(ن) لیگ سمیت اپوزیشن کی 5 جماعتوں کا سینیٹ میں الگ بلاک بنانے کا فیصلہ

پاکستان مسلم لیگ (ن) اور جمعیت علمائے اسلام (ف) سمیت اپوزیشن کی 5 جماعتوں نے سینیٹ میں الگ بنانے کا فیصلہ کر لیا۔
پی ڈی ایم میں شامل 5 جماعتوں کے رہنماؤں کا اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن)، جمعیت علماء اسلام (ف)، پختونخوا ملی عوامی پارٹی، نیشنل پارٹی اور بی این پی (مینگل) نے سینیٹ میں27 سینیٹرز پر مشتمل الگ اپوزیشن بلاک بنانے کا فیصلہ کیا ہے جس کی قیادت سینیٹر اعظم تارڑ کو سونپنے پر اتفاق کیا گیا۔شرکا نے عیدالفطر سے قبل سربراہی اجلاس طلب کرنے پر بھی اتفاق کیا اور طے کیا کہ مولانا فضل الرحمن کی طبعیت بہتر ہونے پر سربراہی اجلاس طلب کیا جائے گا۔
آٹھ جماعتوں نے پیپلز پارٹی اور اے این پی کو اظہار وجوہ کا نوٹس دینے پر بھی اتفاق کیا اور فیصلہ کیا کہ انہیں ایک موقع دیا جائے گا اس کے بعد پی ڈی ایم سے خارج کردیا جائے گا جب کہ نوٹسز کے اجرا کے لیے پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمان سے رجوع کیا جائے گا۔شرکا نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ’باپ‘ سے ووٹ کیوں لیا؟ حکومت سے اشتراک عمل کیوں کیا؟ پی ڈی ایم سربراہ پیپلز پارٹی اور اے این پی سے وضاحت طلب کریں کہ انہوں نے پی ڈی ایم کے اصولوں اور فیصلوں کی خلاف ورزی کیوں کی؟ سینیٹ میں موجود پی ڈی ایم کی پانچ جماعتیں توقع کرتی ہیں کہ پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمن دونوں جماعتوں سے باضابطہ وضاحت مانگیں گے۔
یاد رہے کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے پی ڈی ایم کے فیصلے کے برخلاف سینیٹ میں یوسف رضا گیلانی کو قائد حزب اختلاف بنائے جانے پر پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا جس کے بعد اب ان دونوں جماعتوں کو اظہار وجوہ کے نوٹسز جاری کیے جارہے ہیں۔
بعد ازاں مسلم لیگ (ن) کے سینیٹ میں پارلیمانی لیڈر اعظم نذیر تارڑ نے اپنے بیان میں کہا کہ (ن) لیگ سمیت 5 جماعتوں نے سینیٹ میں 27 اپوزیشن سینیٹرز کا الگ بلاک بنانے پر اتفاق کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن)، جمعیت علمائے اسلام (ف)، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی، نیشنل پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) مینگل نے سینیٹ میں الگ اپوزیشن بلاک بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ اسلام آباد میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) میں شامل 5 جماعتوں کے سینیٹ میں رہنماؤں کے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کیا گیا۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) سے وضاحت طلب کرنے کے لیے صدر پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمٰن سے رجوع کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم سربراہ سے کہا جائے گا کہ وہ پی پی پی اور اے این پی سے وضاحت طلب کریں کہ پی ڈی ایم کے اصولوں اور فیصلوں کی خلاف ورزی کیوں کی؟ بلوچستان عوامی پارٹی(باپ) سے ووٹ کیوں لیا؟ حکومت سے اشتراک عمل کیوں کیا؟انہوں نے کہا کہ سینیٹ میں پی ڈی ایم کی 5 جماعتیں توقع کرتی ہیں کہ مولانا فضل الرحمٰن، پی پی پی اور اے این پی سے باضابطہ وضاحت مانگیں گے۔
یاد رہے کہ دو روز قبل پاکستان مسلم لیگ (ن) اور جمعیت علمائے اسلام نے سینیٹ میں یوسف رضا گیلانی کو اپوزیشن لیڈر ماننے سے انکار کرتے ہوئے اپنا الگ قائد حزب اختلاف لانے کے لیے حکمت عملی اپنانے پر اتفاق کرلیا تھا۔پی ڈی ایم کے سیکریٹری جنرل و (ن) لیگ کے سینیئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی نے جے یو آئی (ف) کے سیکریٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری سے ملاقات کی تھی جس میں سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کی نامزدگی کے بعد کے حالات پر مشاورت کی گئی اور دونوں رہنماؤں نے یوسف رضا گیلانی کو قائد حزب اختلاف نہ ماننے پر اتفاق کیا۔دنوں رہنماؤں میں اتفاق ہوا کہ سربراہی اجلاس بلا کر آئندہ کی حکمت عملی طے کرنی چاہیے اورپی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کو اپنا قائد حزب اختلاف لانے کے لیے حکمت عملی طے کرنی ہوگی۔
واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی درخواست پر چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے 26 مارچ کو اپوزیشن لیڈر کے لیے یوسف رضا گیلانی کے نام کا اعلان کردیا تھا۔اس کے بعد پیپلز پارٹی اور پی ڈی ایم کی دیگر جماعتوں میں شدید اختلافات پیدا ہوگئے تھے۔
