وزیراعظم اپنے پرنسپل سیکرٹری سے اتنے متاثر کیوں ہیں؟

وزیر اعظم عمران خان کے بارے میں مشہور ہے کہ ان کو ایسے سرکاری افسر بہت پسند ہیں جو اپنے سینئیر افسران کو بائی پاس کر کے براہ راست ان کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوں اور یہی وہ ایک خصوصیت ہے جس نے اعظم خان کو اب تک وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری کے عہدے پر قائم رکھا ہوا ہے۔ ایک سیانا ڈی ایم جی افسر ہونے کے ناطے وہ وزیراعظم کے علاوہ کسی کو کچھ بھی نہیں سمجھتے چاہے وہ وزیراعلیٰ ہو، گورنر ہو یا کوئی وفاقی وزیر ہو۔
جب 2018 میں تحریک انصاف اقتدار میں آئی تو عمران خان نے اعظم خان کو اپنا پرنسپل سیکرٹری مقرر کیا جو ابھی تک اس عہدے پر برقرار ہیں۔ حالیہ دنوں گریڈ 22 کے اعظم خان خبروں میں کافی زیادہ زیر بحث رہے خصوصا جب جہانگیر ترین اور فردوس عاشق اعوان نے اپنی اپنی فراغت کے بعد یہ الزام لگائے کہ یہ سب اعظم خان کی وجہ سے ہوا جس نے انہیں کپتان سے دور کیا۔ ایک طرف جہانگیر ترین نے ایک ٹی وی انٹرویو میں اعظم خان کا نام لیتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے خلاف مسلسل سازشیں کر رہے ہیں تو دوسری طرف فردوس عاشق اعوان نے الزام عائد کیا کہ اعظم نے ان سے استعفی لینے کے لئے ان کو کو دھمکیاں دیں۔
یاد رہے کہ اعظم خان کو جب پرنسپل سیکرٹری بنایا گیا تو وہ گریڈ 21 کے ملازم تھے اور کچھ سینیئر بیوروکریٹس کی جانب سے ان پر تنقید بھی کی جاتی رہی لیکن عمران خان کے ساتھ ’قربت کی وجہ‘ سے اعظم خان ہی اس عہدے پر گذشتہ تین سالوں سے فائز ہیں۔ تاہم بعد میں ان کو گریڈ 22 میں ترقی ملی۔ ان کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع مردان کے کنڈرگاس گاؤں سے ہے اور وہ مردان کے خان خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ عمومی طور پر اگر دیکھا جائے تو پرنسپل سیکرٹری کا عہدہ ویسے بھی بہت اہم ہوتا ہے کیونکہ وہ وزیر اعظم کو بیوروکریسی کے امور کے حوالے سے بریف بھی کرتے ہیں۔ تاہم اعظم خان میں چند خوبیاں ایسی ہیں جن کی بنیاد پر عمران خان ان کو پسند کرتے ہیں اور ان پر اعتماد بھی کرتے ہیں۔ پاکستان میں رجحان بھی یہی رہا ہے۔ سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے علاوہ باقی وزرا اعظم نے اپنے قریبی اور بااعتماد سرکاری افسران کو صوبوں سے مرکز میں لا کر اپنا پرنسپل سیکرٹری بنایا جیسا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف نے فواد حسن فواد کو پنجاب سے لا کر اپنا پرنسپل سیکرٹری مقرر کر دیا تھا۔
اعظم خان میں ایسی کیا خصوصیات ہیں جو عمران خان کو پسند بھی ہیں اور وہ اس قسم کے سرکاری افسران پر اعتماد بھی کرتے ہیں، اس میں ایک یہ کہ اعظم خان پیپر ورک پر یقین نہیں رکھتے۔
بہت بااعتماد اور اعظم خان کے قریب رہنے والے ایک شخص نے بتایا کہ اعظم خان زبانی احکامات پر یقین کرتے ہیں اس لیے ان کے میز پر ہمیشہ ڈھیر ساری فائلیں بغیر دستخط کے ملیں گی۔ عمران خان کو ایسے افسر بھی بہت پسند ہیں جو اپنے اوپر کے افسران کو بائی پاس کر کے براہ راست عمران خان کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوں اور یہ خصوصیت بھی اعظم خان میں بدرجہ اتم موجود ہے۔
ذرائع کے مطابق اعظم خان جس وقت خیبر پختونخوا کے چیف سیکرٹری تھے تو سابق وزیر اعلٰی خیبر پختونخوا پرویز خٹک کے ساتھ اسی بات پر طویل عرصے تک یہی تنازعہ چل رہا تھا کہ اعظم خان بعض معاملات میں ان کو بائی پاس کر کے براہ راست عمران خان سے رابطہ کرتے تھے خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی پہلی حکومت کے دور میں عمران خان نے کہا جاتا ہے کہ اعظم خان کی شخصیت کو نوٹ کر لیا تھا۔ اعظم خان کے ایک قریبی دوست نے بتایا،‘ عمران خان نے ہمیشہ اپنے قریبی سمجھے جانے والوں کو ساتھ ملا کر کھیل کھیلا ہے۔ کرکٹ میں بھی جس کے ساتھ ان کی قربت ہوتی تھی جیسا انضمام الحق، وقار یونس تو ان کے ساتھ کھیلا ہے اور جس کے ساتھ نہیں بنتی تھی تو ان کو چھوڑ دیا۔ سیاست میں بھی ان کی یہی روایت برقرار ہے اور تب ہی اعظم خان جو ان کے دل کے بہت قریب ہیں ان کو صوبے سے اٹھا کر اسلام آباد میں اپنا پرنسپل سیکرٹری بنا دیا۔
اعظم خان کے ایک دوست کے مطابق ان کے پاس ہر وقت ہر سوال کا جواب موجود ہوتا ہے چاہے وہ غلط ہو یا صحیح لیکن وہ جواب ضرور دیتے ہیں۔ عمران خان کی طرح ان کی بھی ایک عادت ہے کہ وہ اپنے آپ کو ہر چیز پر حاوی کرنا چاہتے ہیں اور ہمیشہ کوشش کرتے ہیں کہ اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھایئں۔
اگرنواز شریف کے پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد اور اعظم خان کا موازنہ کیا جائے تو فواد حسن بنیادی طور پر ایک منظم، ریکارڈ کو محفوظ رکھنے والے افسر تھے۔فواد حسن فواد کے مقابلے میں اعظم خان زبانی احکامات دینے والی شخصیت ہیں۔
دوسری طرف عمران خان کی بھی یہی عادت ہے کہ وہ زبانی احکامات دیتے ہیں، حالانکہ یہ چیز بعض اوقات افسران کے لیے مسئلے کھڑے کر دیتی ہے۔ جہانگیر ترین کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ انہوں نے اعظم خان پر الزام لگایا لیکن عمران خان نے کسی بھی فورم پر یہ قبول نہیں کیا کہ اعظم خان پر لگائے گئے الزامات جھوٹے ہے اور یہ سارے احکامات انہوں نے خود دیے تھے۔ تاہم ذرائع کے مطابق اعظم خان اب بہت ہی متنازعہ شخصیت بن چکے ہیں کیونکہ ان پر لگائے گئے الزامات کی کسی حکومتی عہدیدار نے تردید نہیں کی ہے اور ان کا معاملہ بالواسطہ سیاست دانوں کے خلاف جاتا ہے۔ ان الزامات پر اعظم خان نے بھی ابھی تک کچھ نہیں کہا تاہم اعظم کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے والے قریبی ذرائع نے بتایا ہے کہ وہ کچھ بھی عمران خان کے حکم کے بغیر نہیں کرتے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ جب عمران خان پر مشکل وقت آیا تو وہ اپنے سابقہ دوستوں کو رام کرنے کی خاطر اعظم خان کو انہی الزامات پر فارغ تو نہیں کر دیں گے؟
