ن لیگ نے حکومتی اینٹی اسٹیٹ ایکٹرز رپورٹ مسترد کر دی

مسلم لیگ (ن) نے حکومت کی اینٹی اسٹیٹ ایکٹرز سے متعلق رپورٹ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ رپورٹ انتہائی گمراہ کن پروپیگنڈا اور ہیش ٹیگس پر مشتمل ہے عمراں خان کی حکومت فاشسٹ ہے، امید ہے عدلیہ ان رپورٹس کا سوموٹو ایکشن لے گی۔
مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکریٹریٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ایک وزیر اور نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر نے کل پریس کانفرنس کی، 135 صفحات کی جو رپورٹ وہ لے کر آئے خود انہوں نے نہیں پڑھی، یہ رپورٹ ڈیجیٹل میڈیا ونگ وزارت اطلاعات نے تیار کی ہے اور رپورٹ کا عنوان ہے”ریاست دشمن بیانات“۔انہوں ںے کہا کہ یہ رپورٹ جون 19 سے اگست 22 تک ہے، ریاست دشمنوں میں اسرائیل اور ہندوستان کا نام لیا گیا جس میں شک نہیں، بلوچ علیحدگی پسندوں کا نام لیا گیا وہ بھی یقیناً ملک کے خلاف کام کر رہے ہیں لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ملک کی سیاسی جماعتیں جو عوام کی پارلیمنٹ میں نمائندگی کرتی ہیں انہیں بھی اینٹی اسٹیٹ قراردیا گیا۔
شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ نام نہاد جمہوری حکومت جو چوری شدہ الیکشن کے نتیجے میں وجود میں آئی وہ سیاست دانوں، صحافیوں، محب وطن لوگوں کو ریاست دشمن کہے تو باقی کیا رہ جاتا ہے؟ کسی مارشل لا میں اتنے صحافی نہیں اٹھائے گئے جتنے اس حکومت میں اٹھائے گئے، عوام کی آواز دبانے کی ایسی کوشش کسی دور میں نہیں ہوئی۔
مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے کارکنوں پر بھارتی میڈیا وار کا حصہ بننے کا الزام لگانے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہر مارشل لا دور میں سیاسی جماعتوں کو ریاست دشمن کہا گیا، اب نام نہاد حکومت بھی وہی کچھ کر رہی ہے۔ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل میڈیا سے متعلق ایک رپورٹ آئی ہے حکومتی میڈیا ونگ نے جاری کیا ہے۔ مفروضے کی بنیاد پر 135 صفحات کی رپورٹ تیار کی گئی۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ رپورٹ میں ایشیا، مڈل ایسٹ کے نقشے میں کشمیر کو بھارت کا حصہ دکھایا گیا۔ کیا وزرا نے اس رپورٹ کو پڑھا تھا؟ یہ ڈیٹا کینیڈا کی کمپنی سے لیا گیا جس نے اس سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا ہے۔ اہلیت ہوتی تو اپنے ملک سے ڈیٹا اکٹھا کرتے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی جاری کردہ رپورٹ میں زیادہ تر سیاستدانوں کا تذکرہ ہے۔ ڈیٹا اکٹھا کرکے رپورٹ تیار کی گئی۔ نام نہاد حکومت نے خود رپورٹ پڑھی ہی نہیں ہے۔ کرپشن اور نااہلی کی بات کریں تو نیشنل سیکیورٹی کا ایشو بن جاتا ہے۔ کیا مہنگائی اور حکومتی کارکردگی کے خلاف بولنا جرم ہے؟ان کا کہنا تھا کہ حکومت جھوٹ بولنے میں مہارت رکھتی ہے۔ حکومت کیخلاف بولنے والے کو ریاست دشمن کہا جاتا ہے۔ حکومتی پالیسیوں سے پاکستان تنہا ہو چکا ہے۔ حکومت کا مقصد ملکی حالات سے توجہ ہٹانا ہے۔ رپورٹس، ٹویٹس اور جھوٹ بولنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئے ایسی باتیں کی جا رہی ہیں۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ انتہائی گمراہ کن اور غیر معتبر رپورٹ ہے۔ اگر ہم نے ریاست مخالفت کا اندازہ لگانا ہے تو وزیراعظم نے ایران میں کہا تھا کہ پاکستان کی طرف سے در اندازی ہوتی ہے، کیا یہ ریاست مخالف بیان نہیں ہے؟ کونسل فار فارن ریلیشن میں عمران خان نے کہا تھا کہ پاکستان کی آرمی نے القاعدہ کو ٹریننگ دی، اگر یہ ریاست مخالف بیان نہیں تو کس کو کہیں گے؟ خرم دستگیر نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور وہ جماعتیں جو آئین کی عمل داری کا مطالبہ کرتی ہیں وہ ریاست مخالف نہیں، بنیادی شہری حقوق کی بات کرنا ریاست مخالفت نہیں، ریاست مخالفت تو عمران حکومت ہے۔خرم دستگیر نے کہا کہ پاکستان کی رٹ کو چیلنج کرنے والے تو دندناتے پھر رہے ہیں۔ آئین پر عملداری کرنے والوں کو ریاست مخالف کہا جا رہا ہے۔ آئین پاکستان پر عملداری کا مطالبہ ریاست مخالف نہیں ہے
رانا ثنااللہ نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ فوری طور پر افغان صورتحال پر پارلیمنٹ کا اجلاس ہو، مشترکہ اجلاس کو افغانستان کے بارے میں آگاہ کیا جائے۔

Back to top button