وزیراعظم کو اپنے بااختیار ہونے کی خوش فہمی کیوں ہو گئی؟


اسلام آباد میں عسکری اور حکومتی قیادت کے مابین اختلافات کی افواہوں پر تبصرہ کرتے ہوئے معروف لکھاری اور تجزیہ کار وسعت اللہ خان نے کہا ہے کہ پچھلے دروازے سے لاکر مسند اقتدار پر بٹھایا جانے والا وزیراعظم نہ جانے کیوں بھول جاتا ہے کہ کاغذوں میں بھلے وزارت عظمی ایک بااختیار آئینی عہدہ ہو مگر پاکستان میں عملاً چیف ایگزیکٹو آفیسر کی آسامی نمائشی ہوتی ہے۔

بی بی سی کے لئے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ ایک دن کسی کمزور لمحے میں اس نمائشی وزیر اعظم کو واقعی یقین ہو جاتا ہے کہ ’جدھر دیکھتا ہوں ادھر تو ہی تو ہے‘۔ اور پھر یہ اعتماد اس سے ایسے ایسے فیصلے کروا دیتا ہے جن کی تمنا اس کے پیش روؤں کو بھی دھول چٹوا چکی ہے۔ اور پھر وہ ان اصلاحات و اختیارات پر ہاتھ مار دیتا ہے کہ جن کی طرف اسے نگاہ اٹھا کر بھی نہیں دیکھنا چاہیے۔ وسعت کہتے ہیں کہ اسی لیے آدھے وزرائے اعظم کو تو اقتدار کے ڈھائی برس دیکھنے بھی نصیب نہ ہوئے۔ گنتی کے دو تین کو بمشکل چار سال میسر آئے۔ پانچویں برس کو مکمل طور پر کوئی نہ دیکھ پایا۔ حالانکہ ان میں سے ایک وزیر اعظم کو دو اور دوسرے کو تین چانس بھی ملے۔ پر ڈھاک کے وہی تین پات ہی رہے۔

لیکن وسعت اللہ کہتے ہیں کہ اس میں قصور وزرائے اعظم کا ہی ہے۔ پہلے برس انھیں یقین ہی نہیں آتا کہ وہ چیف ایگزیکٹو کی کرسی پر بیٹھے ہیں، اپوزیشن بنچوں پر نہیں۔دوسرے برس انھیں اپنی وزارتِ عظمی پر ہلکا ہلکا اعتبار آنے لگتا ہے۔ اس اعتبار کے سہارے وہ تیسرے برس ایسے بے ضرر فیصلے اور احکامات جاری کرنے لگتے ہیں کہ جن سے کسی طاقتور کے پر نہ پھڑپھڑانے لگیں۔ چوتھے برس تک ان کے اردگرد کا حلقہِ گرگانِ باران دیدہ یقین دلا چکا ہوتا ہے کہ حضور کسی کے احسان کے سبب اس منصبِ جلیلہ پر فائز نہیں ہوئے بلکہ اپنی قابلیت اور عوامی مقبولیت کے بل پر اس کرسی پر رونق افروز ہیں۔ اور ایک دن کسی کمزور لمحے میں اس مظلوم کو واقعی یقین ہو جاتا ہے کہ وہ ایک بااختیار چیف ایگزیکٹو ہے، اور پھر یہ اعتماد اس سے وہ فیصلے بھی کروا دیتا ہے جن کی پاداش میں اس سے پہلے کئی وزراء اعظم پائے ہوئے۔

وہ بیچارا اس خوش فہمی کا شکار ہو جاتا ہے کہ جس کرسی پر اسے بٹھایا گیا ہے وہ کاغذ پر بھلے بااختیار آئینی عہدہ ہو مگر عملاً وہ ایک نمائشی سی ای او کی آسامی ہے۔ ایسا سی ای او جو قابلیت و ذہانت و روشن دماغی کی سائنس لڑانے کے بجائے مروت، لچکداری اور پروٹوکولی شان و شوکت پر صابر و شاکر رہنے پر قانع ہو۔
نیز وہ اپنے نام پر کہیں اور لیے گئے فیصلوں پر نہ صرف بلا حجت دستخط کر سکتا ہو بلکہ ان فیصلوں کو دنیا کے سامنے اپنا بنا کر پیش کرنے اور ان کا دفاع کرنے کی بھی اہلیت رکھتا ہو، گویا ایسا سی ای او جو بجے بھی اور بے آواز بھی ہو۔ وسعت اللہ کہتے ہیں کہ اگر اب بھی سمجھ میں نہیں آ رہا تو پھر وزارتِ عظمی کے تمام ممکنہ خواہش مندوں کو اس منصب سے جڑی ذمہ داریاں ازبر کرنے کے لیے افتخار عارف کو ضرور پڑھنا چاہیے۔ افتخار نے کیا خوب کہا ہے کہ

وہ میرے نام کی نسبت سے معتبر ٹھہرے

گلی گلی میری رسوائیوں کا ساتھی ہو

کرے کلام جو مجھ سے تو میرے لہجے میں

میں چپ رہوں تو میرے تیوروں کا ساتھی ہو

وہ خواب دیکھے تو دیکھے میرے حوالے سے

میرے خیال کے سب منظروں کا ساتھی ہو

وسعت کہتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی اور روبوٹ سازی اب اس نہج پر تو پہنچ چکی ہے کہ چین میں ایک نیوز چینل نے دو خوبرو اور سمارٹ و خوش لباس روبوٹک ٹی وی نیوز کاسٹر متعارف کروا دیے جو ہو بہو انسانی لب و لہجے میں خبریں سنا سکتے ہیں۔

اُمید ہے کہ جلد ہی ہر عہدے کے لیے موزوں روبوٹس کی پیداوار اب محض چند برس کے فاصلے پر ہے۔ اس کے بعد آئینی اختیار و دائرہ کار کا بحثی ٹنٹنا بھی ختم ہو جائے گا۔ وسعت کہتے ہیں کہ ایسے میں فرض کریں اگر کسی نے بطور وزیرِ اعظم کام کرنے والے روبوٹ کی پروگرامنگ بدل دی اور اس نے بھی انسانوں کی طرح ناپسندیدہ فیصلے کرنے شروع کر دیے تو کیا ہو گا؟ یا کسی ہیکر نے آئینی روبوٹ کی پروگرامنگ ہی کرپٹ کر دی تو کیا ہو گا؟ کیا اس کے خلاف بھی کرپشن ریفرنس فائل ہوگا یا اس روبوٹ کو ورکشاپ میں بھیج کے مناسب مرمت کی جائے گی؟ یا پھر وہ بھی سکریپ کر دیا جائے گا؟

Back to top button