نیب کے عقوبت خانوں میں اب تک کتنے لوگ قتل ہو چکے ہیں؟


پاکستان کے چوتھے فوجی ڈکٹیٹر جنرل مشرف کے دور میں سیاسی مخالفین کو سبق سکھانے کے لیے قائم کیے گئے ادارے نیب کے عقوبت خانے اب نازی دور کی قتل گاہیں بنتے جا رہے ہیں جہاں درجنوں اسیر اب تک جان کی بازی ہار چکے ہیں لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں.
سپریم کورٹ اور دیگر اعلیٰ عدالتیں بھی نیب کی بربریت کے خلاف رولنگ دے چکی ہیں لیکن اب بھی یہ سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر کون نیب کے عقوبت خانوں کو بند کروائے گا یا پھر نیت کی حراست میں ماورائے عدالت جان کی بازی ہارنے والوں کی فہرست یونہی طویل ہوتی جائے گی۔ ملک کی اصل حکمران اسٹیبلشمنٹ کی مرضی کی سیاسی انجنیئرنگ اور مخالف رہنماؤں کو سبق سکھانے کے لیے بنائے جانے والے نام نہاد احتساب کے ادارے نیب پر صرف ملک کے اندر ہی نہیں بلکہ عالمی فورمز پر بھی ہمیشہ سے اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔ حال ہی میں عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے بھی یہ کہہ دیا ہے کہ نیب کا ادارہ سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے اور لوگوں کی عزت اچھالنے کا کام کر رہا ہے اور اس کا بے لاگ احتساب سے کوئی لینا دینا نہیں۔
تاہم تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ نیب صرف لوگوں کو ہراساں کرنے اور تشدد کرنے میں ہی ملوث نہیں بلکہ اسکے عقوبت خانوں میں درجن بھر افراد زندگی کی بازی بھی ہار چکے ہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر افسوس ناک بات یہ ہے کہ اس قبیح جرم کے مرتکب کسی نیب اہلکار یا افسر کو آج دن تک سزا نہیں مل سکی۔ سزا بھی دور کی بات آج دن تک کسی بھی بھی شخص کی نیب کی حراست میں موت کا مقدمہ بھی درج نہیں ہوسکا۔
17 اگست 2020 کے روز اومنی گروپ کے چیف فنانشل آفیسر اسلم مسعود بھی نیب کی زیر حراست دم توڑ گئے جنہیں طویل عرصہ تک نیب کی حراست میں رکھے جانے کے بعد جان لیوا حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کا انتقال ہوگیا۔
خیال رہے کہ اسلم مسعود کو اومنی گروپ کے خلاف وعدہ معاف گواہ بنا کر سعودی عرب سے پاکستان لایا گیا تھا۔ تاہم ان کے ساتھ نیب حراست میں جو ناروا سلوک روا رکھا گیا وہ انکی موت پر منتج ہوا۔ اسلم مسعود کے گھر والوں نے بھی ان کی موت کا ذمہ دار قومی احتساب بیورو کے اعلیٰ افسران کو قرار دیا ہے لیکن اب تک کسی کے خلاف نہ تو کوئی مقدمہ درج کیا گیا ہے اور نہ ہی کسی قسم کی کوئی قانونی کاروائی کی گئی ہے۔ اس سے قبل آئی ایس آئی سے وابستہ رہنے والے بریگیڈیئر ریٹائرڈ اسد منیر نے نیب کی جانب سے مسلسل ہراساں کیے جانے سے تنگ آ کر 16 مارچ 2019 کو خودکشی کرلی تھی۔
نیب کی بربریت اور سفاکیت کا نشانہ بننے والوں میں ملک کے ممتاز ماہر تعلیم اور انٹرنیشنل ریلیشنز کے ایکسپرٹ سابق وائس چانسلر بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی ملتان پروفیسر ڈاکٹر طاہر امین بھی شامل ہیں۔ پروفیسر طاہر نے نیب کی جانب سے سے نفسیاتی تشدد سے تنگ آ کر اپنی جان لینے کی کوشش کی تاہم ان کی یہ کوشش کامیاب نہ ہوسکی۔ مگر کچھ ہی عرصہ بعد نیب کی حراست میں 5 اپریل 2019 کو دل کا دورہ پڑنے کے باعث پروفیسر طاہر جہان فانی سے کوچ کر گئے۔ لیکن نیب کے نازی طرز پر بنائے گے عقوبت خانوں کی کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔ یونیورسٹی آف سرگودھا لاہور کیمپس کے مالک میاں جاوید احمد کی موت نیب حراست میں جن حالات میں ہوئی، اسے دیکھ کر ہر کسی نے کانوں کو ہاتھ لگائے۔ پوری دنیا نے دیکھا کہ طبیعت بگڑنے پر جب میاں جاوید کو اسپتال منتقل کیا اس وقت بھی ان کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں تھیں۔ اسی کسمپرسی کی حالت میں 22 دسمبر 2018 ان کی روح پرواز کر گئی۔ مرحوم کی ڈیڈ باڈی کی تصاویر وائرل ہونے پر ایک شور برپا ہو گیا تاہم کسی بھی ذمہ دار شخص کے خلاف کسی قسم کی کوئی کاروائی نہیں ہوئی اور نیب کے جابرانہ ہتھکنڈوں میں کوئی کمی نہ آ سکی۔ اپریل 2019 میں سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی عبدالرشید کے بیٹے محمد ناصر شیخ بھی نیب کی حراست میں جان کی بازی ہار گئے۔ اسی طرح ڈپٹی ڈائریکٹر ریونیو ایل ڈی اے محمد سلیم 25 دسمبر 2018 کو، کے ڈی اے آفیسر عبدالقوی خان 3 اپریل 2017 کو اور نندی پور پاور پراجیکٹ کیس میں گرفتار ہونے والے قیصر عباس یکم ستمبر 2019 کو نیب کی حراست میں پراسرار طور پر انتقال کرگئے۔ بوگس ہاؤسنگ سکیم کے الزام میں گرفتار ہونے والے ایڈوکیٹ ظفر اقبال 86 دن نیب کی حراست میں رہنے کے بعد 6 جون 2020 کو پراسرار حالات میں بے ہوشی کی حالت میں ہسپتال پہنچ کر جان کی بازی ہار گئے۔
سٹاک ایکسچینج کرپشن کیس میں نیب کی جانب سے حراست میں لیے جانے والے راجہ آصف بروقت علاج معالجہ نہ ہونے کی وجہ سے 17 مارچ 2019 کو احتساب بیورو کی تحویل میں خالق حقیقی سے جا ملے۔ سندھ حکومت کے ورکس اینڈ سروسز ڈیپارٹمنٹ سے بطور ایگزیکٹیو انجینیئر منسلک اعجاز میمن کو پہلے سکھر سنٹرل جیل میں رکھا گیا تھا۔ بعد ازاں31 مئی 2020 کو وہ بھی نیب کی حراست میں چل بسے۔ کامرس ایمپلائز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے چیئرمین چوہدری ارشد کو بھی نیب کے عقوبت خانے میں 7 اگست 2018 کو مردہ قرار دے دیا گیا۔ لیکن نیب کے عقوبت خانوں میں لوگوں کو جان سے مارنے کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔
دوسروں کی پگڑیاں اچھالنے والے اور دوسروں کو بےعزت کرکے لذت حاصل کرنے والے نیب کی اپنی عزت اس وقت تار تار ہو گئی جب خواجہ برادران کے خلاف پیراگون کرپشن کیس میں سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے میں یہاں تک لکھ دیا گیا کہ نیب ملک کی کوئی خدمت نہیں کر رہا بلکہ ملک و قوم کی بدنامی کا سبب بن رہا ہے، یہ ادارہ روزِ اول سے متنازع ہے اور اس کا تصور ہی بدگمانی اور شکوک سے بھرا پڑا ہے، سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ یہ ادارہ صرف سیاسی مخالفین کو دبانے اور اُنہیں نشانہ بنانے کے لیے بطور ہتھیار استعمال ہوتا ہے، اسے سیاسی جوڑ توڑ کے لیے کھلے عام سے استعمال کیا جا رہا ہے، نیب وفاداریاں تبدیل کرانے، فیصلے میں یہ بھی لکھا گیا کہ نیب سیاسی جماعتوں کو توڑنے، مخالفین کا بازو مڑورنے اور انہیں سبق سکھانے کے لیے استعمال ہوتا ہے، اس کا احتساب یکطرفہ ہے۔ ایک طرف مخالفین کو برسوں، مہینوں جیل میں سڑا دیا جاتا ہے تو دوسری طرف اہنوں کو بڑے بڑے مالی الزامات پر بھی کچھ نہیں کہا جاتا، عدالت نے قرار دیا کہ عوام کی نظر میں نیب کی ساکھ مجروع ہو چکی، نیب جو بدنامی کما رہا ہے اُس کا دائرہ سرحد پار تک پھیل چکا ہے، سزا کے بغیر لوگوں کو قید میں ڈال دیا جاتا ہے، قید کیے گئے لوگوں اور اُن کے خاندان کے افراد کی توہین کی جاتی ہے، اُنہیں اذیت دی جاتی ہے، بدنام کیا جاتا ہے، عدالت نے کہا کہ ٹرائل سے پہلے یا دورانِ ٹرائل کسی کو قید میں ڈلنا بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہے اور اذیت کا باعث ہے، اگر اس ادارے کو گرفتاری کا اختیار حاصل ہے تو اس اختیار کو ظلم اور ہراسانی کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہئے۔
سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ نیب سیاسی تقسیم کے ایک جانب کے مالی اسکینڈلز میں ملوث لوگوں کے خلاف کارروائی سے ہچکچاتا ہے جبکہ دوسری جانب کے لوگوں کو گرفتار کر کے بغیر کسی معقول جواز اور ثبوت کے مہینوں اور برسوں کے لیے جیل میں ڈال دیتا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ سزا سے پہلے ہی کسی شخص کو قید میں ڈال دینا اُس کی بہت بڑی تذلیل اور بےعزتی ہے، ایک شخص کی گرفتاری سے نہ صرف وہ شخص بلکہ اس کا خاندان اور متعلقہ افراد بھی متاثر ہوتے ہیں، اُن کی شہرت کو نقصان پہنچتا ہے، معاشرہ میں اُن کے خلاف نفرت پیدا ہوتی ہے اور اُنہیں تلخ ترین تنقید کا نشانہ بننا پڑتا ہے۔
لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اپنی تمام تر خرابیوں اور شر کے باوجود نیب یونہی چل رہا ہے اور اتنا خراب ہو چکا ہے کہ اب یہ توقع رکھنا بےکار ہے کہ اس کو چلانے والے سدھر جائیں گے اور ایمانداری سے کام شروع کر دیں گے، یہ بھی ناممکن ہے کہ نیب کے کرتا دھرتا کوئی بیرونی دباؤ قبول نہیں کریں گے، اخلاقی جرات کا اظہار کریں گے اور مخالفین کی عزتوں کو نہیں اُچھالیں گے۔ تجزیہ نگاروں کا موقف ہے کہ یا تو نیب کو ختم کیا جانا چاہئے یا پھر اس کے ڈریکونین اختیارات کو ختم کیا جانا چاہئے جن کی وجہ سے یہ ادارہ بلا روک ٹوک اپنے عقوبت خانے چلا رہا ہے اور انسانی جانوں سے کھیل رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button