وزیراعظم سہروردی کی مزار قائد میں تدفین کیوں نہ ہو سکی؟

بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے قریبی ساتھی اور ملک کے پانچویں وزیراعظم حسین شہید سہروردی اپنے سیاسی سفر میں پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان اور پھر صدر سکندر مرزا کے سیاسی بغض و عناد کا شکار رہے۔ تاہم مشرقی پاکستان سے تعلق رکھنے اور بنگالی ہونے کی وجہ سے موت کے بعد انہیں لیاقت علی خان کی طرح مزار قائد کے احاطے میں دفن کرنے کی اجازت نہ مل سکی اور مجبورا انہیں دسمبر 1963 میں انتقال کے بعد ڈھاکہ میں سپرد خاک کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ متحدہ پاکستان کے پانچویں وزیر اعظم حسین شہید سہروردی کو آج بھی مسخ شدہ تاریخ لکھنے والے غدار قرار دیتے ہیں جبکہ بنگلہ دیشی عوام انہیں اپنا ہیرو مانتے ہیں۔
یاد رہے کہ سہروردی کا انتقال 5 دسمبر 1963 کو جلا وطنی کے دوران بیروت کے ایک ہوٹل میں پراسرار حالت میں ہوا۔ ان کی موت کے حوالے سے کئی افواہیں زیرِ گردش رہیں، جبکہ سرکاری مؤقف یہی رہا کہ دل کے دورے کے باعث ان کی جان گئی ہے۔ پاکستانی سیاست کے لاتعداد رازوں کی طرح ان کی موت کا قصہ بھی متنازع اورایک راز ہے کیونکہ حکومت پاکستان نے ان کی پراسرار ہلاکت کی تحقیقات کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔
حسین شہید سہروردی کی نواسی اور سابق وفاقی وزیر قانون بیرسٹر شاہدہ جمیل کا مؤقف ہے کہ انکے اہل خانہ حسین شہید سہروردی کو مزار قائد میں سپرد خاک کرنا چاہتے تھے لیکن انکے جسد خاکی کی مغربی پاکستان میں کہیں بھی تدفین سے منع کر دیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ تب پاکستان میں فیلڈ مارشل جنرل محمد ایوب خان برسر اقتدار تھا۔ شاہدہ جمیل نے بتایا کہ یہ وہ خون آشام دور تھا جب ملک علیحدگی کی طرف جا رہا تھا اور حکمران کسی بنگالی کی قبر مغربی پاکستان بالخصوص مزار قائد کے احاطے میں بننے کے حق میں نہیں تھے، لہذا ہم نے مجبورا بنگال یعنی مشرقی پاکستان جا کر ان کی تدفین میں شرکت کی۔ پاکستان پر مسلط ناعاقبت اندیش فوجی ٹولے کی اس حرکت کا نتیجہ بنگلہ دیش کی صورت میں نکلا کیونکہ بنگال والے جان گئے تھے کہ اگر ملک کے سابق وزیر اعظم کو محض بنگالی ہونے کی وجہ سے مغربی پاکستان میں قبر کے لیے دو گز زمین بھی نہ مل سکی تو یہ ملک کس طرح متحد رہ سکتا ہے۔ برجیس ناگی اپنی کتاب The Land of The Betrayed میں ایک جگہ لکھتے ہیں، کہ مسلم لیگ میں قائد اعظم محمد علی جناح کے بعد اگر واقعتاً کوئی لیڈر بننے کی صلاحیت رکھتا تھا تو وہ حسین شہید سہروردی تھے۔ سہروردی ان چند پاکستانی سیاستدانوں میں سے ایک تھے جنہوں نے جمہوریت اور انسانی حقوق کے لئے اپنی آواز ہر سطح پر بلند کی۔ کہتے ہیں کہ قائد اعظم نے پاکستان کے وزیر اعظم کے طور پر جن ناموں پر غور کیا تھا، وہ لیاقت علی خاں کے علاوہ حسین شہید سہروردی کا نام تھا جن کو بنگال کی وزارت اعلیٰ کا کافی تجربہ تھا مگر وہ اس وقت بنگال کے فسادات رکوانے کی غرض سے کلکتہ میں تھے اس لیے ان کے نام کو ڈراپ کیا گیا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ لیاقت علی خان، حسین شہید سہروردی کو اپنا ایک طاقتور حریف سمجھتے تھے اس لیے ان کی وزارت عظمیٰ کے دور میں حسین شہید سہروردی کے خلاف کئی اقدام اٹھائے گئے۔ پاکستان میں آئین ساز اسمبلی کی نشست اس بنیاد پر خالی کر دی گئی کہ جو شخص تقسیمِ ہند کے بعد 6 ماہ کے اندر اندر پاکستان کے کسی علاقے میں رہائش اختیار نہیں کر پاتا، وہ اپنی نشست پر برقرار نہیں رہ سکتا۔
حسین شہید سہروردی کی نواسی بیرسٹر شاہدہ جمیل بتاتی ہیں کہ 1947 میں تقسیم ہند کے وقت فسادات پر قابو پانے کے لیے موہن داس گاندھی نے حسین شہید سہروردی کو بلوایا، وہ قائد کی اجازت سے 13 اگست کو ہندوستان پہنچے اور پھر کافی دن وہاں رکے۔ پاکستان آنے پر نانا کو صوبہ بدر کیا گیا، وجہ یہ تھی کہ لیاقت علی خان نے ان کی واپسی کو اچھا نہیں سمجھا۔ کہا جاتا ہے کہ حسین سہروردی اور لیاقت علی کے تنازع کا سبب سہروردی کا 11 اگست کی تقریر کاحامی ہونا اور لیاقت علی کا حلقۂ انتخاب یہاں نہ ہونا تھا۔ سہروردی قائد اعظم کی 11 اگست 1947ء کی تقریر کو درست سمجھتے اور قرارداد مقاصد پر تحفظات رکھتے تھے، وہ کہتے کہ یہاں سب مسلمان ہیں تو پھر اسلامائزیشن کی ضرورت نہیں۔ دوسری جانب لیاقت علی خان پر بنگالیوں کا اکثریت میں ہونا بھی دباؤ رکھتا تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ کسی کے رحم وکرم پر نہ رہیں اور کراچی میں اپنا حلقہ انتخاب مضبوط کریں، اس لیے انہوں نے کراچی میں مہاجر کا نعرہ شروع کیا۔ یہی نہیں بلکہ وزیرِ اعظم لیاقت علی خان نے ریڈیو پاکستان پر سہروردی کو غدار اور کتا کہا۔ اور افسوس ناک بات یہ ہے کہ یہ گھٹیا الفاظ نشر بھی ہوئے۔
واضح رہے کہ پاکستان بننے کے چند برس بعد حسین شہید سہروردی کے مسلم لیگ قیادت کے ساتھ اختلافات بڑھتے گئے اور بالآخر انہوں نے 1950 میں اپنی سیاسی جماعت عوامی لیگ قائم کر لی تھی۔ بعد ازاں حالات نے کچھ ایسا پلٹا کھایا کہ قائد اعظم کے پسندیدہ افراد میں شمار ہونے والے بنگالی سیاستدان اور قانون دان حُسین شہید سہروردی وزیراعظم بن گئے۔ گو کہ اُس وقت کے صدرِ پاکستان سکندر مرزا ان کے سخت خلاف تھے لیکن چونکہ سیاست میں کوئی بات حتمی نہیں ہوتی، اس لیے صدر کو یہ کڑوی گولی نگلنا پڑی۔ وزیر اعظم محمد علی کی جگہ اقتدار میں آنے والے حسین شہید سہروردی 12 ستمبر 1956 سے 17 اکتوبر 1957 تک ایک برس پاکستان کے وزیراعظم رہے۔ پاک چین تعلقات کے معمار بھی حسین شہید سہروردی ہی قرار دیئے جاتے ہیں۔ انہوں مغربی بلاک کے دباؤ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے 1956 میں چین کا دورہ کیا اور پاکستان کے پہلے وزیر اعظم قرار پائے جس نے کمیونسٹ چین کے ساتھ تعلقات قائم کیے۔ 13 ماہ بعد انہوں نے انتخابات نہ کرانے پر استعفا دے دیا اور ان کی جگہ آئی آئی چندریگر کو وزیراعظم بنا دیا گیا۔
حسین شہید سہروردی علاج کی غرض سے ملک سے باہر گئے، انہیں جنوری 1964 میں وطن واپس لوٹنا تھا لیکن پانچ دسمبر 1963ء کو وہ لبنان کے دارالحکومت بیروت کے ہوٹل میں مردہ پائے گئے۔ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ انہیں قتل کیا گیا کیونکہ ان کے کمرے میں شدید قسم کی گیس پائے جانے کا بتایا گیا تھا۔پاکستانی سفارت خانے نے ان کی میت کو محفوظ کرنے کی غرض سے کیمیکل لگا دیا، جس کے بعد وجۂ موت تک پہنچنا ناممکن ہو گیا۔ بعد ازاں جب ان کی میت کو مزار قائد میں سپرد خاک کرنے کی خواہش کا اظہار کیا گیا تو حکومت پاکستان نے ایسا کرنے سے معذرت کر لی۔ چنانچہ مجبورا ان کی ڈیڈ باڈی کو ڈھاکا لے جا کر دفن کیا گیا۔ یاد رہے کہ یہ 1963 کی بات ہے اور پاکستان 1971 میں ٹوٹا۔
