نیب چھ ہفتے بعد بھی میر شکیل کے خلاف کیس درج کرنے میں ناکام

وزیراعظم عمران خان اور نیب کے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی ذاتی پرخاش اور عناد کے نتیجے میں گزشتہ چھ ہفتوں سے غیر قانونی طور پر قید جیو ٹی وی اور جنگ اخبار کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمان کی رہائی کیلئے جاری صحافتی تنظیموں کی تحریک میں ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت آتی چلی جارہی ہے۔ دوسری طرف چھ ہفتوں سے میر شکیل کو اپنی قید میں رکھنے اور بار بار ریمانڈ لینے کے باوجود قومی احتساب بیورو اب تک میر شکیل الرحمان کے خلاف 54 کنال زمین خریدنے کے حوالے سے کسی قسم کا کوئی مقدمہ درج نہیں کر سکا۔نیب کی جانب سے تمام تر اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرنے کے باوجود میر شکیل الرحمان اپنے اصولی موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں اور نیب کی قید میں بھی ان کے حوصلے بلند ہیں۔
یاد رہے کہ ملک کی تمام بڑی صحافتی تنظیموں، سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی نے میر شکیل الرحمٰن کی ناجائز گرفتاری کو آزادی صحافت پر ایک رقیق حملہ قرار دیتے ہوئے ان کی رہائی کے لیے ملک گیر تحریک شروع کر رکھی ہے جس کے تحت ملک کے چاروں صوبوں میں جلسے جلوس منعقد کیے جا رہے ہیں۔ میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری کے خلاف ملک بھر کے صحافیوں نے لاہور، کراچی، اسلام آباد، کوئٹہ، پشاور اور آزاد کشمیر میں احتجاجی کیمپ لگا رکھے ہیں اور مظاہرین کی طرف سے میر شکیل الرحمان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
میر شکیل الرحمان کی گرفتاری کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں مختلف سیاسی جماعتوں کے مرکزی رہنما، قانون دان، سول سوسائٹی کے اراکین اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد شرکت کر رہی ہے۔ احتجاجی مظاہروں میں شریک افراد کا کہنا ہے کہ میر شکیل الرحمن کی گرفتاری آزادی صحافت پر حملہ ہے جسکی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ انکا کہنا ہے کہ حکومت نے پہلے میڈیا کے اشتہارات بند کر کے صحافیوں کا معاشی قتل عام کیا اور اب نیب کیساتھ گٹھ جوڑ کر کے آزادی صحافت پر حملہ آور ہو چکی ہے اور سپریم کورٹ اسکا نوٹس لے۔
یاد رہے کہ 6 ہفتے قبل 34 سال پرانے مقدمے میں جنگ گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمٰن کو گرفتار کرلیا گیا تھا لیکن ابھی تک قومی احتساب بیورو ان کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کر سکا۔ نیب نے 12 مارچ کو میر شکیل الرحمٰن کو 54 کنال اراضی سے متعلق 34 سال پرانے مقدمے میں گرفتار کیا تھا۔ میر شکیل کی جانب سے پلاٹ کیس میں ڈٹ جانے کے بعد ان کے خلاف حکومتی ایما پر نہ صرف نیب ٹیکس چوری اور غیر ملکی فنڈنگ کے برسوں پرانے الزامات کی دوبارہ چھان بین کررہا یے بلکہ اس حوالے سے سرکاری اداروں سے ثبوت فراہم کرنے کا بھی کہا گیا ہے۔
تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب کی حراست میں ہونے کے باوجود میر شکیل الرحمان کے حوصلے بلند ہیں اور وہ رہائی کی خاطر اپنے اصولوں پر کسی قسم کا سمجھوتا کرنے سے انکاری ہیں۔ ترجمان جنگ گروپ کے مطابق جس زمین کی خریداری کا کیس بنایا گیا ہے وہ میر شکیل الرحمٰن نے 34 برس قبل خریدی گئی تھی جس کے تمام شواہد نیب کو فراہم کردیے گئے تھے جن میں ٹیکسز اور ڈیوٹیز کے قانونی تقاضے پورے کرنے کی دستاویز بھی شامل ہیں۔ ترجمان جنگ گروپ کا کہنا ہے کہ میر شکیل الرحمان نے یہ پراپرٹی پرائیوٹ افراد سے خریدی تھی، میر شکیل اس کیس کے سلسلے میں دو بار خود نیب لاہور کے دفتر میں پیش ہوئے، دوسری پیشی پر ان کو جواب دینے کے باوجود گرفتار کر لیا گیا۔
ترجمان نے سوال کیا کہ نیب نجی پراپرٹی معاملے میں ایک شخص کو کیسےگرفتار کر سکتا ہے جب کہ نیب کا دائرہ اختیار قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والے کیسز کے حوالے سے ہے۔ ترجمان نے کہا کہ میر شکیل کو ایک جھوٹے اور من گھڑت کیس میں گرفتارکیاگیا اور وہ قانونی طریقے سے سب کو بےنقاب کریں گے۔ یاد رہے کہ اس کیس میں نیب کو شکایت کرنے والا شخص اسد کھرل جعلی ڈگریاں بنانے والی کمپنی ایگزیکٹ کے بول ٹی وی میں کام کرتا ہے۔ میر شکیل الرحمان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کیس بنیادی طور پر عمران خان اور چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کے ذاتی بغض اور عناد کی وجہ سے تیار کیا گیا ہے۔ عمران خان کو یہ غصہ تھا کہ جیو اور جنگ نے ماضی میں بشری بی بی کے ساتھ ان کی خفیہ شادی کی خبر وقت سے پہلے بریک کر دی تھی۔ اس غصے کا اظہار عمران نے ٹی وی پر بھی کیا تھا اور اسکی ویڈیو بھی موجود ہے۔ دوسری طرف جسٹس جاوید اقبال کو میر شکیل پر یہ غصہ تھا کہ جیو ٹی وی کے شاہ زیب خانزادہ ان کی ایک خاتون کے ساتھ مبینہ قابل اعتراض ویڈیو کا معاملہ اٹھارہے تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button