واوڈا نااہلی کیس میں عارضی ریلیف کے بعد شیرہو گئے

پاکستان میں کرونا لاک ڈاون کے دوران عدلیہ کی جانب سے صرف فوری نوعیت کے کیسز سننے کی پالیسی کے بعد کپتان کے قریبی ساتھی وفاقی وزیر فیصل واوڈا کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت دوہری شہریت چھپانے کا کیس التوا کا شکار ہوگیا ہے
جس کے بعد سیاسی منظرنامے سے غائب ہوجانے والے واوڈا اچانک شیر ہو کر سامنے آگئے ہیں اور بڑھ چڑھ کر سندھ حکومت پر حملے شروع کر دیے ہیں۔
امریکی شہریت چھپانے کے مقدمے کی سماعت کے دوران منظر عام سے غائب رہنے والے فیصل واوڈا اب میڈیا کے محاذ پر بھی غیر ضروری طور پر خاصے متحرک ہوگئے ہیں جس کے بعد سیاسی حلقوں میں چہ میگوئیاں جاری ہیں کہ شاید واوڈا اس عارضی ریلیف کو اپنی بریت سے تعبیر کررہے ہیں حالانکہ ایسا ہرگز نہیں۔
یاد رہے کہ فیصل واوڈا نے عام انتخابات 2018 میں حصہ لیتے وقت اپنی امریکی شہریت چھپانے کے علاوہ اپنی تعلیمی اسناد کے بارے میں بھی جھوٹ بولا تھا اور خود کو ایک امریکی یونیورسٹی سے گریجویٹ قرار دیا تھا حالانکہ انہوں نے اصل میں صرف بی کام کر رکھا ہے۔ مشکوک تعلیمی اسناد کے علاوہ وفاقی وزیر کی مبینہ سابق اہلیہ نے واوڈا پر جعلی نکاح نامہ تیار کرنے کا سنگین الزام بھی عائد کر رکھا ہے۔
گزشتہ تین ہفتوں سے اپنے خلاف دوہری شہریت پر نااہلی سے متعلق کیس زیرالتوا ہونے کے بعد فیصل واوڈا یہ تاثر دینے کی کوشش کررہے ہیں کہ جیسے ان کی رکنیت اور وزارت کو اب کوئی خطرہ نہیں ہے۔ گزشتہ کئی ہفتوں سے سے سیاسی منظر نامے میڈیا حتیٰ کہ اپنے سیاسی حلقے سے بھی غائب رہنے والے فیصل واوڈا اب کھل کر سیاسی میدان میں واپس آگئے ہیں اور پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت پر پر کھل کر گولہ باری کرتے نظر آتے ہیں۔ یسد رہے کہ چند ہفتے پہلے واوڈا کے حلقے کے عوام نے ان کے خلاف وال چاکنگ کی تھی اور الیکشن مہم کے دوران کیے گے وعدے پورے کرنے کی بجائے غائب ہو جانے پر انہیں سخت سست کہا تھا۔
ٹی وی پر فوجی بوٹ لہرانے والے وفاقی وزیر فیصل واوڈا پر الزام ہے کہ 2018ء کے عام انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرواتے وقت وہ امریکی شہری تھے اور ان کی جانب سے الیکشن کمیشن میں جمع کرایا جانے والا یہ حلف نامہ جھوٹا تھا کہ ان کے پاس غیر ملکی شہریت نہیں ہے۔سچ تو یہ ہے کہ 11؍ جون 2018ء کو کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت وہ امریکی شہری تھے۔ کاغذات کی اسکروٹنی کے وقت بھی ان کی امریکی شہریت برقرار تھی۔
فیصل واوڈا نے اپنے کاغذات نامزدگی میں حلفاً کہا کہ وہ صرف پاکستانی شہری ہیں تاہم بعد اذاں دستاویزات سے ثابت ہوا کہ جب انہوں نے کاغذات جمع کرائے اسوقت وہ امریکی شہری بھی تھے۔ قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ثابت ہوجائے کہ کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت وہ امریکی شہری تھے تو واوڈا بطور ممبر قومی اسمبلی فوری نااہل ہوجائیں گے ۔
 یاد رہے کہ ماضی میں بھی ان کے حریف امیدوار نے سندھ ہائیکورٹ میں واوڈا کی دہری شہریت چیلنج کی لیکن پھر خفیہ دباؤ پر واپس لے لی تھی۔
خیال رہے کہ واوڈا کے معاملے میں کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی آخری تاریخ 8؍ جون 2018 تھی جسے مزید تین دن کیلئے بڑھایا گیا تھا۔ واوڈا نے اپنے کاغذات 11؍ تاریخ کو جمع کرائے اور ایک حلف نامہ بھی جمع کرایا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس غیر ملکی شہریت نہیں ہے۔  این اے 249؍ سے ریٹرننگ افسر نے ان کے کاغذات کی 18؍ جون 2018ء کو منظوری دی جس کے بعد 22؍ جون 2018ء کو واوڈا نے امریکی شہریت کی تنسیخ کیلئے شہر میں امریکی قونصل خانے میں درخواست جمع کرائی جس کا مطلب یہ ہوا کہ کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت وہ امریکی شہری تھے۔ 
اگرچہ شہریت کی تنسیخ کا عمل مختلف محکموں سے کلیئرنس کے بعد کچھ ہفتوں میں مکمل ہوتا ہے لیکن واوڈا دستیاب دستاویزات کے مطابق قونصل خانے کی طرف سے انہیں شہریت کی تنسیخ کا سرٹیفکیٹ 25؍ جون 2018ء کو جاری کیا گیا۔  واوڈا کی اپنی پارٹی سے تعلق رکھنے والے ماہرین قانون متفق ہیں کہ کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت جس امیدوار کے پاس غیر ملکی یا دوہری شہریت ہوگی وہ نہ صرف فوری طور پر نا اہل قرار دیا جا سکتا ہے بلکہ اسے جھوٹ بولنے پر سزا بھی ہو سکتی ہے۔ تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس مقدمے کی سماعت 24 مارچ تک ملتوی کی گئی تھی اور فیصل واوڈا کے وکیل کو عدالت کی جانب سے ہدایت کی گئی تھی کہ وہ تمام تر مطلوبہ دستاویزات فراہم کریں تاکہ کیس کو آگے بڑھایا جائے۔
تاہم بعد ازاں فیصل واڈا دوہری شہریت کیس کی آخری سماعت کے بعد اعلیٰ عدلیہ نے ترجیحاً ہنگامی یعنی فوری نوعیت کے مقدمات نمٹانے کی پالیسی اپنائی جس کے بعد فیصل واوڈا کا کیس لٹک گیا اور اسے کاز لسٹ کا حصہ نہیں بنایا گیا ہے۔ قانونی حلقوں کا کہنا ہے کہ فیصل واوڈا ہی نہیں بلکہ مریم نواز کی لندن روانگی سے متعلق درخواست بھی اسی پالیسی کی وجہ سے زیر التوا ہے تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ فیصل واوڈا کو عدالت کی جانب سے کلین چٹ مل گئی ہے۔ آئندہ جب بھی اس کیس کی سماعت ہوگی تو فیصل واوڈا کو اپنا مؤقف عدالت میں درست ثابت کرنا ہوگا بصورت دیگر جس طرح ماضی میں سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی کو دہری شہریت چھپانے کی پاداش میں نااہل قرار دیا گیا فیصل واوڈا کے ساتھ تھی یہی سلوک ہوگا۔ اس طرح نہ فیصل واوڈا نہ صرف اسمبلی کی رکنیت سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے بلکہ کابینہ کا حصہ بھی نہیں رہ سکیں گے۔
پی ٹی آئی میں وزیراعظم عمران خان سے قربت رکھنے والے ایک سینئر ماہر قانون نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ واوڈا کے معاملے میں آرٹیکل 63؍ ون سی کے تحت کارروائی ہو سکتی ہے اور انہیں نا اہل قرار دیا جا سکتا ہے، یا پھر ان کا انتخاب کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے، یا پھر انہیں جھوٹ بولنے پر سزا سنائی جا سکتی ہے۔ 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button