وزیراعظم سیکریٹریٹ کے سامنےخودسوزی، جوڈیشل انکوائری کا حکم

وفاقی دارالحکومت میں وزیراعظم ہاؤس کے سامنے شاہراہ دستور پر مری پولیس سے انصاف نہ ملنے پر خود کو آگ لگانے والا شخص دم توڑ گیا۔
پولیس کے مطابق فیصل عزیز نامی شخص نے نماز جمعہ سے کچھ دیر قبل وزیراعظم سیکریٹریٹ کے سامنے خود کو آگ لگالی جس سے وہ بری طرح جھلس گیا، موقع پر موجود پولیس اہلکاروں اور راہگیروں نے آگ بجھائی اور شدید زخمی حالت میں پمز کے برن یونٹ منتقل کیا جہاں کچھ دیر زیر علاج رہنے کے بعد فیصل دم توڑ گیا۔پولیس کے مطابق فیصل عزیز نے مری تھانہ بیول شریف میں ایک بااثر سیاسی شخص جواد عباسی کے خلاف آر پی او راولپنڈی کو درخواست دی تھی تاہم پولیس نے کوئی ایکشن نہ لیا بلکہ الٹا جواد عباسی نے اسے مبینہ قتل کی دھمکیاں دیں جس پر مری پولیس سے انصاف نہ ملنے پر احتجاجاً وزیراعظم سیکریٹریٹ کے سامنے خود کو آگ لگائی۔
اسلام آباد میں وزیراعظم سیکریٹریٹ کے سامنے 45 سالہ شخص کی جانب سے خودسوزی کرنے کے معاملے پر جوڈیشل انکوائری کا حکم دے دیا گیا۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں شاہراہ دستور پر ایک شخص نے خودسوزی کی تھی۔
ابتدائی طور پر ذرائع نے بتایا تھا کہ فیصل نامی شخص مری کا رہائشی تھا اور وہ وزیراعظم سیکریٹریٹ جانا چاہتا تھا کیونکہ اس نے وہاں اپنے مخالف کے خلاف کارروائی کی درخواست دے رکھی تھی، جس نے اس کے خلاف مقدمہ درج کروایا تھا۔
بعد ازاں ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق مری کے رہائشی فیصل نامی شخص نے وزیراعظم سیکریٹریٹ کے گیٹ نمبر 2 کے سامنے خود کو آگ لگائی۔ پولیس نے خودسوزی کرنے والے شخص کو پمزہسپتال منتقل کیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ متوفی کے تمام معاملات راولپنڈی اور مری پولیس کے متعلقہ تھے۔
91338659 1538302736326200 618423390239195136 o e1585922536343
دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے خودسوزی کے اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے چیف کمشنر کو فوری جوڈیشل انکوائری کا حکم دے دیا ہے.اس بارے میں چیف کمشنر اسلام آباد عامر علی احمد کا کہنا تھا کہ جوڈیشل انکوائری کے احکامات جاری کردیے گئے ہیں، اس انکوائری کی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کی جائے گی۔بعد ازاں چیف کمشنر دفتر کی جانب سے جوڈیشل انکوائری کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا جس میں ڈپٹی مجسٹریٹ اسلام آباد کیپیٹل ٹیرٹری حمزہ شفقات کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ مذکورہ معاملے کی مکمل تحقیقات کریں۔اس حوالے سے انہیں ہدایت دی گئیں کہ مذکورہ معاملے کی تحقیقات کے بعد 48 گھنٹوں کے اندر رپورٹ پیش کی جائے۔
ادھر ترجمان پولیس کے مطابق ڈی آئی جی آپریشنز وقار الدین نے بھی معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس پی سٹی زون سرفراز احمد ورک کو 24 گھنٹوں میں تمام معاملات کی تحقیقات کرکے حقائق پر مبنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی۔
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات نے مذکورہ معاملے پر کہا کہ فیصل مری کا رہائشی تھا اور ان کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں تھا جبکہ وہ نشے کا بھی عادی تھا۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ متوفی کے بھائی سے ہماری بات ہوئی ہے جبکہ فیصل پر 7 سال قبل بھی ایک مقدمہ درج ہوا تھا، جس کی وجہ سے اس کا کوئی مستقل ٹھکانہ نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ مذکورہ فرد کو کچھ طبی مسائل کا سامنا بھی تھا اور وہ پولی کلینک بھی آیا کرتا تھا۔خودسوزی کرنے والے شخص کے بارے میں مزید بتاتے ہوئے حمزہ شفقات کا کہنا تھا کہ اس شخص نے کہا کہ مجھے پنڈی پولیس پر اعتبار نہیں ہے اس لیے وہ یہ قدم اٹھا رہا ہے۔
تاہم انہوں نے یہ واضح کیا کہ راولپنڈی پولیس کے مطابق خودسوزی کرنے والا شخص ایک بچی سے زیادتی کا ملزم تھا اور اس پر 19 ستمبر کو ایف آئی آر بھی درج کی گئی تھی جبکہ 2 دسمبر کو اسے مفرور قرار دیا گیا تھا۔انہوں نے مزید بتایا کہ مذکورہ فرد کی خودسوزی کے بعد میں خود بھی برنس سینٹر پہنچا جہاں وہ جانبر نہ ہوسکا۔ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے کی جوڈیشل انکوائری کر رہے ہیں تاہم یہ واضح ہے کہ اس فرد کا اسلام آباد پولیس یا کورونا وائرس سے کوئی تعلق نہیں۔
علاوہ ازیں راولپنڈی پولیس نے شاہراہ دستور پر فیصل نامی شخص کی خودسوزی کے معاملے پر اپنا بیان جاری کردیا۔
ترجمان پولیس کے مطابق متوفی فیصل کے خلاف تھانہ مری میں زیادتی کی کوشش کا مقدمہ درج تھا اور متوفی نے 9 سالہ بچی سے زیادتی کی کوشش کی تھی۔ترجمان نے بتایا کہ فیصل عباسی کے خلاف تھانہ مری میں ستمبر میں مقدمہ نمبر 19/390 درج کیا گیا تھا جبکہ دسمبر 2019 میں انہیں اشتہاری قرار دیا گیا تھا۔اس موقع پر ترجمان نے واضح کیا کہ خودسوزی کرنے والے کے خلاف تھاہ پیرودہائی میں کوئی مقدمہ درج نہیں تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button