نیب پیشی کے دوران مریم پر قاتلانہ حملے کا خدشہ ہے

سابق وزیراعظم نواز شریف کے داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر اعوان کا کہنا ہے کہ مجھ پر اور میری اہلیہ مریم نواز پر کل نیب پیشی کے موقع قاتلانہ حملہ ہوسکتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق کیپٹن (ر) محمد صفدر اعوان کا کہنا ہے کہ میں آئی جی پنجاب کو تحریری درخواست دی ہے اور میں واضح کیا ہے کہ کل نیب میں ہماری پیشی ہے۔
پہلے بھی اگست میں پیشی ہوئی تھی جس میں میری اہلیہ اور میرے اوپر قاتلانہ حملہ ہوا تھا اور کل پھر مجھے اس چیز کا خدشہ ہے۔ اس لیے میں نے درخواست دی ہے کہ مجھ پر اور میری اہلیہ مریم نواز پر کل بھی قاتلانہ حملہ ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کی 26 مارچ کو نیب میں پیشی کے حوالے سے پنجاب حکومت نے نیب آفس لاہور کو ریڈ زون قرار دے دیا، صوبائی حکومت کی جانب سے نیب لاہور کی درخواست منظور کرتے ہوئے نیب آفس لاہور کو ریڈ زون قرار دینے کی منظوری دی گئی ہے، جس کے بعد 25 اور 26 مارچ کو نیب آفس لاہور کے اطراف رینجرز اور پولیس کو تعینات کیا جائے گا، اس حوالے سے پنجاب حکومت نے رینجرز کی طلبی کےلیے وزارت داخلہ کو خط بھی لکھ دیا۔ وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت نے کہا ہے کہ امن و امان کی صورت حال خراب کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی، کسی کو قانون ہاتھ میں لینے اور کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ علاوہ ازیں مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کو نیب پیشی پر کارکنوں کو ساتھ لانے پر پابندی کےلیے نیب کی جانب سے دائر کی گئی درخواست لاہور ہائی کورٹ نے نمٹا دی، اپنے فیصلے میں نیب کی استدعا مسترد کردی۔ بتایا گیا ہے کہ دوران سماعت لاہور ہائی کورٹ کے جج سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دیے کہ ریاست کی ذمہ داری ہے حالات کنٹرول کرے، قانون پر عمل کرنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے، کوئی قانون کی پاسداری نہیں کرے گا تو قانون اپنا راستہ بنائے گا، نیب لاہور ہائی کورٹ سے کیوں ریلیف مانگ رہا ہے؟ اس معاملے میں کیوں پڑیں، یہ سیاسی معاملہ ہے۔ عدالت نے کہا کہ نیب کی درخواست پر کیسے اور کیوں رٹ جاری کریں؟ ان ریمارکس کے بعد عدالت نے نیب کی درخواست مسترد کردی۔
