نیب کا شہباز شریف اور بیٹوں کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی منظوری

قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیرمین جاوید اقبال نے تین کرپشن ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دے دی۔چیئرمین نیب جاوید اقبال کی زیر صدارت ایگزیکٹیو بورڈ کا اجلاس ہوا جس میں آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں شہبازشریف، سلمان شہباز اور حمزہ شہباز کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دے دی گئی۔
نیب کے مطابق شہبازشریف اور حمزہ شہبازکےخلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے الزام میں ریفرنس دائرکیا جائےگا۔ ریفرنس میں شہبازشریف پر 7 ہزار 328 ملین روپے کے ناجائز اثاثوں کا الزام عائد کیا گیا ہے۔نیب اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ تحقیقات سے پتہ چلا کہ شہباز شریف اور دیگر افراد نے آمدن سے زیادہ اثاثے بنائے اور ترسیلات زر اور قرضوں کی آڑ میں کالا دھن سفید کیا۔مسلم لیگ (ن) کے صدر اور ان کے بیٹوں نے بے نامی اکاؤنٹس سے جائیدادیں بنائیں، جبکہ اپنے ملازمین اور ساتھیوں کے نام پر بے نامی کمپنیاں بھی چلاتے رہے۔ایل این جی کیس میں شاہد خاقان عباسی اور انکے بیٹے عبداللہ خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل کے خلاف ضمنی ریفرنس دائر کرنے کی بھی منظوری دے دی گئی۔شیخ عمران الحق ، آغا جان اختر ،سعید احمد خان ،عامر نسیم ، عظمی عادل ، شاہد ایم اسلام ،حسین داؤداور دیگر کو بھی ریفرنس میں ملزم نامزد کیا گیا ہے۔نیب اعلامیہ کے مطابق ملزمان نے ایل این جی ٹرمینل ون کے ٹھیکے میں خزانے کو 14 ارب روپے سے زائد کا نقصان پہنچایا، انہوں نے دوسرے ایل این جی ٹرمینل کو استعمال میں نہ لاکر سات ارب روپے سے زائد کا نقصان کیا۔ ملزمان کے اختیارات کے ناجائز استعمال سے ستمبر 2019 تک ساڑھے 21 ارب روپے کا نقصان ہوا۔
انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں پاکستانی سفارتخانے کی عمارت غیر قانونی طور پر فروخت کرنے پر دفتر خارجہ کے حکام کے خلاف بھی ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دے دی گئی۔ 2001 سے 2002 تک سفیر رہنے والے میجر جنرل (ر) سید مصطفی انور حسین پر قومی خزانے کو 1.32 ملین ڈالر کا نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے کہا تھا کہ کرپشن کے مقدمات میں 30 دن میں فیصلہ ممکن نہیں۔ سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے اپنے جواب میں چیئرمین نیب نے کہا تھا کہ 50 ،50 گواہ بنانا قانونی مجبوری ہے۔ موجودہ احتساب عدالتیں مقدمات کا بوجھ اٹھانے کےلیے ناکافی ہیں۔ چیئرمین نیب نے کہا تھا کہ حکومت کو کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ نیب عدالتوں کی تعداد بڑھائی جائے کیونکہ مقدمات کے بوجھ کی وجہ سے ٹرائل میں تاخیر ہو رہی ہے۔ چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کے مطابق لاہور ،کراچی، راولپنڈی، اسلام آباد اور بلوچستان میں اضافی عدالتوں کی ضرورت ہے۔ ہر احتساب عدالت اوسط 50 مقدمات سن رہی ہے۔
چیئرمین نیب جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ 120 ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز نہیں تو ریٹائرڈ جج بھی تعینات ہو سکتے ہیں۔ احتساب عدالتوں میں اپیلیں سننے کےلیے بھی ریٹائرڈ ججز کی خدمات لی جا سکتی ہیں۔ جواب میں کہا گیا تھا کہ رضاکارانہ رقم واپسی کا اختیار استعمال کرنے سے سپریم کورٹ روک چکی ہے۔ رضاکارانہ رقم واپسی کی اجازت ملے تو کئی کیسز عدالتوں تک نہیں پہنچیں گے۔ چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کے مطابق نیب عدالتیں ضابطہ فوجداری پر سختی سے عمل کرتی ہیں۔ احتساب عدالتیں ضابطہ فوجداری پر عمل نہ کرنے کا اختیار استعمال نہیں کرتیں۔ جواب کے مطابق ملزمان کی متفرق درخواستیں اور اعلیٰ عدلیہ کے حکم امتناع بھی تاخیر کی وجہ ہے۔ ہائی کورٹس ضمانت کے لیے سپریم کورٹ کے وضع کردہ اصولوں پر عمل نہیں کرتی ہیں۔
سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے جواب کے مطابق ملزمان کو اشتہاری قرار دینے کا طریقہ کار بھی وقت طلب ہے۔ بیرون ممالک سے قانونی معاونت ملنے میں تاخیر بھی بروقت فیصلے نہ ہونے کی وجہ ہے۔ نیب چیئرمین نے جواب میں کہا تھا کہ عدالتوں کی جانب سےسیاسی شخصیات کے لفظ کی غلط تشریح کی جاتی ہے۔ غلط تشریح کے باعت سیاسی شخصیات کا مطلب غیر ملکی اداروں کو سمجھانا مشکل ہوجاتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button