وزیراعظم عمران خان کسی کو این آر او نہیں دیں گے

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینٹر شبلی فراز نے اسلام آباد میں اپوزیشن کی اے پی سی کے حوالے سے کہا کہ وزیراعظم عمران خان اپنے وعدوں سے پسپائی اختیار نہیں کریں گے اور کسی کو بھی این آر او نہیں ملے گا۔
سینیٹر شبلی فراز نے ٹوئٹ میں کہا کہ اے پی سی دراصل حکومت کو احتساب کے عمل سے پیچھے ہٹانے کے لیے اقدام ہے۔انہوں نے کہا کہ قوم دیکھ چکی ہے کہ اپوزیشن نے ذاتی مفاد کے لیے سیاست اور پارلیمنٹ کا استعمال کرتے ہوئے اپنی جائیدادیں بنائیں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان اپنے وعدوں کی تکمیل سے پیچھے نہیں ہٹیں گےاور کسی کو بھی این آر او نہیں دیں گے۔شبلی فراز کا کہنا ہے کہ قوم جانتی ہے کہ اپوزیشن سیاست کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرتی ہے، وزیراعظم عمران خان کرپشن کے خلاف اپنے پختہ عزم پر سمجھوتا نہیں کریں گے۔وفاقی وزیر اطلاعات مزید کا کہنا ہے کہ اپوزیشن نے پارلیمان کو ذاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے ڈھال بنایا ہوا ہے۔


اس سے قبل وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی روابط شہباز گِل نے آج اسلام آباد میں اپوزیشن جماعتوں کی کثیر الجماعتی کانفرنس کو ‘آل پاکستان لوٹ مار ایسوسی ایشن’ قرار دے دیا تھا۔لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ آج پھر پیپلز پارٹی کے زیر قیادت ‘آل پاکستان لوٹ مار ایسوسی ایشن’ اکٹھی ہورہی ہے۔انہوں نے بھی کہا تھا کہ کثیر الجماعتی کانفرنس کا مقصد صرف این آر او ہے اپوزیشن جماعتیں مل کر این ار او مانگ رہی ہیں۔
خیال رہے کہ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے حکومت مخالف حکمت عملی مرتب کرنے کے لیے کثیر الجماعتی کانفرنس سے سابق صدر آصف علی زرداری ابتدائیہ خطاب کیا جبکہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے بھی بذریعہ ویڈیو لنک خطاب کیا۔نواز شریف نے کہا تھا کہ ‘اگر ہم آج فیصلے نہیں کریں گے تو کب کریں گے، میں مولانا فضل الرحمٰن کی سوچ سے پوری طرح متفق ہوں کہ ہمیں رسمی اور روایتی طریقوں سے ہٹ کر اس کانفرنس کو بامقصد بنانا ہوگا ورنہ قوم کو بہت مایوسی ہوگی’۔نواز شریف کا کہنا تھا کہ ابھی آصف زرداری نے جو ٹرینڈ سیٹ کیا ہے اسی کو آگے لیکر چلنا ہے، آپ سب جانتے ہیں 73 برس سے پاکستان کو کن مسائل کا سامنا ہے اور اس کی وجہ صرف ایک ہے۔
علاوہ ازیں پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا تھا کہ ‘میری نظر میں یہ اے پی سی بہت پہلے ہونی چاہیے تھی، مولانا نے اگر مجھے جیلوں میں نہ بھیجا ہوتا تو شاید میں پہلے آجاتا، مولانا کا کام ہی یہی ہے کہ کسی کو آسرا دے کر کہنا کہ چل میں آرہا’۔
آصف زرداری کا کہنا تھا کہ اے پی سی کے خلاف حکومت جو ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے وہی آپ کی کامیابی ہے، یہ کیا ہے کہ نواز شریف کو براہ راست نہیں دکھا سکتے لیکن جنرل (ر) پرویز مشرف کو دکھا سکتے ہیں، میرا انٹرویو پارلیمنٹ سے بند کیا جاسکتا ہے لیکن وہ آمر جو بھاگا ہوا ہے اس کا انٹرویو دکھانا ان کے لیے ناپاک نہیں ہے۔
علاوہ ازیں بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ ‘یہ جو قوتیں اور اسٹیبشلمنٹ ہیں جنہوں نے عوام سے جمہوریت چھینی ہے، کٹھ پتلی نظام مسلط کیا ہے انہیں سمجھنا پڑے گا’۔انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں ان کے سامنے عوام کا مطالبہ پیش کرنے پڑے گا، ‘ہمیں ان کے سامنے مطالبہ پیش کرنا پڑے گا کہ ہمیں، اس ملک کو اور اس ملک کے عوام کو آزادی دیں’۔علاوہ ازیں بلاول بھٹو زرداری جو اس کانفرنس کے میزبان بھی ہیں انہوں نے خطاب میں کہا کہ جب جمہوریت نہیں ہوتی تو معاشرے کو ہر طرف سے کمزور کیا جاتا ہے اور ہماری کوشش تھی کہ بجٹ سے پہلے اے پی سی کروائیں۔کثیرالجماعتی کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے کہا دو سال میں ہمارے معاشرے اور معیشت کو بہت نقصان پہنچا اور جرائم میں اضافہ ہوا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button