ن لیگ کے تین نڈر لیڈر جوشریف بردران کے برعکس ڈٹے ہوئے ہیں

شریف برادران کی مصلحت کی سیاست کے برعکس چلنے والے شاہد خاقان عباسی، رانا ثناء اللہ اور احسن اقبال تین ایسے انوکھے سیاستدان ہیں جو جھوٹے مقدمات پر جیلوں میں ڈالے جانے کے باوجود رہائی کے بعد پھر سے اپنی اصولی سیاست کا جھنڈا لے کر بڑھے چلے جارہے ہیں۔
اپنی قیادت اور اپنے دیگر کئی ساتھیوں کے طور طریقوں کے برخلاف یہ تین اصول پرست افراد اب بھی اسٹیبلشمنٹ کی لائن لینے کو تیار نہیں اور وہی سیاسی بیانیہ لیکر چل رہے ہیں جو کہ جیل جانے سے پہلے لیکر چل رہے تھے۔ ان تینوں افراد کو قید کرنے کے پیچھے بنیادی مقصد انہیں سیاسی منظر نامے سے دور کرنا تھا تاکہ مسلم لیگ نون ایک ایسے وقت میں اصول پرست اور دلیر رہنماؤں سے محروم ہوجائے جب اسے بڑے چیلنجز اور دباؤ کا سامنا تھا اور اسکی قیادت ایک متحرک سیاسی وجود برقرار رکھنے کیلئے اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہی تھی۔
خاقان عباسی، راناثناء اللہ اور احسن اقبال مسلم لیگ نون کے بڑے عہدے رکھتے ہیں جن میں سے پہلے اس کے سینئر نائب صدر، دوسرے پنجاب چیپٹر کے صدر اور تیسرے اس کے سیکریٹری جنرل ہیں۔ شریف برادران کی پاکستان میں موجودگی اور غیرموجودگی میں بھی یہی تین لوگ نون لیگ کے حقیقی چہرے رہے ہیں اور اس کی آواز بننے میں پیش پیش رہے ہیں۔
جب یہ تینوں لیگی رہنماء سلاخوں کے پیچھے تھے تو بنیادی طور پر قومی اسمبلی میں نون لیگ کے پارلیمانی رہنماء خواجہ آصف قومی اسمبلی میں نون لیگ کی نمائندگی کررہے تھے۔ وہ بھی قومی احتساب بیورو اور وفاقی تحقیقاتی ایجنسی میں کئی تحقیقات کا سامنا کر رہے ہیں لیکن ابھی تک گرفتار نہیں کئے گئے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ایک صفحے پر ہیں اوراسی لیے ابھی تک نیب نے ان پر ہاتھ نہیں ڈالا۔
دوسری طرف اسٹیبلشمنٹ کے زیرعتاب تینوں لیگی رہنماؤں میں سے سب سے پہلے رانا ثناء اللہ کو ڈرگ اسمگلنگ کیس میں لاہور ہائی کورٹ سے ضمانت ملی۔ پھر چند ہفتوں بعد سابق وزیر اعظم خاقان عباسی اور احسن اقبال کو بھی ایک ہی دن ضمانت دی گئی کیونکہ نیب کے پاس ان کو مزید اپنی حراست میں رکھنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہ گیا تھا۔
اپنی رہائی کے دن سے ہی تینوں رہنماء پہلے کی طرح سرگرم ہوگئے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں کہ جب نواز شریف علیل ہیں اور برطانیہ میں علاج کروا رہے ہیں اور نون لیگ کے صدر شہباز شریف بھی ان کے ساتھ رکے ہوئے ہیں تو جماعت چلانے کیلئے پوری ذمہ داری خاقان عباسی، رانا ثناء اللہ اور احسن اقبال کے کاندھوں پر آگئی ہے۔ ان تین رہنماؤں کی سیاست میں سرگرم ہونے کی حکمت عملی کے برعکس بعض نون لیگی رہنماؤں نے ہائی کورٹس کی جانب سے ضمانتیں حاصل کرنے کے بعد سے خاموشی اختیار کرنے کو ترجیح دی ہے۔
نون لیگ کی نائب صدر مریم نواز بھی ان ہی رہنماؤں میں شامل ہیں جو ہائی کورٹس سے ضمانتیں حاصل کرنے کے بعد سے خاموش ہیں۔ ایک وقت تھا جب وہ اپنے والد، چچا اور آگے آگے رہنے والے جیل بھیجے گئے دیگر پارٹی رہنماؤں کے ساتھ مسلم لیگ نون کا نام تھیں۔شہباز شریف بھی اپنی ضمانت کے بعد سے خاموش ہیں اور وہ سیاست میں اتنے متحرک نہیں جتنا کہ ان سے توقع کی جاتی ہے۔
