نیب نے شاہد خاقان اور مفتاح اسماعیل کے اثاثے منجمد کر دئیے

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور مسلم لیگ ن کے رہنما مفتاح اسماعیل کے اثاثے منجمد کر دیے گئے۔تفصیلات کے مطابق ایل این جی کیس میں مسلم لیگ ن کے سینئر رہنماؤں شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل کے اثاثے منجمد کردیے گئے۔نیب کا کہنا ہے کہ شاہد خاقان عباسی کی پراپرٹیز اور گاڑیوں کی ٹرانسفر پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
نیب نے شاہد خاقان عباسی کی فروخت شدہ گاڑی کی ٹرانسفر بھی روک دی۔نیب کی جانب سے کہا گیا ہے کہ شاہد خاقان عباسی کے منقولہ اور غیر منقولہ اثاثے منجمد کر دیے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ شاہد خاقان عباسی کو 18 جولائی کو ایل این جی کیس میں گرفتار کیا گیا تھا۔ نیب کی جانب سے 16 جولائی کو شاہد خاقان عباسی کے ایل این جی کیس میں وارنٹ گرفتاری جاری کردیے گئے تھے۔
نیب نے سابق وزیر پیٹرولیم شاہد خاقان عباسی کو تفتیش کے لیے طلب کر رکھا تھا تاہم وہ پیش نہیں ہوئے تھے، اس سے قبل نیب نے انہیں 8 مرتبہ طلبی کے نوٹس جاری کیے جس میں سے وہ 5 نوٹسز پر تفتیش کے لیے پیش ہوئے۔شاہد خاقان عباسی مسلم لیگ (ن) کے دورِ حکومت میں وزیر پیٹرولیم تھے جبکہ پاناما کیس میں میاں نوازشریف کی نااہلی کے بعد انہیں وزیر اعظم بنادیا گیا تھا۔ بعدازاں شاہد خاقان عباسی کی ضمانت منظور ہوئی۔ مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں اُس وقت کے وزیر پیٹرولیم شاہد خاقان عباسی نے قطر کے ساتھ ایل این جی درآمد کرنے کا معاہدہ کیا تھا ، اس حوالے سے ان پرالزام عائد ہے کہ انہوں نے ایل این جی کی درآمد اور تقسیم کا 220 ارب روپے کا ٹھیکہ دیا جس میں وہ خود حصہ دار ہیں۔ نیب ذرائع کے مطابق سابق وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی کے دور میں قطر کے ساتھ مہنگے داموں کیے گئے ایل این جی کا معاہدے سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا ۔
ایل این جی معاہدے کے تحت پہلے سال 2 لاکھ 72 ہزار ڈالر روزانہ ادا کیے جانا تھے جب کہ بقیہ 14 سال 2 لاکھ 30 ہزار ڈالر روزانہ ادا کرنے کا معاہدہ کیا گیا۔ نیب ذرائع نے بتایا کہ اینگرو کمپنی نے ٹرمینل 1 لاکھ 30 ہزارڈالر روزانہ کی بنیاد پر لے رکھاہے، پہلے سال کے لیے روزانہ 1 لاکھ 42 ہزار ڈالرکا نقصان ہوا۔ بقیہ 14 سال کے لیے روزانہ 1 لاکھ ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔ ایل این جی ٹرمینل کا معاہدہ اینگرو کمپنی کے ساتھ 15سال کے لیے کیا گیا تھا۔
