مولانا فضل الرحمان بھی نشانے پر، یکم اکتوبر کو نیب پشاور آفس طلب

قومی احتساب بیورو (نیب) نے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو طلب کرلیا۔
نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان پر مالی بدعنوانیوں کے الزامات ہیں، مولانا فضل الرحمان کو یکم اکتوبر کو نیب خیبر پختونخوا سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان سے کہا گیا ہے کہ وہ آمدن سے زائد اثاثہ جات کے ثبوت دیں، مولانا فضل الرحمان کو نیب کے پی میں ایڈیشنل ڈائریکٹر اسرار الحق کے سامنے پیش ہونےکا کہا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) نے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کیخلاف انکوائری شروع کر دی ہے۔جے یو آئی (ف) کے سربراہ پر آمدن سے زائد اثاثوں کا الزام ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) کی ٹیم کی جانب سے مولانا فضل الرحمان سے آمدن کے زائد اثاثوں سے متعلق معلومات لی جائے گی۔

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں مجموعی سیاسی صورتحال پر بات چیت کی گئی۔بلاول ہاؤس کراچی میں ہونے والی ملاقات میں حکومت کے خلاف تحریک کے معاملے پر بھی گفتگو کی گئی جبکہ اے پی سی کے بعد کے لائحہ عمل پر بھی تبادلہ خیال گیا۔پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ رکن قومی اسمبلی نوید قمر بھی ملاقات میں موجود تھے جبکہ جمعیت علمائے اسلام کے وفد میں مولانا راشد سومرو، مولانا عبیدالرحمان اور اسلم غوری شامل تھے۔
خیال رہے کہ گزشتہ دنوں اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس اسلام آباد کے زرداری ہاؤس میں ہوئی تھی جس میں مولانا فضل الرحمان بھی شریک ہوئے تھے۔ اے پی سی میں حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا اور حکومت کے خلاف مرحلہ وار تحریک شروع کرنا کا اعلان کیا گیا تھا۔ اپوزیشن جماعتوں نے حکومت پر نیب کے ذریعے انتقامی کارروائی کا نشانہ بنانے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔
