٹرز اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل دو رکنی بینچ کے سامنے پیش ہوئے۔ پراسیکیوٹرز نے نواز شریف کے خلاف دونوں ریفرنسز میں احتساب عدالت کے بریت کے فیصلے کو چیلنج کرنے کے علاوہ ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کی ضمانت منسوخ کرنے کی بھی درخواست دائر کی۔ تاہم عدالت نے ضمانت منسوخی کی درخواست خارج کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کو اس کیس میں پہلے ہی اشتہاری قرار دیا جاچکا ہے۔
اس موقع پر ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب مظفر عباسی نے العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی سزا 14 سال تک بڑھانے کی درخواست کی، انکا موقف تھا کہ جج نے نرمی کی وجہ بتائے بغیر سابق وزیر اعظم کو 7 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے نواز شریف کی سزا میں اضافے سے متعلق نیب کی درخواست پر 12 ستمبر کو دلائل سننے کا فیصلہ کیا، جبکہ فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف کی بریت کے خلاف درخواست کی سماعت 28 ستمبر تک ملتوی کردی۔
اس سے پہلے ستمبر 2020 میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے عدالت میں نواز شریف کی حاضری سے متعلق بنیادی ضرورت پوری کرنے کے بعد العزیزیہ ریفرنس میں انکی سزا کے خلاف اپیلوں کی سماعت شروع کرنےکا فیصلہ دیا تھا۔ عدالت نے نواز شریف کی اپیل کی سماعت کے لیے درخواست خارج کرتے ہوئے ریمارکس دیے تھے کہ فوج داری طریقہ کار کوڈ (سی آر پی سی) کی دفعہ 423 کے تحت میرٹ پر اپیل کنندہ کی درخواست کو نمٹانے سے متعلق فیصلہ تب کیا جائے گا جب اپیل کنندہ عدالت میں ذاتی طور پر پیش ہو گا۔ اس سے پہلے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل آئی ایچ سی کے ڈویژن بینچ نے نواز شریف کے عدالت حاضر نہ ہونے پر ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے تھے۔ تفصیلی فیصلے میں بینچ نے وفاقی حکومت کو ‘برطانیہ میں ہائی کمیشن آف پاکستان کے ذریعے’ وارنٹ پر عملدرآمد کرنے کی ہدایت کی تھی۔

Back to top button