کرونا وائرس سے متعلقہ واٹس ایپ پیغامات میں 70 فیصد کمی

کرونا وائرس اور لاک ڈاؤن کے باعث دنیا بھر کی معیشت کو گراوٹ کا سامنا ہے، اسی طرح معروف میسیجنگ ایپلی کیشن واٹس ایپ کے فارورڈ پیغامات میں 70 فیصد کمی آئی ہے، تاہم یہ واحد گراوٹ ہے جو کسی اچھے مقصد کےلیے ہے۔
واٹس ایپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان کی جانب سے ایک وقت میں محدود تعداد میں پیغامات فارورڈ کرنے کی پابندی لگائے جانے کا مقصد کرونا وائرس بارے غلط معلومات پر مبنی پیغامات کی حوصلہ شکنی کرنا تھا اور وہ اس مقصد میں مکمل طور پر کامیاب رہے ہیں۔

خیال رہے کہ واٹس ایپ نے تین ہفتے قبل اپریل کے آغاز میں کرونا وائرس سے متعلق غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے کےلیے اپنے فارورڈ کیے جانے والے پیغامات کی حد محدود کر دی تھی۔ واٹس ایپ نے کسی بھی ایسے پیغام کو فارورڈ کرنے پر پابندی لگادی تھی، جس کو پہپے 5 بار فارورڈ کیا گیا ہو۔ واٹس ایپ نے اعلان کیا تھا کہ کوئی بھی ایسے میسیج کو جو کہ پہلے 5 بار فارورڈ ہو چکا ہو، اسے زیادہ سے زیاد مزید ایک بار فارورڈ کیا جاسکے گا۔ یہ اعلان اس وقت کیا گیا تھا جب کرونا وائرس کے حوالے سے انٹرنیٹ سمیت میسیجنگ ایپلی کیشنز میں حد سے زیادہ غلط معلومات پھیلنے کی خبریں سامنے آئیں۔

اس سے قبل واٹس ایپ کی جانب سے ہر صارف کو ایک ہی پیغام کو 5 بار فارورڈ کرنے کی اجازت حاصل تھی مگر اپریل کے آغاز میں واٹس ایپ نے اسے مزید محدود کردیا تھا اور اب واٹس ایپ انتظامیہ نے تصدیق کی ہے کہ ان کے اقدام سے فارورڈ ہونے والی غلط معلومات پر مبنی پیغامات کے پھیلاؤ میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔ واٹس ایپ انتظامیہ کا کہنا تھا کہ نئی پابندی کے بعد واٹس ایپ پر فارورڈ ہونے والے پیغامات میں 70 فیصد کمی دیکھی ہوئی ہے۔ واٹس ایپ انتظامیہ نے اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ میسیجنگ ایپلی کیشن پلیٹ فارم غلط معلومات کے پھیلاؤ کی حوصلہ شکنی کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کو تیار ہے۔

خیال رہے کہ واٹس ایپ کے علاوہ فیس بک، ٹوئٹر، انسٹاگرام اور اسنیپ چیٹ جیسے پلیٹ فارمز سمیت گوگل و یوٹیوب نے بھی کرونا وائرس سے متعلق غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔ کرونا وائرس کے بعد دنیا بھر میں انٹرنیٹ پر غلط معلومات کا سیلاب دیکھا گیا تھا، جس کے بعد عالمی ادارہ صحت نے ایسی غلط معلومات کے لیے انفو ڈیمک کا محاورہ استعمال کیا تھا، جس کا مطلب معلومات کی وبا یا سیلاب ہے۔
کرونا وائرس کی وبا کے پھیلنے کے بعد انٹرنیٹ پر نہ صرف غلط معلومات بلکہ غلط ویڈیوز اور تصاویر بھی وائرل ہونے لگی تھیں اور فلموں کے خوفناک مناظر کو بھی کرونا وائرس سے ہونے والی تباہی کے حقیقی مناظر کے طور پر پیش کیا جانے لگا تھا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button