وزیراعظم اور صدر کے لیے بجٹ میں کروڑوں کا اضافہ

سادگی اپنانے اور بچت کرنے کی داعی عمران خان کی تبدیلی سرکار نے وزیر اعظم ہاؤس اور ایوان صدر کے لیے مختص بجٹ کی رقم میں کروڑوں روپے کا اضافہ کردیا ہے۔
وفاقی بجٹ میں ایوان صدر اور وزیراعظم ہاؤس کیلئے مختص بجٹ کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں جسکے مطابق وزیراعظم ہاوَس کیلئے 40 کروڑ روپے، انکے آفس کیلئے 52 کروڑ جبکہ خان صاحب کے باغیچے کیلئےاڑھائی کروڑ روہے رکھنے کی تجویزہے، دوسری جانب عارف علوی کے ایوان صدر کیلئے 60 کروڑ روپے، موصوف کے آفس کیلئے ساڑھے 40 کروڑ جبکہ اپوزیشن لیڈر کے آفس کیلئے صرف 2 کروڑ رکھنے کی تجویز ہے۔ بجٹ دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ آئندہ مالی سال 2021-22 میں دفاع کے لیے 1373 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
دفاعی بجٹ مجموعی قومی بجٹ کا 16 فیصد اور جی ڈی پی کا 2.8 فیصد سامل ہے، بجٹ میں پاک آرمی کا دِفاعی بجٹ ملکی بجٹ کا 7 فیصد ہے۔ وفاقی بجٹ کا کل حجم 8 ہزار 487 ارب روپے ہے۔ اسی طرح آئندہ مالی سال میں امن عامہ کے لیے 178 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔
یہاں یہ بھی یاد رہے کہ نئے بجٹ کے تحت چاروں صوبوں میں سے پنجاب کو قابل تقسیم حکومتی آمدن میں سے آئندہ مالی سال کے دوران سب سے بڑا حصہ ملے گا جو تقریباً تینوں صبوں کو مجموعی طور پر ملنے والے فنڈز کے برابر ہے۔ بجٹ دستاویز کے مطابق صوبوں کو مجموعی طور پر 34 کھرب 10 ارب روپے دیے جائیں گے جس میں سے پنجاب کا حصہ 16 کھرب 90 ارب روپے ہے، سندھ کو 8 کھرب 48 ارب روپے، خیبرپختونخوا کو 5 کھرب 59 ارب روپے جبکہ بلوچستان کو 3 کھرب 13 ارب روپے ملیں گے۔ صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کا طریقہ کار آئین کی دفعہ 160 میں وضع کردیا گیا ہے جو ہر 5 سال بعد قومی مالیاتی کمیشن کی تشکیل کا کہتا ہے۔ این ایف سی کا کام صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کی سفارشات صدر مملکت کو بھیجنا ہے۔
2010 کے صدارتی حکم یاد رہے کہ نامے جس میں 2015 میں ترمیم کی گئی تھی، کے مطابق قابل تقسیم فنڈز میں انکم ٹیکس، ویلتھ ٹیکس، کیپیٹل ویلیو ٹیکس، درآمد، برآمد، پیدا، مینوفیکچر یا استعمال کی جانے والی اشیا کی خریدو فروخت پر عائد ٹیکس، کپاس پر برآمدی ڈیوٹی، کسٹم ڈیوٹیز،گیس پر کنویں کے مقام پر لگنے کے سوا فیڈرل ایکسائیز ڈیوٹی اور وفاقی حکومت کا لگایا گیا کئی بھی ٹیکس شامل ہے۔حکم نامے کے تحت قابل تقسیم ٹیکس آمدن کا ایک فیصد حکومت خیبر پختونخوا کو ‘دہشت گردی کے خلاف’ جنگ میں خرچ کرنے کے لیے دیا جائے گا۔
تقسیم شدہ پول ٹیکسوں کی خالص آمدنی سے باقی رقم کی کٹوتی کے بعد مالی سال 11-2010 میں 56 فیصد صوبوں کو دیا گیا تھا جبکہ 12-2011 سے 57.5 فیصد دیا جارہا ہے۔ قابل تقسیم فنڈز میں وفاقی حکومت کا حصہ مالی سال 11-2010 میں 44 فیصد تھا جبکہ 12-2011 سے یہ 42.5 فیصد ہوگیا تھا۔ صوبوں کے درمیان اس فنڈ کی تقسیم متعدد چیزوں کو دیکھ کر کی جاتی ہے جس میں سب سے زیادہ 82 فیصد آبادی اہم ہے، اس کے بعد پسماندگی اور ریونیو اکٹھا کرنے کو دیکھا جاتا ہے۔

Back to top button