وزیراعظم کی ہدایت نظر انداز،نجیب ہارون اپنے استعفی پر قائم

پاکستان تحریک انصاف کے مستعفی ہونے والے ایم این اے نجیب ہارون کو منانے کی تمام کوششیں ناکام ہوگئی ہیں اور مستعفی رکن اسمبلی اپنے استعفے پر بدستور قائم ہیں۔
وزیراعظم عمران خان نے پارٹی رہنماؤں کو مستعفی رکن اسمبلی نجیب ہارون کو ہر قیمت پر منانے کی ہدایت کی ہے۔ جس کے بعد صدرڈاکٹرعارف علوی، گورنر سندھ عمران اسماعیل سمیت اہم شخصیات نے نجیب ہارون سے رابطے کیے ہیں۔تاہم ان کی یہ تمام کوششیں ناکام جارہی ہیں کیونکہ نجیب ہارون اپنی ضد پر قائم ہیں اور انہوں نے استعفے واپس لینے سے ساف انکار کر دیا ہے. پی ٹی آئی کراچی کے سینئر رہنما کے استعفی دینے پر دیگر ناراض اراکین بھی حیران ہیں کیونکہ مستعفی رکن قومی اسمبلی نجیب ہارون عمران خان کے دیرینہ دوستوں میں سے ایک ہیں۔ استعفی کے بعد پی ٹی آئی کے مقامی عہدیدار نجیب ہارون کے گھر کے باہر دھرنا بھی دے رہے ہیں اور ان سے استعفیٰ واپس لینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
تاہم کورونا کے باعث نجیب ہارون گھر سے باہر نہیں نکلے اور انھوں نے گھر کے باہر آنے والے رہنماؤں سے معذرت کر لی۔نجیب ہارون کا کہنا ہے کہ حلقے،شہر اور ملک کے لیے کچھ نہ کر سکا اس لیے مستعفی ہوا ہوں۔
Untitled
خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی رکن اور حلقہ 256 سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہونے والے محمد نجیب ہارون نے اپنی نشست سے استعفیٰ دے دیا ہے۔سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنا استعفیٰ شیئر کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ میں نے ’بوجھل دل کے ساتھ قومی اسمبلی سے اپنا استعفیٰ وزیراعظم عمران خان کو بھجوادیا۔ استعفے کی وجوہات میں انہوں نے بتایا کہ وہ 20 ماہ کی مدت کے دوران اپنے حلقے یا شہر کراچی کے لیے کچھ نہ کرسکے اس لیے وہ اس پوزیشن کے حقدار نہیں۔
استعفے میں نجیب ہارون نے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ رکن قومی اسمبلی کا حلف اٹھانے کے 20 ماہ اور پاکستان تحریک انصاف جو ہم نے مل کر بنائی تھی اس کے 24 سال بعد مجھے احساس ہوا کہ میں آپ کا اعتماد/بھروسہ حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے میں اپنے حلقے یا اپنے آبائی شہر کی بہتری کے لیے کچھ نہ کرسکا۔مستعفی ہونے کا فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کیا ہے.نجیب ہارون کا کہنا تھا کہ میں نے قومی خزانے سے ایک روپیہ نہیں لیا لیکن میرا ضمیر یہ کہتا ہے کہ میں اس پوزیشن پر رہنے کا حق دار نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کے بانی رکن اور قومی اسمبلی تک پہنچنے والے فاؤنڈنگ سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے واحد رکن کی حیثیت سے میں آپ پر زور دیتا ہوں کہ میں جب تک زندہ رہوں پارٹی رکنیت میرے پاس رہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button