نیب کے بعد ایف آئی اے بھی شریف خاندان کے خلاف متحرک

نیب کے بعد وفاقی تحقیقاتی ایجنسی ایف آئی اے بھی شریف خاندان کے خلاف متحرک ہو گئی ہے. شریف خاندان کے خلاف متعدد کیسز میں ایف آئی اے نے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے. ذرئاع کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے شریف خاندان کے ملکیتی ملز العریبیہ، رمضان، شریف فیڈ اور ڈیری ملز کے خلاف تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ ایف آئی اے نے حمزہ شہباز کا جیل میں بیان ریکارڈ کرنے کے لیے احتساب عدالت سے اجازت بھی حاصل کرلی ہے۔
ذرائع کے مطابق ایف آئی اے نے شریف خاندان کی ملکیت ،العریبیہ شوگر ملز،رمصان شوگر ملزاور شریف فیڈ اور ڈیری ملز کے خلاف تحقیقات شروع کردی ہیں۔ ایف آئی اے نے پنجاب میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کا جیل میں بیان ریکارڈ کرنے کےلیے احتساب عدالت سے رجوع کیا جس کے بعد اسے حمزہ شہباز کا جیل میں بیان ریکارڈ کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ایف آٸی اے اینٹی کرپشن سرکل لاہور نے جیل میں بیان ریکارڈ کرنے کی اجازت طلب کی تھی۔ درخواست میں ایف آئی اے نے موقف اختیار کیا تھا کہ حمزہ شہباز العربیہ ، رمضان شوگر مل سمیت دیگر کمنیوں کے ڈاٸریکٹر ہیں۔کیس کی تفتیش میں حمزہ شہباز کا بیان انتہاٸی اہمیت کا حامل ہے۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ حمزہ شہباز اس وقت جیل میں قید ہیں جہاں ان کا بیان ریکارڈ کرنے کی اجازت دی جاٸے۔ واضح رہے کہ حمزہ شہباز آمدن سے زائدہ اثاثوں اور منی لانڈرنگ کے معاملات میں پہلے ہی زیر حراست ہیں۔
دوسری طرف ایف آئی اے ذرائع نے سابق وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف کے چھوٹے بیٹے سلمان شہباز کے ملازمین کے بینک اکاؤنٹس میں 9.5 ارب روپے کی موجودگی کا دعویٰ کیاہے۔ ذرائع کے مطابق ملازمین رمضان شوگر مل اور العریبیہ شوگر مل میں کام کرتے ہیں۔ ایف آئی اے نے ان اکاؤنٹس کی تفصیلات مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو فراہم کر دی ہیں۔ایف آئی اے ذرائع کے مطابق سلمان شہباز کے چپڑاسی مقصود کے بینک اکاؤنٹ میں 2.3 ارب روپے کا انکشاف ہوا۔ مقصود چپڑاسی نے ان پیسوں سے ڈیڑھ کروڑ روپے کی ایک قیمتی مرسڈیذ کار بھی خریدی جبکہ شبیر قریشی کلرک کے اکاؤنٹ میں ایک ارب، رانا وسیم کے اکاؤنٹ میں 24 کروڑ، اقرار کے اکاؤنٹ میں 64 کروڑ، تنویر الحق کلرک کے اکاؤنٹ میں 52 کروڑ، خضر حیات اکاؤنٹ کلرک کے اکاؤنٹ میں 1.2 ارب روپے، توقیر الدین کے اکاؤنٹ میں 45 کروڑ روپے جمع کروائے گئے اور کچہ رقم نکلوائی بھی گئی۔
ایف آئی اےبینکنگ کرائم سرکل لاہور نے ان خفیہ بینک اکاؤنٹس کا سراغ لگایا اور معلومات مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے فراہم کر دی ہیں جبکہ اس سلسلے میں ایف ائی اے کے بینکنگ کرائم سرکل نے تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا اور تمام بینکوں سے ان ملازمین کے نام پر خفیہ اکاونٹ کی تفصیلات طلب کی ہیں جبکہ اسی کیس میں سکیورٹی ایکسچینج کمیشن اف پاکستان ایس ای سی پی سے ملازمین کے نام پر کمپنیوں کی تفصیلات بھی طلب کرلی گئی ہیں۔
یہ تفصیلات ملنے کے بعد ایک مکمل رپورٹ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو فراہم کر دی جائیں گی۔ بعدازاں ایف آئی اے کمبائن انوسٹی گیشن ٹیم نے آج شریف فیملی کے ملازمین کو تحقیقات کے لئے طلب کر رکھا تھا۔تحقیقاتی ٹیم کے سامنے العربیہ شوگر ملز کے ملازمین پیش ہوئے۔ انہوں نے اپنے بنک اکاؤنٹ میں موجود اربوں روپے کی رقم بارے تحقیقاتی ٹیم کو بیان ریکارڈ کروایا۔ملازم رانا وسیم. اقرار، تنویر الحق و دیگر ملازمین ایف آئی اے میں پیش ہوئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button