نیب کی حراست میں نواز شریف کے معمولات زندگی

چودھری شوگر ملز کیس میں نیب کی طرف سے مبینہ منی لانڈرنگ کے الزامات میں گرفتار مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کیخلاف نیب کوئی ثبوت تو سامنے نہیں لا سکا تاہم ان کے دوران حراست معمولات سامنے آ گئے ہیں۔ نیب ذرائع کے مطابق چودھری شوگر ملز کیس میں نیب کی زیر حراست سابق وزیراعظم نواز شریف کو سخت سیکیورٹی میں نیب کے ڈے کئیر سینٹر میں قید رکھا گیا ہے۔ ڈے کئیر سینٹر کے اندر ہی ایک انوسٹی گیشن روم بھی موجود ہے جہاں میاں نواز شریف سے گاہے بگاہے پوچھ گچھ کی جاتی ہے۔۔ ڈے کیئر سنٹر کے باہر ایک بڑا سا لان ہے جس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے لیے ایک میز، کرسی اور چھتری کا انتظام بھی موجود ہے ۔
ذرائع کے مطابق نواز شریف صبح اور شام اپنے قید خانے سے باہر لان میں آتے ہیں اور ایک گھنٹہ واک کرتے ہیں اور لان میں بیٹھ کر کتاب یا پھر قرآن شریف کی تلاوت کرتے ہیں۔ نواز شریف کے حراست کے کمرے کے پاس پی آئی سی کی ایمرجنسی گاڑی موجود ہے جس میں ڈیوٹی پر ہمہ وقت 3 ڈاکٹرزموجود رہتے ہیں تاکہ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں ان کا چیک اپ کیا جا سکے ۔ نیب کا ڈاکٹر روزانہ کی بنیاد پر سابق وزیراعظم کا بلڈ پریشر اور شوگر لیول چیک کرتا ہے ۔ ڈے کئیر سنٹر کے باہر 4 پولیس جوان ڈیوٹی پر موجود رہتے ہیں اور ڈے کئیر سنٹر کی چھت پر بھی سکیورٹی کا سخت انتظام موجود ہے ، سرچ لائٹس لگا کر رات بھر فول پروف سکیورٹی ‌فراہم کی جاتی ہے ۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کا کھانا روزانہ کی بنیاد پر گھر سے آتا ہے ، جسے نیب ریسپشن پر پولیس وصول کرتی ہے اور کھانے کو چیک کرنے کے بعد نواز شریف تک پہنچایا جاتا ہے ۔
نواز شریف ناشتے میں زیادہ تر ڈرائی فروٹ یا پھل کھاتے ہیں جبکہ ان کے دوپہر کے کھانے کا مینیوروزانہ مختلف ہوتا ہے ۔ خیال رہے کہ رواں ماہ 11 اکتوبر کو سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے تاحیات قائد نواز شریف کو نیب نے چودھری شوگر ملز کیس میں گرفتار کر لیا تھا جس کے بعد ان کا ریمانڈ حاصل کیا گیا
چوہدری شوگرملز کیس میں میاں نواز شریف کی گرفتاری کے بعد نیب نے الزام لگایا ہےکہ سابق وزیراعظم نے اپنی صاحبزادی مریم نواز اور بھتیجے یوسف عباس کی شراکت داری سے41 کروڑ روپے کی منی لانڈرنگ کی نیب کا موقف ہے کہ ملزمان نے ایک کروڑ 10 لاکھ کے جعلی شیئرز غیر ملکی شخص نصیر عبداللہ کو منتقل کرنے کا جھوٹا دعویٰ کیا۔ ۔
یاد رہے کہ میاں نوازشریف کوٹ لکھپت جیل میں العزیزیہ ریفرنس میں7 سال قید کی سزا سنائی کاٹ رہے تھے۔ اس دوران نیب نے چوہدری شوگر ملز کیس کے حوالے سے میاں نواز شریف سے جیل میں ہی تفتیش کی تاہم نیب نے الزام لگایا ہے کہ میاں نوازشریف اس معاملے میں تعاون نہیں کرتے تھے لہذا انہیں باقاعدہ گرفتار کرکے احتساب عدالت پیش کرنے کے بعد ان کا چودہ روز کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا گیا ہے۔ چوہدری شوگر ملز کیس میں پہلے ہی مریم نواز اور نوازشریف کے بھتیجے یوسف عباس بھی نیب کی جانب سے گرفتاری کے بعد کوٹ لکھپت جیل میں بند ہیں۔
دوسری طرف نواز شریف کے قریبی ذرائع نے نیب کی طرف سے عائد کردہ نئے الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں نیب کی تحویل میں دینے کا بنیادی مقصد صرف اتنا ہے کہ وہ کوٹ لکھپت جیل میں رہتے ہوئے ملاقاتیوں کے ذریعے مولانا فضل الرحمن کے مجوزہ لانگ مارچ میں حصہ ڈال رہے تھے جس کی حکومت کو شدید تکلیف تھی۔ لہٰذا انہیں ملاقاتوں سے روکنے کے لیے نیب کی تحویل میں دے دیا گیا ہے اور ان کے خلاف ایک نیا کیس صرف اسی مقصد کے لیے بنایا گیا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button