مسلم لیگ نون کا صدر بن کر نوازشریف مزاحمتی بیانیہ اپنانے سے گریزاں؟

مسلم لیگ نون کے قائد میاں نواز شریف پارٹی کے بلا مقابلہ صدر منتخب ہو گئے ہیں۔ انہوں نے صدارت کے منصب سنبھالتے ہی اپنی پہلی تقریر میں اپنے روایتی انداز کو برقرار رکھا اور ماضی میں اپنی حکومتوں کو گرائے جانے پر سوال پوچھتے نظر آئے۔نواز شریف سے جس مزاحمتی بیان کی بعض حلقوں کی توقع تھی پوری نہیں ہوئی۔ تاہم نواز شریف نے خطاب میں اپنے دور کے کارنامے گنوائے اور اس دور کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ پر تنقید بھی کی۔

نواز شریف نے اپنی تقریر میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار، سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ظہیر الاسلام اور بانی چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور انھیں 2017 میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں اپنی حکومت ختم کرنے کا ذمہ دار بھی قرار دیا۔ان کی تقریر میں اپنے ماضی کے کارناموں کی جھلک بھی نظر آئی اور ان افراد پر تنقید بھی جن کو وہ اپنی سابقہ حکومت کے ختم ہونے کا سبب سمجھتے ہیں۔ تاہم نواز شریفنےکھل کر مزاحمتی بیانیہ اپنانے سے احراز کیا۔

بعض مبصرین کے مطابق چھ سال کے طویل اور پر آشوب وقفے کے بعد نواز شریف کو اس جماعت کی صدارت واپس ملی ہے جسکے وہ خالق تھے۔ مبصرین کے مطابق اب ان کا مطالبہ پورا کیا جارہا ہے کہ گند لانے والے ہی اسکی صفائی کریں،”ہم اٹھائیس مئی والے ہیں نو مئی والے نہیں ” نواز شریف نے اسے نصب العین کی شکل دیدی ہے، تاہم یہ حقیقت ہے کہ وہ فیشن کے طور پر کسی ادارے سے بھڑ جانے کا ہرگز ارادہ نہیں رکھتے،معاشی استحکام راہ میں روڑا بننے والے کو آہنی قدم سے ہٹایا جائے گانواز شریف ہفتے عشرے میں اپنے ملک گیر دورے کے نظام الاوقات کا اعلان کرینگے جس کی شروعات کراچی سے ہوگی ،ر صدر مسلم لیگ ن اپنے دستور العمل کا اعلان قائد کی مرقد کے پہلو میں کھڑے ہو کر کرینگے۔

مبصرین کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کی صدارت سنبھالنے کے بعد سابق وزیراعظم نواز شریف سے جس مزاحمانا بیان کی بعض حلقوں کو توقع تھی وہ پوری نہیں ہو سکی بلکہ انہیں خطاب سے مایوسی ہوئی ہے

سینئر صحافی و تجزیہ کار، شہزاد اقبال نے کے مطابق نواز شریف کے صدارت سنبھالنے کے باوجود مجھے کچھ زیادہ فرق نظر نہیں آرہا کہ مسلم لیگ ن کی سیاست میں کچھ بہت زیادہ تبدیلی آئے گی کیونکہ پنجاب کی سیاست میں مقبولیت اسی وقت ملتی ہے جب اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ لے کر چلتے ہیں ۔جب آپ کی بیٹی وزیراعلیٰ اور بھائی وزیراعظم ہو تو آپ اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ نہیں بناسکتے۔

تاہم سینئر صحافی و تجزیہ کار، مظہر عباس کا کہنا ہے کہ ماضی میں نواز شریف کا پارٹی پر جو کنٹرول رہا ہے وہ آج بھی نظر آتا ہے۔ تاہم دیکھنا یہ ہے کہ پارٹی صدر بننے کے بعد وہ مسلم لیگ ن کی سیاست کا کیا نیا انداز لے کر آئیں گے۔ماضی میں ہم نے ان کے بہت سے رنگ دیکھیں ہیں گوجرانوالہ کا رنگ بھی دیکھا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ پارٹی کی سمت کیا سیٹ کرتے ہیں۔ان کی حکومت کو اس وقت سب سے بڑا چیلنج مہنگائی کا ہے۔ اسی لیے ان کی تقریر میں ہمیں جارحیت کی نسبت زیادہ ٹھہراؤ نظر آیا کیوں کہ ان ہی کی حکومت ہے کیوں کہ ان کے بھائی وزیراعظم ہیں۔

بعض سیاسی مبصرین ان کی تقریر پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ تقریر میں نئی بات کوئی نہیں تھی۔

سیاسی تجزیہ کار سلمان غنی کے مطابق ’میرا خیال ہے اب نواز شریف کو ماضی کے حصار سے نکلنا ہو گا۔ ان کی ساری باتیں ٹھیک ہیں، ان کے ساتھ بہت زیادتی ہوئی۔ ان کی حکومتیں گرائی گئیں۔‘انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’اب جن مشکلات کا اس ملک کو سامنا ہے،ان کا حل ماضی کی باتوں میں نہیں ہے ۔ انہیں مستقبل کا قابلِ عمل نقشہ دینا چاہیے اور عوام کو بتانا چاہیے کہ اب ان کی جماعت کیسے پاکستان کو مہنگائی اور بیروزگاری سے باہر نکال رہی ہے۔‘اب وہ پارٹی کے صدر بھی بن چکے ہیں تو اب ساری ذمہ داری ان کی ہے۔‘

نواز شریف کی تقریر پر اپنے تبصرہ کرتے ہوئے سینیئر تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ ’ویسے میاں صاحب کی ساری باتیں پرانی تھیں لیکن جو مجھے محسوس ہوا وہ یہ کہ انہوں نے ایک جج اور ایک سابق جرنیل کا تھوڑا بہت ذکر تو کیا لیکن ان کا ٹارگٹ زیادہ عمران خان نظر آئے۔ اگر ان کے فوکس کی بات کی جائے تو وہ پہلے یوں عمران خان کی طرف نہیں ہوتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ انہیں ایک طویل عرصہ خاموش بھی رہنا پڑا تھا۔ باقی یہ پارٹی ان کی ہے اور یہ منصب بھی ان کا ہے جو انہوں نے واپس لے لیا ہے۔‘

خیال رہے کہ نواز شریف نے اپنی تقریر میں سابق آئی ایس آئی چیف ظہیر الاسلام پر اپنی حکومت کے خلاف سازش کا الزام عائد کیا اور سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔صدر بننے کے بعد انہوں نے اپنی تقریر کے آغاز میں ہی کہا کہ ’آج ان کی پارٹی نے ثاقب نثار کا فیصلہ ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا ہے۔‘

واضح رہے کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے دور میں سپریم کورٹ نے انہیں رکن اسمبلی بننے کے لیے تاحیات نااہل قرار دینے کے ساتھ ساتھ پارٹی کی صدارت کے لیے تاحیات نااہل کر دیا تھا۔

Back to top button