ن لیگ کے سیاسی مستقبل کا انحصار اسحاق ڈار پر کیوں ہے؟

حال ہی میں وطن واپس لوٹ کر وفاقی وزیر خزانہ کا عہدہ سنبھالنے والے اسحاق ڈار اس وقت مسلم لیگ ن کے سیاسی مستقبل کی اُمردوں کا، مرکز بن چکے ہیں کیونکہ اگر وہ مشت سنبھالنے اور مہنگائی روکنے میں کامیاب نہ ہوسکے تو اگلے الیکشن میں پارٹی کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے، سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ڈار کے بعد نواز شریف بھی تب ہی پاکستان واپسی کے قابل ہو سکیں گے جب ملکی معیشت بہتر ہو جائے گی، وگرنہ میاں صاحب کو حکومتی ناکامی کا بوجھ اپنے کندھوں پر لینے کے لیے واپس لوٹنے کہ ضرورت نہیں۔لندن میں موجود قیادت سے براہ راست رابطہ رکھنے والے مسلم لیگی رہنما اشارے دے رہے ہیں کہ سینیٹر اسحاق ڈار کی پاکستان آمد دراصل نواز شریف کی وطن واپسی کی جانب پہلا قدم ہے اور زیادہ سے زیادہ اوائل دسمبر میں وہ پاکستان میں ہوں گے۔

انکا کہنا ہے کہ نواز شریف کو واپس آنا ہے اور وہ بہت جلد آ رہے ہیں، جب نواز شریف کے ترجمان محمد زبیر سے پوچھا گیا کہ کیا واقعی یہ تاثر درست ہے کہ اسحاق ڈار کی وطن واپسی بارش کا پہلا قطرہ ہے اور اب میاں صاحب آئے کہ آئے، تو انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ بالکل ایسا ہی ہے، ان کا کہنا تھا کہ کچھ عرصہ پہلے تک صورت حال ایسی تھی کہ ہم مسائل کا شکار تھے اور ظلم برداشت کر رہے تھے لیکن حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے، وقت بدلتا ہے اور تبدیلی بالآخر آتی ہے، زبیر نے تصدیق کی کہ اسحاق ڈار کی واپسی دراصل نواز شریف کی واپسی کی جانب پہلا قدم ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومتی سطح پر ایک مؤثر لابی اسحاق ڈار کی واپسی اور وزارت خزانہ سنبھالنے پر پریشان تھی، اس کا خیال تھا کہ ڈار کی واپسی کے بعد انھیں حکومتی فیصلوں میں زیادہ آزادی نہیں رہے گی، البتہ محمد زبیر اس تاثر کو معمول کا اختلاف رائے قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اسحاق ڈار کی وطن واپسی اور وزارت خزانہ سنبھالنے کے فیصلے پر پوری جماعت مکمل طور پر متفق ہے۔ اس موقع پر تحریک عدم اعتماد کے حامی رہنماؤں نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ انھیں یہ کام کر لینے دیا جائے کیو کہ حکومت سنبھالنے کے بعد وہ نہ صرف معیشت کو سنبھالنے میں کامیاب ہو جائیں گے بلکہ عوام کو چند بڑی سہولتیں دے کر آئندہ انتخابات میں کامیابی کے لیے مسلم لیگ کے لیے آسانی پیدا کرنے میں بھی کامیاب ہو جائیں گے۔
اس موقع پر نواز شریف نے تحریک عدم اعتماد کے حامی رہنماؤں کو آزادی دی کہ اگر وہ ایسا کر سکتے ہیں تو کر کے دیکھ لیں، انھیں کوئی اعتراض نہیں۔ تاہم حکومت میں آنے کے بعد نواز شریف اپنی جماعت کی معاشی پرفارمنس پر خوش نہیں تھے اور چاہتے تھے کہ مفتاح اسماعیل کی جگہ اسحاق ڈار وزارت خزانہ سنبھالیں۔ اب جب کہ ڈار سکیورٹی کلیئرنس ملنے کے بعد ملک واپس آکر وزیر خزانہ بن چکے ہیں تو نون لیگ کی تمام تر امیدیں اسحاق ڈار سے ہی وابستہ ہو چکی ہیں۔

سینئر صحافی سلمان غنی کہتے ہیں کہ اسحاق ڈار اس دعوے کے ساتھ پاکستان لوٹے ہیں کہ وہ ڈالر کو 185 روپے تک لانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ اسحاق ڈار اگر ایسا نہیں بھی کر پاتے اور ڈالر دو سو روپے پر بھی آ جاتا ہے تو انھیں سونے کا تاج پہنا دیا جائے گا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اسحاق ڈار کی واپسی جن مقاصد کے لیے ہوئی ہے، اس میں قابل ذکر کامیابی حاصل ہو جائے گی۔ اس کامیابی کے پس پشت مفتاح اسماعیل کی محنت بھی شامل ہوگی جس کی وجہ سے آئی ایم ایف سے تازہ مذاکرات کے نتیجے کچھ نئی رعایتوں کی یقین دہانی ہوئی ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ڈار معیشت کو سنبھالنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو دسمبر کا مہینہ نواز شریف کی واپسی کا مہینہ بن سکتا ہے اور وہ وطن واپس آ کر اپنی جماعت کی انتخابی مہم کی قیادت کر سکتے ہیں، یوں آئندہ عام انتخابات وقت سے کسی قدر پہلے یعنی مارچ میں کروائے جانے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے، لندن میں یہی فیصلہ ہوا ہے کہ عوام کو نمایاں ریلیف دے کر انتخابات کی طرف بڑھا جائے۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ اسحاق ڈار اس وقت مسلم لیگ ن کی اُمیدوں کا واحد مرکز ہیں اور آنے والے دنوں میں جو سیاسی منظر نامہ تشکیل پانا ہے، اس کا تمام تر انحصار اسحاق ڈار کی کارکردگی پر ہے۔

Back to top button