وزیراعظم کی ایک بار پھر مکمل لاک ڈاؤن کی بھرپور مخالفت

وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر مکمل لاک ڈاؤن کی بھر پور مخافت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اشرافیہ نے لاک ڈاؤن کا فیصلہ خود کو وائرس سے محفوظ رکھنے کیلئے کیا غریب آدمی کی سوچا ہی نہیں لیکن کرونا امیر اور غریب میں فرق نہیں کرتا، اگر کورونا غریبوں کی بستی میں جائے گا تو امیروں تک بھی پہنچ جائے گا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ وزارت سائنس وٹیکنالوجی میں پوٹینشل ہے، کورونا نے سکھایا کہ اپنے پاؤں پرکھڑا ہونا ہے، برآمدات کی بجائے اشیاء کو ملک میں بنانا ہے. انھوں نے مزید کہا کہ کرونا کے بعد وینٹی لیٹر بنانے کا سوچنا شروع کیا، ماضی میں تعلیم اور ریسرچ پر پیسہ خرچ نہیں کیا گیا، قوم کو ایک ویژن دیں گے جو پورے ملک کے لیے ہوگا۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے ہم اپنا راستہ کھو بیٹھے ہیں، خود اعتمادی نہ ہونے کی وجہ سے ہم پیچھے رہ گئے، ذہنی غلام آزادی کے بعد بھی غلام ہی رہتا ہے. ان کا کہنا تھا کہ وہ انسان آگے بڑھ سکتا ہے جس میں خوداعتمادی ہو، خود اعتمادی لوگوں کومشکلات سے نبردآزما ہونے کے قابل بناتی ہے، خود اعتمادی اور منصوبہ بندی سے ملک ترقی کرے گا۔
وزیراعظم نے ایک بار پھر مکمل لاک ڈاؤن کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ حکمران اشرافیہ نے فیصلہ کیا کہ ملک میں لاک ڈاؤن کرنا ہے، لاک ڈاؤن کا فیصلہ امیروں نے کیا غریب آدمی کی سوچا ہی نہیں لیکن کورونا امیر اور غریب میں فرق نہیں کرتا، اگر کورونا غریبوں کی بستی میں جائے گا تو امیروں تک بھی پہنچ جائے گا۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ ماضی میں ٹیکس کی رقم سے صاحب اقتدار کا علاج ہوتا تھا، آج صاحب اقتدار بھی علاج کے لیے باہر نہیں جاسکتے، ہمیں ملک میں اسپتال کے نظام کو بہتر کرنا ہے، جب تک وزراء سرکاری اسپتال میں علاج نہیں کرائیں گے نظام ٹھیک نہیں ہوگا۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جو ملک جوہری ہتھیار بناسکتا ہے اس کے لیے وینٹی لیٹر بنانا کتنا مشکل ہے؟
اسلام آباد میں کامسٹیک ہیڈکوارٹرز میں وزیراعظم نے کہا کہ خود اعتمادی لوگوں کومشکلات سےنبردآزما ہونے کے قابل بناتی ہے، جب قوم خود پر اعتماد کرنا شروع کردے تو آگے بڑھتی ہے۔اپنی بات جاری رکھتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ قوم جیسے جیسے آگے بڑھتی ہے اس کے اندر اعتماد بڑھتا جاتا ہے اور وہ ایک ایسے اسٹیج پرپہنچ جاتی ہے کہ سمجھتی ہے کہ ہمارے سامنے جو بھی مشکل آئے ہم اس کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ ایک قوم جب اس مائنڈ سیٹ پر پہنچ جاتی ہے تو وہ کچھ بھی کرسکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے جو دنیا پر حاوی ہوگیا، اس کے پاس کیا خصوصیات تھیں کہ وہ دنیا کو فتح کرلے۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی حالات میں وسائل نہیں بلکہ حالات نتائج کا تعین کرتے ہیں، وزارت سائنس و ٹیکنالوجی میں صلاحیت ہے۔وزیراعظم عمران خان نےکہا کہ کورونا وائرس سے ایک یہ بات سامنے آئی ہے کہ جب دنیا میں وینٹی لیٹرز کی قلت ہے تو آپ کیسے درآمد کیسے کرسکتے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ دنیا میں وینٹی لیٹرز کی قلت سے ہمیں معلوم ہوا کہ وینٹی لیٹرز بنانا اتنا مشکل نہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ ملک جو جوہری ہتھیار بناسکتا ہے اس کے لیے وینٹی لیٹر بنانا کتنا مشکل ہے؟ یہ سینیٹائزر، ڈس انفیکٹنٹس، آلات ہم 22 کروڑ عوام کے لیے یہ سب کچھ کیسے درآمد کرسکتے ہیں۔
اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے نالج اکنامی میں کوئی ترقی نہیں کی ہم نے تعلیم پر پیسہ خرچ نہیں کیا تھا کہ ہمیں اعتماد نہیں تھا کہ ہم خود بھی کوئی چیز بناسکتے ہیں،جب ہمیں مجبوری ہوئی تو ہم نے خود بنانے کی کوشش کی۔وزیراعظم نے کہا کہ کورونا سے دوسری بات یہ سامنے آئی کہ کوئی چاہے بھی تو باہر علاج کروانے نہیں جاسکتا، ہمیں اپنا میڈیکل انفراسٹرکچر ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس امیر اور غریب میں کوئی فرق نہیں کرتا، حکمراں اشرافیہ نے لاک ڈاؤن کا فیصلہ کرلیا لیکن یہ نہیں سوچا کہ غریب مزدور کا کیا ہوگا۔اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کورونا نے سکھایا کہ ہمیں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا ہے۔
وزیراعظم سے قبل تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے کہا کہ پاکستان اب سینیٹائزرز اور ڈس انفیکٹنٹس برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہے۔کامسٹیک میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ ڈیڑھ ماہ قبل پاکستان کو سینیٹائزز اور ڈس انفیکٹنٹس کی قلت کا سامنا تھا اور آج ہم نہ صرف خود سینیٹائزر بنارہے ہیں بلکہ اسکی برآمد کی صلاحیت رکھتے ہیں۔فواد چوہدری نے کہا کہ ہم وزارت کامرس کی جانب سے سینیٹائزر کی برآمد پر عائد پابندی ہٹائے جانے کے منتظر ہیں۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں کورونا ٹیسٹنگ کٹس ہفتوں میں بنا دی گئیں اور اس پر ہم نے بھی کام شروع کردیا۔وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے فرنٹ لائن ورکرز کے لیے حفاظتی طبی آلات کی تیاری میں نجی شعبے کے کردار کی تعریف بھی کی۔انہوں نے کہا کہ چند ہفتے قبل ہمیں پروٹیکٹو ایکوئپمنٹ کی قلت کا سامنا تھا اب پورا فیصل آباد ڈاکٹرز اور فرنٹ لائن ورکرز کے لیے حفاظتی لباس تیار کررہا ہے۔فواد چوہدری نے کہا کہ اب یہ غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ہمیں ان میں سے کس چیز کی ضرورت ہے اور دیگر کو برآمد کرنا چاہیے۔وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ اب فیکٹریاں یہ حفاظتی لباس تیار کررہی ہیں، ان کی وافر مقدار موجود ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اب اپنا این-95 ماسک بھی تیار کررہا ہے، ان ماسک کو درآمد کیا جائے تو ایک ہزار 100 روہے لاگت آتی ہے، جبکہ جو تیار کیے جارہے ہیں ان کی لاگت 90 روپے ہے یہ بہت بڑا فرق ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button