نیپرا نے ملک میں جاری لوڈشیڈنگ کا نوٹس لے لیا

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے ملک بھر میں جاری اضافی لوڈ شیڈنگ کا نوٹس لے لیا ہے اور بجلی کی تمام تقسیم کار کمپنیوں سے غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ پر وضاحت طلب کی ہے۔ نیپرا اعلامیے کے مطابق تمام ڈسکوز بشمول کے الیکٹرک سمیت بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے سی ای اوز کو جمعے کو طلب کیا گیا ہے۔نیپرا کا کہنا ہےکہ تمام تقسیم کار کمپنیاں صارفین کو بلا تعطل بجلی فراہم کرنے کی پابند ہیں۔
دوسری جانب ملک میں بجلی کا بحران شدید ہو گیا۔ متعدد علاقوں میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے۔ عوام لوڈشیڈنگ کے خلاف سراپا احتجاج ہے۔ اس حوالے سے وزارت توانائی کا کہنا ہے کہ ملک میں بجلی کا عارضی شارٹ فال تربیلا سے کم پانی کے اخراج کی وجہ سے ہے۔ وزارت توانائی کے مطابق پانی کےکم اخراج کی وجہ سے 3 ہزار میگاواٹ کم بجلی پیدا ہورہی ہے تاہم آنے والے دنوں میں بجلی کی پیداوار بڑھ جائے گی۔ وزارت توانائی کا کہنا ہے کہ ملک کی مجموعی بجلی کی طلب 24100 میگاواٹ ہے اور سسٹم میں موجود بجلی کی پیداوار 22600 میگاواٹ ہے، اس طرح بجلی کا شارٹ فال 1500 میگاواٹ ہے۔وزارت توانائی کے مطابق تربیلا، منگلا سے 3300 میگاواٹ کم بجلی پیدا ہورہی ہے اور کچھ دنوں میں یہ بجلی بحال ہو جائے گی۔ وزارت توانائی نے بجلی صارفین سے عارضی لوڈمینجمنٹ پر معذرت کرتے ہوئے گزارش کی ہے کہ بجلی کے استعمال میں اعتدال اپنائیں۔
دوسری جانب گزشتہ روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں لوڈشیڈنگ کے معاملے پر حکومتی رکن نور عالم خان اپنے ہی وفاقی وزیر برائے توانائی حماد اظہر پر برس پڑے۔ قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے نور عالم خان نے کہا کہ حماد اظہر کو پتہ ہی نہیں کہ ملک میں کتنی لوڈ شیڈنگ ہے، آٹھ نہیں 22 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہورہی ہے، لوگوں کو کیا جواب دیں؟ انہوں نے کہا کہ بجلی جاتی ہے تو لوگ ہمیں گالیاں دیتے ہیں، آٹا سستا کریں، بجلی سستی کریں ایسے کام نہیں چلے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بجلی کا ادراہ اتنا مقروض ہے تو ملازمین کو بجلی مفت کیوں فراہم کی جارہی ہے؟ شہر میں بجلی نہیں تھی لیکن ایکسین آفس گیا تو وہاں تین تین اے سی چل رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اگر صورت حال پر قابو نہیں پایا گیا تو مل کر احتجاج کریں گے۔
