نیب کی میر شکیل الرحمان کوعلیل بھائی سے ملاقات کی اجازت

وفاقی احتساب بیورو نیب نے جنگ اور جیو کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمان کو اپنے علیل بھائی میر جاوید سے ملاقات کیلئے کراچی جانے کی اجازت دیدی ہے دوسری طرف میر شکیل الرحمان کی اہلیہ کے وکیل اعتزاز احسن نے لاہور ہائیکورٹ میں میر شکیل الرحمان کی گرفتاری کو نیب کے دائرہ اختیار سے تجاوز قرار دے کر کالعدم قرار دینے کی استدعا کردی ہے۔
نیب کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ قومی احتساب بیورو نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر میر شکیل الرحمان کو اپنے علیل بھائی میر جاوید الرحمان کی عیادت کی اجازت دی ہے۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ میر شکیل الرحمان ایک یوم کے لیے اپنے بھائی کی عیادت کے لیے کراچی جا سکتے ہیں لیکن اس دوران وہ بدستور نیب کی حراست میں ہی رہیں گے۔ نیب اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ریمانڈ کے دوران ضمانت دینے یا نہ دینے کا اختیار عدالت کو حاصل ہے اس لیے ملزم یا لواحقین اس حوالے سے عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز میر خلیل الرحمان کے بڑے صاحبزادے میر جاوید الرحمان کو طبیعت خراب ہونے پر نجی اسپتال کے آئی سی یو وارڈ میں منتقل کیا گیا تھا اور ڈاکٹرز نے ان کے پھیپھڑوں میں کینسر کا مرض تشخیص کیا ہےاور انہیں طبیعت خراب ہونے پر نجی اسپتال کے آئی سی یو وارڈ میں منتقل کیا گیا ہے۔
دوسری طرف جنگ و جیو نیوز کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمان کی اہلیہ کے وکیل اعتزاز احسن نے لاہور ہائیکورٹ سے میر شکیل الرحمان کی گرفتاری کو نیب کے دائرہ اختیار سے تجاوز قرار دے کر کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے۔
لاہور ہائیکورٹ میں میر شکیل الرحمان کی گرفتاری اور ریمانڈ کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی جس میں میر شکیل الرحمان کی اہلیہ کے وکیل اعتزاز احسن نے اپنے دلائل میں کہا کہ نیب نے میرشکیل الرحمان کو نوٹس دےکر دستاویزات سمیت 3 مارچ کو بلایا پھر نیب نےکارروائی 12مارچ تک ملتوی کردی، میر شکیل الرحمان نے نیب سے سوالات دینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ میر شکیل نے نیب حکام سے تعاون کیا لیکن 12 مارچ کو پیش ہونے پر چیئرمین نیب نے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے، تفتیش مکمل ہونے سے قبل ورانٹ گرفتاری جاری کیے گئے، میرشکیل کےخلاف نیب لاہورمیں تفتیش ہورہی تھی، ورانٹ کراچی سےجاری ہوئے، عدالت نےریمانڈ آرڈر میں ریمانڈ کی وجوہات نہیں لکھیں۔
اعتزاز احسن نے استدعا کی کہ احتساب عدالت کا میر شکیل کا جسمانی ریمانڈ دینے کا حکم غیر قانونی قرار دے کرکالعدم قرار دیا جائے، میر شکیل کی نیب میں گرفتاری اور حراست کو بھی غیر قانونی قرار دے کر مقدمہ خارج کیا جائے۔
انہوں نے کہ مزید استدعا کی کہ میر شکیل الرحمان کی گرفتاری کو نیب پالیسی 2019ء سے متصادم اور نیب کے دائرہ اختیار سے تجاوز قرار دیا جائے، ان کو حوالات سے باہر چہل قدمی کی اجازت، روزانہ اخبار دینے، اہلخانہ اور وکلاء سے ملاقات کروانے کا بھی حکم دیا جائے۔ان کا عدالت سے کہنا تھاکہ میر شکیل الرحمان کو گھر کا کھانا فراہم کرنے اور میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا بھی حکم دیا جائے۔
واضح رہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) نے 12 مارچ کو 34 برس قبل مبینہ طور پر حکومتی عہدے دار سے غیرقانونی طور پر جائیداد خریدنے کے کیس میں جنگ گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمان کو حراست میں لیا تھااور پھر اگلے ہی روز احتساب عدالت سے ان کا جسمانی ریمانڈ منظور کروا لیا تھا۔
ترجمان جنگ گروپ کے مطابق یہ پراپرٹی 34 برس قبل خریدی گئی تھی جس کے تمام شواہد نیب کو فراہم کردیے گئے تھے جن میں ٹیکسز اور ڈیوٹیز کے قانونی تقاضے پورے کرنے کی دستاویز بھی شامل ہیں۔ترجمان جنگ گروپ کا کہنا ہے کہ میر شکیل الرحمان نے یہ پراپرٹی پرائیوٹ افراد سے خریدی تھی، میر شکیل الرحمان اس کیس کے سلسلے میں دو بار خود نیب لاہور کے دفتر میں پیش ہوئے، دوسری پیشی پر میر شکیل الرحمان کو جواب دینے کے باوجود گرفتار کر لیا گیا، نیب نجی پراپرٹی معاملے میں ایک شخص کو کیسےگرفتار کر سکتا ہے؟ میر شکیل الرحمان کوجھوٹے، من گھڑت کیس میں گرفتارکیاگیا، قانونی طریقے سے سب بےنقاب کریں گے۔
