وائرس پھیلانے والے تبلیغیوں کو اجتماع کی اجازت کیوں ملی؟

پاکستان کے مختلف حصوں میں تبلیغی جماعت سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں مولوی کرونا وائرس کا شکار نکلے ہیں جنھوں نے حالیہ ہفتوں میں ملک کے مختلف صوبوں میں تبلیغی اجتماعات میں شرکت کی تھی۔ چنانچہ خیال کیا جا رہا ہے کہ متاثرہ افراد اب تک ہزاروں دیگر لوگوں کو بھی کرونا منتقل کرچکے ہوں گے جنکی تصدیق صرف ٹیسٹ سے ہی ممکن ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کرونا وائرس پھیل جانے کے باوجود تبلیغی جماعت کو سندھ اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں اجتماع کرنے کی اجازت کیوں دی گئی؟
ملک کے مخلتف شہروں میں تبلیغی جماعت کے مولوی حضرات میں کرونا وائرس کی تصدیق اور سینکڑوں افراد کو قرنطینہ میں رکھنے کے بعد اب تازہ اطلاعات یہ ہیں کہ لاہور کے رائیونڈ کے تبلیغی مرکز میں تبلیغی جماعت کے 35 افراد کی اسکریننگ کرنے پر 27 افراد میں کرونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔ تبلیغی مولویوں کی اتنی بڑی تعداد کا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد حکام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور یہ خیال کیا جارہا ہے کہ اس وائرس سے متاثرہ تبلیغیوں کی تعداد ہزاروں میں ہوسکتی ہے جوکہ لاک ڈاؤن کے باعث ٹرانسپورٹ نہ ملنے کے باعث ابھی تک رائیونڈ کے تبلیغی مرکز میں بیٹھے ہوئے ہیں۔
ڈپٹی کمشنرلاہور دانش افضال کے مطابق انہوں نے 3 روز قبل تبلیغی مرکز سیل کر کے وہاں موجود لوگوں کی اسکریننگ کی تھی اور صحت کے حکام کے مطابق اب تک 35 افراد میں سے 27 کے نتائج مثبت آئے ہیں۔ جس کے بعد تبلیغی مرکز میں قرنطینہ سینٹربنادیا گیا ہے تاہم مریضوں کی تعداد میں اضافے پر انہیں کالاشاہ کاکو قرنطینہ مرکز منتقل کیا جائے گا۔ کالا شاہ کاکو میں مشتبہ مریضوں کو تنہائی میں رکھا جائے گا اور جن کا ٹیسٹ مثبت آیا انہیں جوہر ٹاؤن میں قائم ایکسپو سینٹر کے فیلڈ ہسپتال میں منتقل کردیا جائے گا جہاں ایک ہزار مریضوں کے لئے بستر لگائے گئے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ تبلیغی مولویوں کے اتنی زیادہ تعداد میں کرونا کے مثبت ٹیسٹ آنے کے بعد خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ یہ پہلے ہی ہزاروں لوگوں میں کرونا وائرس منتقل کر چکے ہیں کیونکہ 3 روزہ، 40 روزہ یا 4 ماہ کے تبلیغی مشن پر روانہ ہونے سے قبل 500 غیر ملکیوں سمیت 12 سو سے زائد افراد 5 روزہ اجتماع میں شریک تھے اور انہوں نے رائے ونڈ مرکز کے بالمقابل ایک خالی جگہ پر کیمپ لگایا ہوا تھا جہاں موجود افراد کے کرونا ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔ قبل ازیں حکومت پنجاب کے عہدیداروں نے وائرس کے خطرے کے پیشِ نظر منتظمین سے اجتماع ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی لیکن منتظمین نے صاف انکار کر دیا۔ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ مولانا طارق جمیل بعد ازاں وزیراعظم عمران خان سے لاہور میں تبلیغی جماعت کے انعقاد کی خصوصی اجازت حاصل کی تھی۔ کرونا کے باعث اجتماع کے دن کم کر دینے کے باوجود اس میں آٹھ لاکھ افراد شریک ہوئے۔
تاہم بڑا مسئلہ تب پیدا ہوا جب اجتماع ختم ہوا کیونکہ اس وقت تک وزیراعلی پنجاب ملک میں لاک ڈاؤن کا اعلان کر چکے تھے۔ لہذا شرکا کو گھر لے جانے کے لیے کوئی ٹرانسپورٹ یا فضائی سروس دستیاب نہیں تھی جس کی وجہ سے اب بھی ہزاروں مولوی ایک ہی جگہ قیام پذیر ہیں اور کرونا وائرس کی باہمی منتقلی کا سبب بنے ہوئے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ رائے ونڈ لاہور کے تبلیغی مرکز میں موجود افراد اس عرصہ کے دوران بلا روک و ٹوک مختلف افراد سے بھی ملتے رہے ہیں جس کی وجہ سے ہزاروں افراد کے کرونا سے متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل اسلام آباد کے دیہی علاقے بارہ کہو میں بھی تبلیغی جماعت کے اراکین میں کرونا وائرس کی تصدیق کے بعد انھیں مسجد میں قرطینہ کرتے ہوئے پورے علاقے کو سیل کر دیا گیا تھا۔ یہ لوگ بھی رائیونڈ لاہور کے تبلیغی اجتماع میں شریک ہوئے تھے۔ دوسری طرف حیدرآباد کے تبلیغی مرکز میں کرونا وائرس کا مریض سامنے آنے کے بعد پورے مرکز کو قرنطینہ میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح لیہ کی انتظامیہ نے ضلع میں تبلیغی مشن پر موجود تمام ٹیمز کو اکٹھا کرنے کے بعد مقامی مرکز کو قرنطینہ مرکز قرار دے دیا تھا جس میں 235 افراد موجود ہیں۔ 29 مارچ کے روز کچھ افراد نے مرکز سے فرار ہونے کی کوشش کی اور ایس ایچ او محمد اشرف ماکھی کو تبلیغی جماعت کے ایک رکن نے چاقو مار کرزخمی کر دیا اور فرار ہوگیا۔ بعد ازاں پولیس نے ملزم کو خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی سے گرفتار کرلیا۔ تاہم وفاقی سطح پر تبلیغی جماعت کے متعلقین کو کرونا وائرس کے حملے کے باوجود تبلیغی مشن سے روکنے کے لیے تاحال کوئی سرگرمی نظر نہیں آتی۔
