وزراء کو بچانے کے لیے کپتان کا IPPs سکینڈل پر بڑا یوٹرن

سیاسی مصلحتیں آڑے آنے کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے 5 ہزار ارب روپے کے آئی پی پیز مالیاتی سکینڈل کی تحقیقاتی رپورٹ پبلک کرنے سے یوٹرن لے لیا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ کپتان نے نہ صرف پاور سکینڈل کی مزید تحقیقات کیلئے انکوائری کمیشن کے قیام کافیصلہ دو ماہ کیلئے مؤخرکر دیا ہے بلکہ آئی پی پیز سکینڈل کی پچھلی انکوائری رپورٹ بھی پبلک کرنے کے فیصلے سے منخرف ہو گئے ہیں۔ سیاسی مصلحتوں کے باعث کپتان نہ صرف پاور سکینڈل بارے اپنے بے لاگ احتساب کے بیانیہ سے پیچھے ہٹ گئے ہیں بلکہ الٹا ملکی خزانہ لوٹنے والے پاور پروڈیوسرز کو 600 ارب روپے کے واجبات ادا کرنے کا فیصلہ بھی کر لیا ہے۔
یاد رہے کہ جن آئی پی پیز کے خلاف انکوائری کی گئی ہے ان میں وزیر اعظم کےمشیر برائے پیٹرولیم ندیم بابر، وفاقی وزیر عبدالرزاق داؤد، وفاقی وزیر خسرو بختیار اور جہانگیر ترین کے پاور پلانٹس بھی شامل ہیں۔ 9 رکنی کمیٹی کی تیار انکوائری رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ بجلی بنانے والی کمپنیوں نے قومی خزانے کو 5 ہزار 823 ارب کا ٹیکہ لگایا۔
واضح رہے کہ 21 اپریل 2020 کو نہ صرف وفاقی کابینہ نے فوری طور پر آئی پی پیز کی انکوائری رپورٹ پبلک کرنے کا فیصلہ کیا تھا بلکہ پاور پروڈیوسرز سے قوم کی غبن کی گئی رقم واپس لینے کیلئے ایک اعلیٰ سطحی کمیشن تشکیل دینے کا اعلان بھی کیا تھا۔ تاہم اب کپتان کی وفاقی حکومت دو ہفتے بعد ہی اپنے فیصلے سے ناگزیر وجوہات کی بنا پر پیچھے ہٹ گئی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پاور ڈویژن اور 4 کابینہ ارکان نے آئی پی پیز مالکان کیساتھ جاری مذاکرات اور دوست ملک کی ممکنہ ناراضی کی آڑ میں انکوائری کمیشن کا قیام اور تحقیقاتی رپورٹ کا اجرا رکوانے کے لیے راہ ہموار کی حالانکہ وفاقی وزیراطلاعات شبلی فراز نے اس کی سخت مخالفت کی۔
تاہم وزیر اعظم نے انکوائری کمیشن کی تشکیل دو ماہ کے لیے ملتوی کرتے ہوئے کابینہ کا 21 اپریل کا فیصلہ واپس لے لیا۔ اب آئی پی پیز کی رپورٹ جاری ہو گی یا نہیں، کابینہ دو ماہ بعد دوبارہ اس بارے غور کرے گی۔ ذرائع کے مطابق حکومت کے آئی پی پیز کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں پاور پروڈیوسر کمپنیوں نے ناجائز منافع کی مد میں کمائے گئے اربوں روپے واپس کرنے سے صاف انکار کرتے ہوئے حکومت سے 600 ارب روپے سے زائد کے بقایا جات کی فوری ادائیگی کا مطالبہ کر دیا ہے۔ آئی پی پیز نے واضح کیا ہے کہ بقایا جات کی ادائیگی کے بغیر حکومت سے کسی قسم کے مذاکرات نہیں کئے جائیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت قانون نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ حکومت آئی پی پیز سے کیے گئے معاہدوں پر یکطرفہ نظر ثانی نہیں کر سکتی کیونکہ آئی پی پیز سے کئے گئے معاہدوں کو بین الاقوامی تحفظ حاصل ہے، حکومت کی طرف سے اس حوالے سے کسی بھی کارروائی کی صورت میں معاملہ عالمی ثالثی عدالت میں جاسکتا ہے،جس سے حکومت کو عالمی سطح پر سبکی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

واضح رہے کہ آئی پی پیز کے 1994میں لگائے گئے اکثر پاور پلانٹس اپنی مدت معیاد پوری کر چکے ہیں جبکہ کچھ پاور پلانٹس آگلے چندماہ میں ایکسپائر ہو جائیں گے۔ اس لئے حکومت کی طرف سے بقایا جات کی ادائیگی کے بعد آئی پی پیز کی طرف سے ناجائز منافع کی مد میں کمائے گئے اربوں روپے واپس لینے کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر کبھی نہیں ہو سکے گا۔ آئی پی پیز کے خلاف انکوائری رپورٹ میں وزیر اعظم کےمشیر ندیم بابر، عبدالرزاق داؤد، وفاقی وزیر خسرو بختیار اور جہانگیر ترین کے پاور پلانٹس بھی شامل ہیں۔ پاور سیکٹر میں انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز آئی پی پیز کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کی تحقیقات کے لیے قائم 9رکنی کمیٹی کی طرف سے تیار کردہ 278 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ بجلی بنانے والی کمپنیوں نے قومی خزانے کو 5 ہزار 823 ارب کا ٹیکہ لگایا جبکہ آئی پی پیزمالکان نے صرف غیر منصفانہ منافع کی مد میں 350 ارب روپے وصول کیے۔ رپورٹ میں ٹیرف، فیول کھپت میں خورد برد، ڈالرز میں گارنٹڈ منافع سے خزانے کو نقصان پہنچانےکی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ 15 فیصد کے بجائے پاور پلانٹس نے سالانہ 50 تا 70 فیصد منافع کمانے میں ملوث قرار دیا گیا تھا۔
انکوائری رپورٹ کے مطابق ہر پاور پلانٹ کی قیمت میں 2 سے 15 ارب اضافی ظاہر کر کے بھاری ٹیرف حاصل کیا گیا اور صرف کول پاورپلانٹس کی لاگت 30ارب روپے اضافی ظاہر کی گئی. کمیٹی نے آئی پی پیز مالکان سے واجبات اور ادائیگی کی بنیاد پر کپیسیٹی پے منٹ کا فارمولہ بھی ختم کرنے کی سفارش کی تھی۔ انکوائری کمیٹی نے انکشاف کیا تھا کہ نجی کمپنیوں نے بہتر ٹیرف کیلئے تیل کے غلط اعداد و شمار پیش کیے اور 1994کی پاور پالیسی کے تحت 16 کمپنیوں نے 50 ارب 80 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی اور یہ کمپنیاں اب تک 415 ارب روپے منافع کما چکی ہیں۔انکوائری کمیٹی کے مطابق ان کمپنیوں کے سرمایہ کاروں نے شراکت داروں کو 22 گنا منافع ادا کیا۔ زیادہ تر آئی پی پیز کے پے بیک کا دورانیہ 2سے4سال کے درمیان رہا۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ 13 سالوں میں غلط پالیسیوں اور اقدامات کے باعث قومی خزانے کو 4 ہزار 802 ارب روپے نقصان ہوا۔
پاورسیکٹر کی انکوائری رپورٹ کے مطابق ناجائز منافع کمانے والی آئی پی یز میں میاں منشا کی نشاط کمپنی، ندیم بابر کی اورینٹ کمپنی ، جہانگیرترین کی جے ڈی ڈبلیو ، خسروبختیار کی کمپنی آر وائی اور شریف فیملی کی چنیوٹ کمپنی شامل ہیں۔ وفاقی کابینہ نے 21 اپریل کو آئی پی پیز سکینڈل کی انکوائری رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد ذمہ داروں کا تعین اور مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کرنے والوں کے خلاف فوجداری کارروائی کیلئے ایک انکوائری کمیشن قائم کرنے اور رپورٹ پبلک کرنے کی منظوری دی تھی جبکہ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے توانائی ندیم بابر نے انکوائری رپورٹ پبلک کرنے کی تحریری مخالفت کی تھی۔
یہ بھی یاد رہے کہ چند روز قبل صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا تھا کہ انہوں نے پاور سیکٹر میں ہونے والی تحقیقات کی رپورٹ پڑھی ہے جس کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ مافیاز نے ملک کے ساتھ زیادتی نہیں بلکہ اسکا گینگ ریپ کیا ہے۔ تاہم اب حکومت نے اس گینگ ریپ پر آنکھیں بند کر لی ہیں۔
