وبائی امرض نے کب کب مسلمانوں کی عبادات کو متاثر کیا؟

کرونا وائرس نے پوری دنیا کے نظام کو تہہ و بالا کر دیا ہے، وائرس کے پیشِ نظر بے شمار لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں، دفاتر اور تعلیمی ادارے بند ہیں جبکہ ذرائع نقل و حمل بھی شدید متاثر ہوئے ہیں اور لوگ سماجی دوری اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔ کرونا وائرس کے پھیلاؤ سے بچنے کے لیے متعدد ممالک کی جانب سے مکمل لاک ڈاؤن اور جزوی کرفیو نافذ کیا گیا ہے جس کہ وجہ سے تقریباً 3 ارب لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔اس وبا کی وجہ سے جہاں دنیا بھر میں تمام تر سرگرمیاں رک گئیں ہیں وہیں مسلمانوں سمیت تمام تر مذاہب کی عبادات بھی متاثر ہوئی ہیں۔ اس وقت زیادہ تر ممالک میں مساجد، گرجا گھر، اور مندر بند ہیں یا وہاں عبادات میں لوگوں کی شرکت کو انتہائی محدود کر دیا گیا ہے۔
کرونا وائرس کی وجہ سےدنیا بھر میں تقریباً 2 ارب مسلمان مقدس مہینہ رمضان المبارک کو بالکل مختلف طریقے سے گزاریں گے اور اجتماعی افطار، تراویح اور مساجد میں اجتماعی دعاؤں سے گریز کرتے ہوئے سماجی دوری اختیار کر کے اپنے گھروں میں ہی عبادت کریں گے۔ سعودی عرب میں بھی مسلمانوں کی مقدس ترین عبادت گاہوں مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں زائرین کی آمد کو غیر معینہ مدت کے لیے معطل کردیا گیا ہے جب کہ سعودی حکومت کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ دونوں مساجد میں رمضان المبارک کی خصوصی نماز تراویح ہوگی لیکن اس میں صرف مساجد کا عملہ شریک ہو گا۔
تاریخ میں ایسے ادوار آئے ہیں جب مسلم دنیا میں بڑے پیمانے پر مذہبی اجتماعات جزوی یا مکمل طور پر روک دیے گئے تھے لیکن اسلام کی 1400 سالہ تاریخ میں اس بات خے کوئی قابل تصدیق ثبوت موجود نہیں کہ کبھی اس پیمانے پر رمضان المبارک کے مہینے میں اجتماعات محدود ہوئے ہوں یا مسلمانوں کو گھروں میں ہی عبادات کا حکم دیا گیا ہو۔
اس حوالے سے قطر کے شہر دوحہ میں حماد بن خلیفہ یونیورسٹی کے ریسرچ سینٹر برائے اسلامی قانون سازی اور اخلاقیات کے اسسٹنٹ پروفیسر متعز الخطیب کا کہنا ہے کہ ‘مساجد کی بندش یا اجتماعات کو منسوخ کرنا ، مختلف وجوہات کی بناء پر کئی بار ہوا ہے اور جنگیں ، قدرتی آفات اور وبائی امراض کی وجہ سے پہلے بھی اس طرح ہو چکا ہے’۔
چلیں، ایسے ہی کچھ ادوار پر نظر ڈالتے ہیں جب مسلمانوں نے حالات کے پیشِ نظر اپنی مذہبی روایات کو تبدیل کیا۔
930ء میں قرامطہ فرقے کے پیروکار نے ایک لشکر کے ساتھ مکہ پر چڑھائی کی اور حرم شریف میں داخل ہو کر قتل عام شروع کر دیا تھا۔ اس قتل عام میں مکہ میں تقریباً 30ہزار افرادشہید ہوئے تھے۔ آئرلینڈ کے اسلامک سینٹر کے چیف امام اور مسلم اسکالر عمرالقادری نے الجزیرہ کو بتایا کہ قرامطہ حملہ اسلامی تاریخ کا ایک بڑا واقعہ تھا، ابو طاہر الجنبی نے نہ صرف حملہ کرکے وہاں عبادت کو رکوا دیا بلکہ حجر اسود کو بھی نکال لیا گیا تھا جس کی وجہ سے حج منسوخ ہوا اور اس واقعے کے بعد 20 سال سے زائد عرصے تک کعبہ کا طواف حجر اسود کے بغیر ہوا۔
19 ویں صدی میں متعدد بار ہیضے کے تباہ کن پھیلاؤ کے نتیجے میں 1837 اور 1846 میں حج معطل ہوا تھا۔ نومبر سے دسمبر 1979 کے درمیان 400 سے 500 مسلح افراد نے مسجد الحرام پر تقریباً دو ہفتے تک قبضہ کر لیا تھا جس کی وجہ سے وہاں عبادات کا سلسلہ متاثر ہوا۔سعودی فوج اور فرانسیسی خصوصی پولیس نے ایک آپریشن کرکے مسجد الحرام پر قبضہ ختم کیا۔
2010 کی دہائی کے شروع میں ایبولا کی وباء عروج پر تھی، دنیا بھر کے ممالک نے وائرس کا مرکز، متعدد مغربی افریقی ریاستوں کے ویزا جاری کرنے پر پابندی عائد کی تھی۔ 2014 میں سعودی عرب نے گینینا، لائبیریا اور سیرا لیون کے شہریوں کے لیے عمرہ اور حج ویزا جاری کرنا عارضی طور پر روک دیا تھا۔
