نیب کی 22اپریل کو عدم پیشی پر شہباز شریف کو سخت وارننگ

قومی احتساب بیورو ( نیب ) نے شہباز شریف کو وارننگ جاری کردی اورمسلم لیگ نون کے صدر شہباز شریف کے آمدن سے زائد اثاثے اور منی لانڈرنگ کیس پر نیب نے جاری اعلامیے میں کہا ہے کہ شہباز شریف نیب کے ساتھ تعاون نہیں کر رہے، عدم تعاون پر قانونی راستہ اپنانے کا حق موجود ہے۔ اگر وہ 22 اپریل کو پیش نہ ہوئے تو قانون اپنا راستہ اپنائے گا.
قومی احتساب بیورو ( نیب ) نے اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کو پیشی کے نوٹس کے بعد تنبیہ کا بیان بھی جاری کردیا ہے، گزشتہ روز شہباز شریف کو 22اپریل کو پیش ہونے کیلئے نوٹس بھجوایا تھا۔
نیب کا کہنا ہے کہ کہ 22 اپریل کوشہباز شریف پیش نہ ہوئے توقانون اپنا راستہ اپنائےگا ، شہبازشریف کو نوٹس آمدن سے زائد اثاثہ جات اور منی لانڈرنگ کیس میں بھجوایا گیا ، کوروناوائرس سےبچاؤ کیلئے نیب میں تمام حفاظتی انتظامات موجود ہیں۔
شہباز شریف کی طلبی کے حوالے سے نیب نے اعلامیہ جاری کردیا، جس میں کہا گیا کہ شہباز شریف کو امدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں 17اپریل کو طلب کیا تھا، شہباز شریف کرونا وبا کا عذر پیش کر کے نیب میں پیش نہیں ہوئے، نیب نے انہیں 22 اپریل کو بارہ بجے دوبارہ طلب کیا ہے، شہباز شریف کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ پیشی کے موقع پر مکمل خفاظتی اقدامات اپنائے جائیں گے۔
نیب اعلامیے میں کہا گیا کہ قومی احتساب بیورو لاہور میں سابق وزیرِ اعلی پنجاب شہباز شریف کیخلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات اور مبینہ منی لانڈرنگ کے کیس میں جاری تحقیقات کے حوالے سے انہیں 17 اپریل کو ذاتی حیثیت میں نیب انویسٹی گیشن ٹیم کے روبرو پیش ہونے کی ہدایت کی گئی تھی جس کے لئے ادارے کی پالیسی کے تحت انہیں باقاعدہ مفصل سوالنامہ بھی ارسال کیا گیا تھا، نیب لاہور کو مذکورہ کیس منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے ان سے مفصل و جامع جوابات درکار ہیں کیونکہ ان کے خلاف تحقیقات آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہیں تاہم قومی ادارے کو انکی جانب سے تحقیقات میں تاحال عدم تعاون کا سامنا ہے۔
نیب لاہور نے شہباز شریف کو آمدن سے زائد اثاثہ جات میں پیش ہونے کا آخری موقع دے دیا ہے، اثاثہ جات انکوائری حتمی مراحل میں ہے ، شہباز شریف سے انکوائری کرنا ضروری ہے، شہباز شریف 17 اپریل کو پیش نہیں ہوئے انہیں 22 اپریل کا نوٹس جاری کیا گیا ہے۔شہباز شریف کی پیشی پر سماجی فاصلوں سے متعلق جاری ہدایت پر عمل کیا جا رہا ہے،ادارے کے ساتھ عدم تعاون کی صورت پر نیب قانونی راستہ اپنانے پر حق بجانب ہوگا۔
